حدیث نمبر: 14843
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ أَبُو نَصْرٍ يَعْنِي عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ عَطَاءٍ سَأَلْتُ سَعِيدًا عَنِ الرَّجُلِ يَخْلَعُ امْرَأَتَهُ بِأَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ السَّلُولِ، أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانًا تَعْنِي زَوْجَهَا ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ وَاللهِ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " خُذْ مَا أَعْطَيْتَهَا وَلَا تَزْدَدْ " وَقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَعِيدٌ: نا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ بِمِثْلِ مَا قَالَ قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَا أَحْفَظُ " وَلَا تَزْدَدْ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ

ابونصر عبدالوہاب بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید رحمہ اللہ سے پوچھا کہ جو شخص زیادہ مال کی واپسی کا تقاضا کر کے خلع کرنا چاہتا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ قتادہ رحمہ اللہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میرا خاوند ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ہے۔ میں اس پر عیب نہیں لگاتی، رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان تفریق کروا دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو دیا ہے واپس لے لو لیکن زیادہ نہ لینا۔“ قتادہ رحمہ اللہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ «لَا تَزْدَدْ» ”زیادہ نہ لینا“ کے الفاظ مجھے یاد نہیں ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14843
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»