حدیث نمبر: 14852
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرٌ مَوْلَى سَمُرَةَ أَنَّ امْرَأَةً نَشَزَتْ مِنْ زَوْجِهَا فِي إِمَارَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَمَرَ بِهَا إِلَى بَيْتٍ كَثِيرِ الزَّبَلِ فَمَكَثَتْ فِيهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَقَالَ لَهَا: كَيْفَ رَأَيْتِ قَالَتْ: مَا وَجَدْتُ الرَّاحَةَ إِلَّا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَخْلَعُهَا وَلَوْ مِنْ قُرْطِهَا ".
حافظ ثناء اللہ

ایوب سختیانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سمرہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے مجھے بیان کیا کہ ایک عورت نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اپنے خاوند کی نافرمانی کی تو خاوند نے بیوی کو بہت زیادہ گوبر والے گھر میں رہنے کا حکم دیا، وہ وہاں تین دن ٹھہری، پھر اسے نکالا گیا تو خاوند نے پوچھا: کیا حال ہے؟ تو کہنے لگی: ان ایام میں مجھے سکون ملا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اس سے خلع کر لے، اگرچہ ایک بالی کے عوض ہی کیوں نہ ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14852
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»