فحدَّثَناه أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، قال: قُرئ على محمد بن إسماعيل السُّلَمي وأنا أسمع، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني ابن جُرَيج، أنَّ سُليمان بن موسى الدمشقي حدثه، أخبرني ابن شهاب، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "لا تُنكَحُ المرأةُ بغير إذن وليِّها، فإن نَكَحَت فنِكاحُها باطِلٌ - ثلاثَ مرّات - فإن أصابها، فلها مهرُها بما أصاب منها، فإن اشْتَجَروا، فالسلطان وليُّ من لا وليَّ له" (2). وأما حديث حجَّاج بن محمد:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح نہیں کیا جائے گا، پس اگر اس نے نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے - آپ ﷺ نے یہ بات تین بار دہرائی - پھر اگر شوہر اس سے صحبت کر لے تو اس کے بدلے عورت مہر کی حقدار ہے، اور اگر وہ (اولیاء) باہم جھگڑ پڑیں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔“
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيلُ بنُ قُتيبة. وأخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمرْقَنْدي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر. وأخبرني أبو عمرو بن جعفر العَدْلُ، حدثنا إبراهيم بن علي الذُّهلي، قالوا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا حجّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج، أخبرني سليمان بن موسى، أنَّ ابن شِهاب أخبره، أنَّ عُرْوة أخبره، أنَّ عائشة أخبرته، أنَّ النبي ﷺ قال: "أيُّما امرأةٍ نَكَحتْ بغير إذن وليّها، فنكاحُها باطلٌ، نكاحُها باطلٌ، ولها مَهرُها بما أصاب منها، فإن اشتَجَروا فالسلطان وَليُّ من لا وَليَّ له" (1). فقد صحَّ وثبت بروايات الأئمة الأثبات سماعُ الرواة بعضِهم من بعض، فلا تُعلَّل هذه الروايات بحديثِ ابن عُليّة وسؤالِه ابنَ جُرَيج عنه، وقولِه: إني سألتُ الزُّهْري عنه فلم يعرفه، فقد ينسى الثقةُ الحافظُ الحديثَ بعد أن حدّث به، وقد فَعلَه غيرُ واحد من حفّاظ الحديث.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اور صحبت کی وجہ سے اسے مہر ملے گا، اور اگر وہ آپس میں اختلاف کریں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔“
معتبر ائمہ کی روایات سے راویوں کا ایک دوسرے سے سماع ثابت ہو چکا ہے، لہٰذا ان روایات پر ابن علیہ کی اس حکایت سے اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے ابن جریج سے اس کے بارے میں پوچھا تھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے پوچھا تو وہ اسے نہیں پہچانتے تھے، کیونکہ بسا اوقات ثقہ حافظ حدیث بیان کرنے کے بعد اسے بھول جاتا ہے، اور ایسا کئی حفاظِ حدیث کے ساتھ ہوا ہے۔
معتبر ائمہ کی روایات سے راویوں کا ایک دوسرے سے سماع ثابت ہو چکا ہے، لہٰذا ان روایات پر ابن علیہ کی اس حکایت سے اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے ابن جریج سے اس کے بارے میں پوچھا تھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے پوچھا تو وہ اسے نہیں پہچانتے تھے، کیونکہ بسا اوقات ثقہ حافظ حدیث بیان کرنے کے بعد اسے بھول جاتا ہے، اور ایسا کئی حفاظِ حدیث کے ساتھ ہوا ہے۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، قال: سمعتُ أحمد بن حنبل يقول، وذُكر عنده أن ابن عُليَّة يذكُر حديثَ ابن جُرَيج في: "لا نِكاح إلّا بوليّ"، قال ابن جُرَيج: فلقيتُ الزُّهْري، فسألتُه عنه فلم يعرفه، وأثنى على سليمان بنِ موسى، قال أحمد بن حنبل: إنَّ ابنَ جُرَيج له كتبٌ مُدوَّنة، وليس هذا في كُتبه. يعني حكاية ابن عُليَّة عن ابن جُرَيج.
