السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الوجه الذي تحل به الفدية باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14853
قَالَ: وَنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ امْرَأَةً طَلَّقَهَا زَوْجُهَا عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " بَاعَكِ زَوْجُكِ طَلَاقًا بَيْعًا " وَأَجَازَهُ عُمَرُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن شہاب خولانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو خاوند نے ایک ہزار درہم کے عوض طلاق دے دی، معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ فرمانے لگے: تیرے خاوند نے طلاق کی بیع کر لی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو جائز قرار دیا۔