السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الوجه الذي تحل به الفدية باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا رَوْحٌ، عَنْ ⦗٥١٦⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: تَزَوَّجْتُ ابْنَ عَمٍّ لِي فَشَقِيَ بِي وَشَقِيتُ بِهِ وَعَنِيَ بِي، وَعَنَيْتُ بِهِ وَإِنِّي اسْتَأْدَيْتُ عَلَيْهِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَظَلَمَنِي وَظَلَمْتُهُ وَكَثُرَ عَلَيَّ وَكَثُرْتُ عَلَيْهِ، وَإِنَّهَا انْفَلَتَتْ مِنِّي كَلِمَةُ أَنَا أَفْتَدِي بِمَالِي كُلِّهِ، قَالَ: قَدْ قَبِلْتُ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: خُذْ مِنْهَا قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ مَتَاعِي كُلَّهُ إِلَّا ثِيَابِي وَفِرَاشِي وَأَنَّهُ قَالَ لِي: لَا أَرْضَى وَأَنَّهُ اسْتَأْدَانِي عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الشَّرْطُ أَمْلَكُ قَالَ: أَجَلْ فَخُذْ مِنْهَا مَتَاعَهَا كُلَّهُ حَتَّى عِقَاصَهَا قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَجَفْتُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْبَابَ.سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے چچا زاد سے شادی کی، اس نے مجھے مشقت میں ڈالا اور میں نے اس کو مشقت میں ڈالا، اس نے مجھے تکلیف میں ڈالا اور میں نے اس کو تکلیف میں ڈالا، اس نے مجھے ظالم ٹھہرایا تو میں نے بھی، اس نے میرے اوپر کثرت سے ظلم کیا تو میں نے بھی کیا اور میری جانب سے ایک کلمہ کہہ دیا گیا کہ میں اپنا تمام مال فدیہ میں دیتی ہوں۔ اس نے کہہ دیا: میں نے قبول کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: لے لو۔ کہتی ہیں: میں نے اپنا تمام سامان اس کو دے دیا سوائے اپنے کپڑوں اور بستر کے۔ اس نے کہہ دیا: یہ بھی میرے پاس، میں راضی نہیں ہوں۔ پھر وہ مجھے لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لائے۔ جب ہم ان کے قریب ہوئے تو وہ کہنے لگا: اے امیر المومنین! میں نے ملکیت کی شرط رکھی ہے، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اپنا تمام سامان لو حتیٰ کہ بال باندھنے کا بند بھی لے لو۔ کہتی ہیں: میں نے جا کر ہر چیز اس کو لوٹا دی اور میں نے اپنے اور اس کے درمیان دروازہ بند کر لیا۔