حافظ طلحہ بابر
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ابن علیہ کا تذکرہ ہوا کہ وہ ابن جریج کی اس روایت کے متعلق کہتے ہیں کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“، ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے ملاقات کی اور اس بارے میں پوچھا تو وہ اسے نہ پہچان سکے، جبکہ زہری نے سلیمان بن موسیٰ کی تعریف کی تھی، اس پر امام احمد بن حنبل نے فرمایا: ابن جریج کی باقاعدہ مدون کتابیں موجود ہیں اور ان کی کتابوں میں یہ بات (ابن علیہ کا دعویٰ) موجود نہیں ہے۔
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّوْري يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول في حديث: "لا نكاح إلّا بوليٍّ" الذي يرويه ابن جُرَيج، فقلت له: إنَّ ابن عُليّة يقول: قال ابن جُرَيج: فسألتُ عنه الزُّهْريَّ فقال: لست أحفظُه، قال يحيى بن مَعِين: ليس يقول هذا إِلَّا ابن عُليَّة، وإنما عَرَضَ ابن عُليَّة كتب ابن جُرَيج على عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، فأصلحها له، ولكن لم يَبذُل نفسَه للحديث.
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ان سے ابن جریج کی روایت ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ کے بارے میں پوچھا گیا اور کہا گیا کہ ابن علیہ کہتے ہیں کہ ابن جریج نے کہا: میں نے زہری سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے یہ یاد نہیں، تو یحییٰ بن معین نے فرمایا: یہ بات صرف ابن علیہ کہتے ہیں، اصل میں ابن علیہ نے اپنی کتابیں عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد پر پیش کی تھیں تو انہوں نے ان کی اصلاح کر دی تھی، لیکن انہوں نے خود کو حدیث کے لیے وقف نہیں کیا تھا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله، حدثنا أبو بكر بن رجاء، حدثنا محمد بن المصفّى، حدثنا بقيَّة، حدثنا شعيب بن أبي حمزة قال: قال لي الزُّهْري: إنَّ مكحولًا يأتينا وسليمانُ بن موسى، ولَعَمْرُ اللهِ إنَّ سليمان بن موسى لأَحْفَظُ الرجُلَين. قال الحاكم: رَجَعْنا إلى الأصل الذي لم يَسَعِ الشيخين إخلاءُ "الصحيحين" منه، وهو حديث أبي إسحاق عن أبي بُرْدة عن أبي موسى:
حافظ طلحہ بابر
شعیب بن ابی حمزہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ امام زہری نے مجھ سے فرمایا: ہمارے پاس مکحول اور سلیمان بن موسیٰ آتے ہیں، اور اللہ کی قسم! سلیمان بن موسیٰ ان دونوں میں سے زیادہ بڑے حافظِ حدیث ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اب ہم اسی اصل کی طرف لوٹتے ہیں جسے شیخین کے لیے صحیحین میں جگہ دینا ضروری تھا، اور وہ ابواسحاق کی ابوبردہ سے اور ان کی ابوموسیٰ سے مروی حدیث ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اب ہم اسی اصل کی طرف لوٹتے ہیں جسے شیخین کے لیے صحیحین میں جگہ دینا ضروری تھا، اور وہ ابواسحاق کی ابوبردہ سے اور ان کی ابوموسیٰ سے مروی حدیث ہے۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي، قالا: حدثنا أبو قِلابة بن عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي. وأخبرني مَخْلَد بن جعفر الباقَرْحِي، حدثنا إبراهيم بن هاشم البَغَوي؛ قالا: حدثنا سليمان بن داود، حدثنا النعمان بن عبد السلام، عن شعبة وسفيان الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا نِكاحَ إلّا بَوليٍّ" (1). وقد جمع النعمانُ بن عبد السلام بين الثَّوْري وشعبة في إسناد هذا الحديث، ووَصَلَه عنهما، والنعمان بن عبد السلام ثقة مأمون (1). وقد رواه جماعة من الثقات عن الثَّوْري على حِدَة، وعن شعبة على حِدَة، فوصلوه، وكل ذلك مَخرَجُه في الباب الذي سمعه مني أصحابي، فأغنى ذلك عن إعادتها. فأما إسرائيل بن يونس بن أبي إسحاق الثقة الحُجَّة في حديث جده أبي إسحاق، فلم يُختلَف عنه في وصل هذا الحديث:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
