حدیث نمبر: 14850
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْأَصَمُّ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَرَادَتْ أُخْتِي أَنْ تَخْتَلِعَ مِنْ زَوْجِهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ زَوْجِهَا فَذَكَرَتْ لَهُ ⦗٥١٥⦘ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَيُطَلِّقُكِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ وَأَزِيدُهُ، فَقَالَ لَهَا الثَّانِيَةَ: تَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَيُطَلِّقُكِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ وَأَزِيدُهُ فَقَالَ لَهَا الثَّالِثَةَ، قَالَتْ: نَعَمْ وَأَزِيدُهُ، فَخَلَعَهَا فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَزَادَتْهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ عَطِيَّةَ وَالْحَدِيثُ الْمُرْسَلُ أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری بہن نے اپنے خاوند سے خلع کا ارادہ کیا تو اپنے خاوند کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس آئی، نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کرتی ہے کہ وہ تجھے طلاق دے دے؟“ اس نے کہا: ہاں، زیادہ بھی دوں گی۔ آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ پھر فرمایا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کرتی ہے کہ وہ تجھے طلاق دے دے؟“ اس عورت نے کہا: زیادہ بھی دوں گی۔ آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا تو اس عورت نے کہا: ہاں، مزید بھی دوں گی۔ اس نے باغ اور کچھ زیادہ خاوند کو دے دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14850
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»