السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الوجه الذي تحل به الفدية باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14840
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ أَبُو نُوحٍ، أنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلَا خُلُقٍ، غَيْرَ أَنِّي أَخَافُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرُدَّ عَلَيْهِ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيِّ عَنْ قُرَادٍ أَبِي نُوحٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَرَدَّتْ عَلَيْهِ وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمَعْنَاهُ، وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ جَمِيلَةَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں ثابت کے دین و اخلاق میں عیب نہیں لگاتی؛ کیونکہ اسلام میں ناشکری کو پسند نہیں کرتی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کر دے گی؟“ اس عورت نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے باغ واپس کرنے کا حکم دے دیا اور ان کے درمیان تفریق کروا دی۔
(ب) قراد ابی نوح سے نقل فرماتے ہیں کہ اس عورت نے باغ واپس کر دیا تو آپ ﷺ نے اس کو جدا کرنے کا حکم دے دیا۔