السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الوجه الذي تحل به الفدية باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14845
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ⦗٥١٤⦘ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُبْغِضُ زَوْجِي وَأُحِبُّ فِرَاقَهُ، فَقَالَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ؟ " قَالَ: وَكَانَ أَصْدَقَهَا حَدِيقَةً قَالَتْ: نَعَمْ وَزِيَادَةً قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا الزِّيَادَةُ مِنْ مَالِكِ فَلَا وَلَكِنِ الْحَدِيقَةُ " قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَضَى بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ، فَأُخْبِرَ بِقَضَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ قَبِلْتُ قَضَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مُرْسَلًا مُخْتَصَرًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے عرض کیا: ”میں اپنے خاوند سے بغض رکھتی ہوں اور میں تفریق چاہتی ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم وہ باغ واپس کرتی ہو جو اس نے تمہیں حق مہر میں دیا تھا؟“
راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کا حق مہر باغ تھا۔ وہ کہتی ہے: ”ہاں اور میں اس سے زیادہ بھی دیتی ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زیادہ تمہارا مال ہے، صرف باغ ہی واپس کر دو۔“ وہ کہتی ہے: ”ٹھیک ہے،“ تو آپ ﷺ نے فیصلہ فرما دیا، جب اسے نبی ﷺ کے فیصلے کی خبر ملی تو اس نے کہا: ”مجھے نبی ﷺ کا فیصلہ منظور ہے۔“