نعمان بن عبدالسلام نے اس حدیث کی سند میں سفیان ثوری اور شعبہ دونوں کو جمع کیا ہے اور ان سے اسے متصل روایت کیا ہے، اور نعمان بن عبدالسلام ثقہ اور صاحبِ امانت ہیں، نیز ثقہ راویوں کی ایک بڑی جماعت نے سفیان ثوری اور شعبہ سے الگ الگ بھی اسے متصل روایت کیا ہے، یہ تمام طرق میرے اصحاب نے مجھ سے سن رکھے ہیں اس لیے انہیں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
نعمان بن عبدالسلام نے اس حدیث کی سند میں سفیان ثوری اور شعبہ دونوں کو جمع کیا ہے اور ان سے اسے متصل روایت کیا ہے، اور نعمان بن عبدالسلام ثقہ اور صاحبِ امانت ہیں، نیز ثقہ راویوں کی ایک بڑی جماعت نے سفیان ثوری اور شعبہ سے الگ الگ بھی اسے متصل روایت کیا ہے، یہ تمام طرق میرے اصحاب نے مجھ سے سن رکھے ہیں اس لیے انہیں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النضر بن شُميل، أخبرنا إسرائيل بن يونس، عن أبي إسحاق. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصّغَاني، حدثنا هاشم بن القاسم وعبيد الله بن موسى، قالا: حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وأخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا محمد بن سليمان الواسطي، حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وأخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن خالد بن خَلِيّ الحمصي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا إسرائيل. وأخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه وأبو بكر بن إسحاق الإمام، قالا: حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا طَلْق بن غَنّام، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ: "لا نِكَاحَ إلّا بوَليٍّ" (1). هذه الأسانيد كلها صحيحة، وقد عَلَونا فيها عن إسرائيل، وقد وَصَلَه الأئمة المتقدمون الذين نَنزلُ في رواياتهم عن إسرائيل مثل عبد الرحمن بن مَهْدي ووكيع ويحيى بن آدم ويحيى بن زكريا بن أبي زائدة وغيرهم، وقد حَكَموا لهذا الحديث بالصحة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2711 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2711 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
یہ تمام سندیں صحیح ہیں اور ہمیں اسرائیل سے یہ روایات عالی سند کے ساتھ پہنچی ہیں، ان جلیل القدر متقدم ائمہ نے بھی اسے متصل بیان کیا ہے جن کے واسطے سے ہم اسرائیل کی روایات نقل کرتے ہیں جیسے عبدالرحمن بن مہدی، وکیع، یحییٰ بن آدم اور یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ وغیرہ، اور ان سب نے اس حدیث کی صحت کا حکم دیا ہے۔
یہ تمام سندیں صحیح ہیں اور ہمیں اسرائیل سے یہ روایات عالی سند کے ساتھ پہنچی ہیں، ان جلیل القدر متقدم ائمہ نے بھی اسے متصل بیان کیا ہے جن کے واسطے سے ہم اسرائیل کی روایات نقل کرتے ہیں جیسے عبدالرحمن بن مہدی، وکیع، یحییٰ بن آدم اور یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ وغیرہ، اور ان سب نے اس حدیث کی صحت کا حکم دیا ہے۔
سمعتُ أبا نصر أحمدَ بنَ سهل الفقيه ببُخارى يقول: سمعتُ صالح بن محمد بن حبيب الحافظ يقول: سمعتُ عليَّ بن عبد الله المَدِيني يقول: سمعت عبدَ الرحمن بن مَهدي يقول: كان إسرائيل يَحفَظُ حديث أبي إسحاق كما يَحفَظ ﴿الْحَمْدُ﴾.
