السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الوجه الذي تحل به الفدية باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14838
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ بِبَغْدَادَ نا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، نا الثَّقَفِيُّ، نا خَالِدٌ، نا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ، وَلَكِنْ أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ " قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: " يَا ثَابِتُ، اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً " ⦗٥١٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ جَمِيلٍ، وَأَرْسَلَهُ غَيْرُهُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں ثابت کے دین و اخلاق میں عیب نہیں لگاتی، لیکن اسلام میں ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کر دے گی؟“ وہ کہتی ہیں: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ثابت! اپنا باغ لے کر اس کو طلاق دے دو۔“