السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الوجه الذي تحل به الفدية باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14844
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا فَقَالَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ وَزِيَادَةً، قَالَ: " أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے آکر نبی ﷺ کو اپنے خاوند کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کرتی ہے؟“ کہنے لگی: ہاں کچھ زیادہ بھی دوں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زیادہ نہیں۔“