حافظ طلحہ بابر
میں نے بخارا میں ابونصر احمد بن سہل فقیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے صالح بن محمد بن حبیب حافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے علی بن عبداللہ مدینی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبدالرحمن بن مہدی کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اسرائیل اپنے دادا ابواسحاق کی احادیث اس طرح یاد رکھتے تھے جیسے وہ ﴿الْحَمْدُ﴾ (سورہ فاتحہ) یاد رکھتے تھے۔“
سمعتُ أبا الحسن بنَ منصور يقول: سمعتُ أبا بكر محمد بن إسحاق يقول: سمعتُ أبا موسى يقول: كان عبد الرحمن بنُ مهدي يُثبِت حديثَ إسرائيل عن أبي إسحاق - يعني - في النكاح بغير وليّ.
حافظ طلحہ بابر
میں نے ابوالحسن بن منصور کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوبکر محمد بن اسحاق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوموسیٰ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”عبدالرحمن بن مہدی ابواسحاق سے اسرائیل کی روایت کردہ حدیث یعنی ولی کے بغیر نکاح کے متعلق حدیث کی تصدیق و توثیق کیا کرتے تھے۔“
حدثني محمد بن عبد الله الشَّيباني، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسن، حدثنا حاتم بن يونس الجُرْجاني، قال: قلت لأبي الوليد الطَّيالسي: ما تقول في النكاح بغير وليّ؟ فقال: لا يجوز، قلت: ما الحُجَّةُ في ذلك؟ فقال: حدثنا قيس بن الربيع، عن أبي إسحاق، عن أبي بردة، عن أبيه (1). قلت: فإنَّ الثَّوْري وشعبة يُرسِلانه، قال: فإنَّ إسرائيلَ قد تابع قيسًا.
حافظ طلحہ بابر
حاتم بن یونس جرجانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوالولید طیالسی سے پوچھا: ولی کے بغیر نکاح کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”یہ جائز نہیں ہے“ میں نے عرض کیا: اس پر کیا دلیل ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہمیں قیس بن ربیع نے ابواسحاق کے واسطے سے، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی ہے“ میں نے عرض کیا: سفیان ثوری اور شعبہ تو اسے مرسل (سند میں صحابی کا ذکر کیے بغیر) بیان کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”بے شک اسرائیل نے (متصل سند بیان کرنے میں) قیس کی متابعت کی ہے۔“
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمدُ بنُ المنذر بن سعيد، حدثنا إسحاقُ بن إبراهيم بن جَبَلة، سمعتُ علي بن المَديني يقول: حديثُ إسرائيل صحيح في "لا نكاحَ إلّا بوليّ".
حافظ طلحہ بابر
علی بن مدینی کہتے ہیں: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ (کے متعلق) اسرائیل کی حدیث صحیح ہے۔
سمعتُ أبا الحسن بن منصور يقول: سمعتُ أبا بكر محمد بن إسحاق الإمام يقول: سألتُ محمد بن يحيى عن هذا الباب، فقال: حديث إسرائيل صحيح عندي، فقلت له: رواه شَريك أيضًا؟ فقال: من رواه؟ فقلت: حدَّثَنا به علي بن حُجْر، وذكرتُ له حديث يونس بن أبي إسحاقَ وبعضَ من روى هذا الخبر عن أبي إسحاق، فقلت له: رواه شعبة والثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن النبي ﷺ: قال: نعم، هكذا رَوَياه، ولكنهم كانوا يُحدّثون بالحديث فيُرسِلونه، حتى يقال لهم: عمَّن؟ فيُسنِدونه.
