السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الوجه الذي تحل به الفدية باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14842
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، نا عَبْدُ الْأَعْلَى، نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ السَّلُولِ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَكِنِّي لَا أُطِيقُهُ بُغْضًا وَأَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا مَا سَاقَ إِلَيْهَا وَلَا يَزْدَادُ ⦗٥١٣⦘ كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ مَوْصُولًا وَأَرْسَلَهُ غَيْرُهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئیں، انہوں نے کہا: میرے ماں، باپ آپ پر قربان! میں ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے دین و اخلاق میں عیب نہیں لگاتی، لیکن میں بغض کی بھی طاقت نہیں رکھتی اور اسلام میں ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اسے اس کا باغ لوٹا دے گی؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے حکم دیا: ”جو مال دیا ہے وہ واپس لے لو، زیادہ نہیں لینا۔“