حدیث نمبر: 14848
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أَنَا أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو زُرْعَةَ، نا عَمْرٌو النَّاقِدُ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، فَذَكَرَهُ وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَا تَقَدَّمَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ

عطاء حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی کا جھگڑا لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کرتی ہے؟“ کہنے لگی: باغ اور زیادہ بھی دے دیتی ہوں، تو نبی ﷺ نے زیادہ دینے سے منع فرما دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14848
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»