حافظ طلحہ بابر
ابوبکر محمد بن اسحاق امام کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ سے اس باب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث صحیح ہے“ میں نے ان سے کہا: اسے شریک نے بھی روایت کیا ہے؟ انہوں نے پوچھا: کس نے روایت کیا؟ میں نے کہا: ہمیں اسے علی بن حجر نے بیان کیا ہے، اور میں نے ان کے سامنے یونس بن ابی اسحاق اور ان دیگر راویوں کی حدیث کا ذکر کیا جنہوں نے اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے، پھر میں نے ان سے کہا کہ اسے شعبہ اور ثوری نے ابواسحاق سے، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ہاں، ان دونوں نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن وہ (محدثین) بسا اوقات حدیث بیان کرتے ہوئے اسے مرسل کر دیتے تھے، یہاں تک کہ جب ان سے پوچھا جاتا کہ ”کس سے؟“ تو پھر وہ اسے متصل (مسند) بیان کرتے تھے۔
سمعتُ أبا الحسن أحمد بن محمد العَنَزي يقول: سمعت عثمان بن سعيد الدارمي يقول: قلت ليحيى بن مَعِين: يونس بن أبي إسحاق أحبُّ إليك أو ابنُه إسرائيل بن يونس؟ فقال: كلٌّ ثقة.
حافظ طلحہ بابر
عثمان بن سعید دارمی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا: آپ کے نزدیک یونس بن ابی اسحاق زیادہ پسندیدہ ہیں یا ان کے بیٹے اسرائیل بن یونس؟ تو انہوں نے فرمایا: ”دونوں ہی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں۔“
حدثنا بحديث يونس بن أبي إسحاق: مُكرَمُ بن أحمد القاضي، حدثنا أبو الوليد محمد بن أحمد بن بُرْد الأنطاكي، حدثنا الهيثم بن جَميل، حدثنا عيسى بن يونس، عن أبيه، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا نِكاحَ إلّا بوليّ" (1). وقد وَصَلَ هذا الحديثَ عن أبي إسحاق بعد هؤلاء: زهيرُ بن معاوية الجُعْفي وأبو عَوَانة الوضّاح، وقد أجمع أهل النَّقل على تقدُّمهما وحفظهما. أما حديث زهير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2712 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ زُهَيْرٍ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2712 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ زُهَيْرٍ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» ”ولی (سرپرست) کے بغیر نکاح (منعقد) نہیں ہوتا۔“
اس حدیث کو ابواسحاق سے زہیر بن معاویہ جعفی اور ابوعوانہ وضاح نے بھی متصل بیان کیا ہے، اور تمام ماہرینِ حدیث کا ان دونوں کی ثقاہت، تقدم اور عمدہ قوتِ حافظہ پر اتفاق ہے۔ جہاں تک زہیر کی حدیث کا تعلق ہے:
اس حدیث کو ابواسحاق سے زہیر بن معاویہ جعفی اور ابوعوانہ وضاح نے بھی متصل بیان کیا ہے، اور تمام ماہرینِ حدیث کا ان دونوں کی ثقاہت، تقدم اور عمدہ قوتِ حافظہ پر اتفاق ہے۔ جہاں تک زہیر کی حدیث کا تعلق ہے:
فحدَّثَناه أبو علي الحافظ وأبو الحسن بنُ منصور، قالا: حدثنا محمدُ بن إسحاق الإمامُ، حدثنا أبو الأزهر، حدثنا عمرو بن عثمان الرَّقِّي، حدثنا زهيرٌ، حدثنا أبو إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ: "لا نِكَاح إلّا بوليّ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» ”ولی کے بغیر نکاح (جائز) نہیں ہوتا۔“
