کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان چیزوں کا بیان جن کے ساتھ عورت کا زیب و زینت کرنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14832
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، نا مُسَدَّدٌ، نا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”سرمہ بھرنے اور بھروانے والی پر، اور جو اپنے سر میں مصنوعی بال لگاتی ہے اور جو لگواتی ہے“ لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 14833
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا جَرِيرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَعَنَ اللهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ " فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ ⦗٥١٠⦘ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] قَالَتْ: فَإِنِّي رَأَيْتُ شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ، قَالَ: فَاذْهَبِي فَانْظُرِي فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ تُجَامِعْنَا لَفْظُ حَدِيثِ إِسْحَاقَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سرمہ بھرنے والیوں اور بھروانے والیوں، بھنوؤں اور رخسار کے بال اکھیڑنے والیوں اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کو باریک بنانے والیوں اور اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر اللہ کی لعنت ہے“ تو بنو اسد قبیلے کی ایک عورت کو یہ خبر ملی جس کو ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی تلاوت کرتی تھی۔ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے آپ کی طرف سے ایک حدیث پہنچی ہے کہ آپ سرمہ بھرنے والیوں اور بھروانے والیوں اور بھنوؤں کو اکھیڑنے والیوں اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کو باریک بنانے والیوں اور اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر لعنت کرتے ہیں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں کیوں نہ اس پر لعنت کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ کی کتاب میں لعنت کی گئی ہے۔ اس عورت نے کہا: میں نے دونوں تختیوں کے درمیان، یعنی پورے قرآن مجید کی تلاوت کی ہے مجھے اس میں وہ بات نہیں ملی جو آپ کہہ رہے ہیں تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرمائی: اگر تو نے قرآن مجید کی تلاوت کی ہوتی تو اس میں اس حکم کو پالیتی کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”جو رسول تمہیں دے دیں لے لو اور جس سے منع کر دیں رک جاؤ۔“ اس عورت نے جواب دیا کہ میں نے یہ اشیاء آپ کی عورت پر دیکھی ہیں تو کہنے لگے: جاؤ جا کر دیکھو تو اس نے جا کر دیکھا تو کچھ بھی نہ پایا۔ کہنے لگی: میں نے کچھ نہیں دیکھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر وہ ایسی ہوتی تو ہم کبھی اس سے جماع ہی نہ کرتے۔
حدیث نمبر: 14834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ " تَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ الَّتِي تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ، وَالْمُسْتَوْصِلَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالنَّامِصَةُ الَّتِي تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تُرِقَّهُ، وَالْمُتَنَمِّصَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالْوَاشِمَةُ الَّتِي تَجْعَلُ الْخِيلَانَ فِي وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا " قَالَ الْفَرَّاءُ: " النَّامِصَةُ الَّتِي تَنْتِفُ الشَّعْرَ مِنَ الْوَجْهِ وَمِنْهُ قِيلَ لِلْمِنْقَاشِ الْمِنْمَاصِ لِأَنَّهُ يُنْتَفُ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْوَاصِلَةُ» ”وہ عورت ہے جو عورتوں کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال ملاتی ہے“، «الْمُسْتَوْصِلَةُ» ”بال لگوانے والی“، «النَّامِصَةُ» ”پلکوں کو باریک کرنے والی“ اور «الْمُتَنَمِّصَةُ» ”پلکوں کے بال باریک کروانے والی“ ہے۔ «الْوَاشِمَةُ» ”ایسی عورت جو چہرے کے تل سرمہ یا سیاہی سے بھرے“ اور «الْمُسْتَوْشِمَةُ» ”تل بھروانے والی“ ہے۔
فریاد رحمہ اللہ کہتے ہیں: «النَّامِصَةُ» ”چہرہ سے بال اکھیڑنے والی ہے“ اور «الْمِنْمَاصُ» ”جس کے ذریعے وہ بال اکھیڑتی ہے“۔
فریاد رحمہ اللہ کہتے ہیں: «النَّامِصَةُ» ”چہرہ سے بال اکھیڑنے والی ہے“ اور «الْمِنْمَاصُ» ”جس کے ذریعے وہ بال اکھیڑتی ہے“۔
حدیث نمبر: 14835
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ " كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَغْرِزُ ظَهْرَ كَفِّهَا أَوْ مِعْصَمِهَا بِإِبْرَةٍ أَوْ مِسَلَّةٍ حَتَّى تُؤَثِّرَ فِيهِ ثُمَّ تَحْشُوهُ بِالْكُحْلِ أَوْ بِالنَّئُورِ فَيَخْضَرُّ يُقَالُ مِنْهُ وَشَمَتْ تَشِمُ وَشْمًا فَهِيَ وَشْمَةٌ وَالْأُخْرَى مَوْشُومَةٌ وَمُسْتَوْشِمَةٌ وَأَمَّا الْمُتَفَلِّجَاتُ فَهِيَ مِنْ تَفْلِيجِ الْأَسْنَانِ وَتَوْشِيرِهَا وَهُوَ أَنْ تُحَدِّدَهَا حَتَّى تَكُونَ فِي أَطْرَافِهَا رِقَّةٌ كَمَا تَكُونُ فِي أَسْنَانِ الْأَحْدَاثِ تَفْعَلُهُ الْمَرْأَةُ الْكَبِيرَةُ الْمُتَشَبِّهَةُ بِأُولَئِكَ " هَذَا مَعْنَى قَوْلِ أَبِي عُبَيْدَةَ وَأَبِي عُبَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اپنی ہتھیلی کے ظاہر یا کلائی میں سوئی سے زخم کر کے سرمے یا پاؤڈر سے بھر دے تو یہ سبز ہو جاتا ہے۔
«التَّفْلِيْجُ» دانتوں کو باریک کرنا، ان کو تیز کرنا تاکہ ان کی اطراف باریک ہو جائیں جیسے جوانی میں ہوتے ہیں۔ یہ بوڑھی عورت نوجوان لڑکیوں کی مشابہت کی غرض سے کرتی ہے۔ یہی ابوعبیدہ رحمہ اللہ اور ابوعبید رحمہ اللہ کے قول کا معنیٰ ہے۔
«التَّفْلِيْجُ» دانتوں کو باریک کرنا، ان کو تیز کرنا تاکہ ان کی اطراف باریک ہو جائیں جیسے جوانی میں ہوتے ہیں۔ یہ بوڑھی عورت نوجوان لڑکیوں کی مشابہت کی غرض سے کرتی ہے۔ یہی ابوعبیدہ رحمہ اللہ اور ابوعبید رحمہ اللہ کے قول کا معنیٰ ہے۔