حدثني أبو سعيد أحمد بن محمد بن رُمَيح النَّخَعي، حدثنا إبراهيم بن نصر الكِنْدي، قال: سمعتُ سعيد بن هاشم الكاغَذِي يقول: سمعتُ أحمد بن حنبل يقول: إذا وجدتَ الحديثَ من وجهِ زهير بن معاوية، فلا تَعْدُ إلى غيره، فإنه من أثبت الناس حديثًا. وأما حديث أبي عَوَانة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعید بن ہاشم الکاغذی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب تمہیں کوئی حدیث زہیر بن معاویہ کی سند سے مل جائے تو (اعتماد کے لیے) کسی دوسرے کی طرف مت مڑو، کیونکہ وہ حدیث بیان کرنے میں سب سے زیادہ پختہ اور ثابت قدم لوگوں میں سے ہیں۔“
فحدَّثَناه أبو بكر بن سلمان الفقيه وأبو بكر بن إسحاق وأبو الحسين بن مُكْرَم وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالوا: حدثنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا مُعلَّى بن منصور، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبيه، قال: قال رسولُ الله ﷺ: "لا نِكَاح إلّا بوليّ" (2). هكذا رواه عبدُ الرحمنِ بن مَهدي ووكيع وغيرُهما عن أبي عَوَانة. وقد وَصَلَ هذا الحديث عن أبي إسحاق جماعةٌ من أئمة المسلمين غيرُ من ذكرناهم، منهم: أبو حنيفة النعمان بن ثابت ورَقَبة بن مَصْقَلة العبدي ومُطرِّف بن طريف الحارثي وعبد الحميد بن الحسن الهِلالي وزكريا بن أبي زائدة، وغيرهم، قد ذكرناهم في الباب. وقد وَصَله عن أبي بُرْدة جماعةٌ غيرُ أبي إسحاق:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
عبدالرحمن بن مہدی اور وکیع وغیرہ نے اسے ابو عوانہ سے اسی طرح متصل روایت کیا ہے، نیز ائمہ کی ایک جماعت بشمول امام ابوحنیفہ، رقبہ بن مصقلہ، مطرف بن طریف، عبدالحمید بن حسن اور زکریا بن ابی زائدہ نے بھی اسے ابواسحاق سے متصل نقل کیا ہے۔
عبدالرحمن بن مہدی اور وکیع وغیرہ نے اسے ابو عوانہ سے اسی طرح متصل روایت کیا ہے، نیز ائمہ کی ایک جماعت بشمول امام ابوحنیفہ، رقبہ بن مصقلہ، مطرف بن طریف، عبدالحمید بن حسن اور زکریا بن ابی زائدہ نے بھی اسے ابواسحاق سے متصل نقل کیا ہے۔
أخبَرَناه أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحارث بن محمد، حدثنا الحسن بن قُتيبة (1)، حدثنا يونس بن أبي إسحاق. وأخبرني أبو قُتيبة سَلْم بن الفضل الأَدَمي بمكة، حدثنا القاسم بن زكريا المقرئ، حدثنا الحسن بن محمد بن الصبّاح، حدثنا أسباط بن محمد (2)، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُردة، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ: "لا نِكَاحَ إلّا بوليّ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا أبو جعفر محمد بن أحمد (2) الضُّبَعي ببغداد، حدثنا محمد بن سهل بن عَسكَر، حدثنا قَبيصة بن عُقْبة، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى، عن النبي ﷺ قال: "لا نَكَاحَ إلّا بوليّ" (3). قال ابنُ عَسكَر: فقال لي قَبيصة بن عُقبة: جاءني علي بن المَديني، فسألني عن هذا الحديث، فحدثتُه به، فقال علي بن المديني: قد استرحْنا مِن خلاف أبي إسحاق. قال الحاكم: ليس أعلمُ بين أئمة هذا العلم خلافًا على عدالة يونس بن أبي إسحاق، وأنَّ سماعه من أبي بردة مع أبيه صحيح، ثم لم يُختلَف على يونس في وَصْل هذا الحديث، ففيه الدليل الواضحُ أنَّ الخلاف الذي وقع على أبيه فيه من جهة أصحابه، لا من جهة أبي إسحاق، والله أعلم. وممَّن وَصَلَ هذا الحديث عن أبي بُرْدة نفسِه أبو حَصِين عثمان بن عاصم الثقفي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
قبیصہ بن عقبہ بیان کرتے ہیں کہ علی بن مدینی نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں یہ سنائی، جس پر انہوں نے فرمایا: ہمیں ابواسحاق کے اختلاف (مرسل و متصل ہونے کی بحث) سے راحت مل گئی۔ امام حاکم فرماتے ہیں: ماہرینِ فن کے نزدیک یونس بن ابی اسحاق کی عدالت پر کوئی اختلاف نہیں اور ان کا اپنے والد کے ہمراہ ابوبردہ سے سماع صحیح ہے، لہٰذا یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اختلاف ابواسحاق کے شاگردوں کی جانب سے تھا نہ کہ ان کی اپنی طرف سے۔
قبیصہ بن عقبہ بیان کرتے ہیں کہ علی بن مدینی نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں یہ سنائی، جس پر انہوں نے فرمایا: ہمیں ابواسحاق کے اختلاف (مرسل و متصل ہونے کی بحث) سے راحت مل گئی۔ امام حاکم فرماتے ہیں: ماہرینِ فن کے نزدیک یونس بن ابی اسحاق کی عدالت پر کوئی اختلاف نہیں اور ان کا اپنے والد کے ہمراہ ابوبردہ سے سماع صحیح ہے، لہٰذا یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اختلاف ابواسحاق کے شاگردوں کی جانب سے تھا نہ کہ ان کی اپنی طرف سے۔
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا أبو يوسف يعقوب بن خَليفة بن حسان الأُبُلِّي بالأُبُلَّة وصالح بن أحمد بن يونس وأبو العباس الأزهري، قالوا: حدثنا أبو شَيْبة بن أبي بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا خالد بن يزيد الطبيب، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن أبي حَصين، عن أبي بُردة، عن أبي موسى، قال: قال رسولُ الله ﷺ: "لا نِكاحَ إلّا بوليٍّ" (1). فقد استدلَلْنا بالروايات الصحيحة، وبأقاويل أئمة هذا العلم على صحة حديث أبي موسى بما فيه غُنية لمن تأمّله. وفي الباب عن علي بن أبي طالب (2) وعبد الله بن عباس (3) ومعاذ بن جبل (4) وعبد الله بن عمر (1) وأبي ذر الغِفاري (2) والمِقداد بن الأسود (3) وعبد الله بن مسعود (4) وجابر بن عبد الله (5) وأبي هريرة (6) وعِمران بن حُصَين (7) وعبد الله بن عمرو (8) والمِسْوَر بن مَخْرمة (1) وأنس بن مالك (2)، وأكثرها صحيحة، وقد صحَّت الروايات فيه عن أزواج النبي ﷺ: عائشة (3) وأم سَلَمة (4) وزينب بنت جحش (5)، ﵃ أجمعين. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في رجب سنة ثمان وتسعين وثلاث مئة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
ہم نے صحیح روایات اور ائمہ کے اقوال سے اس حدیث کی صحت ثابت کر دی ہے جو غور کرنے والوں کے لیے کافی ہے۔ اس باب میں سیدنا علی، ابن عباس، معاذ بن جبل، ابن عمر، ابوذر، مقداد بن اسود، ابن مسعود، جابر، ابوہریرہ، عمران بن حصین، ابن عمرو، مسور بن مخرمہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے احادیث مروی ہیں جو کہ اکثر صحیح ہیں، نیز ازواجِ مطہرات سیدہ عائشہ، ام سلمہ اور زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن سے بھی مستند روایات موجود ہیں۔
ہم نے صحیح روایات اور ائمہ کے اقوال سے اس حدیث کی صحت ثابت کر دی ہے جو غور کرنے والوں کے لیے کافی ہے۔ اس باب میں سیدنا علی، ابن عباس، معاذ بن جبل، ابن عمر، ابوذر، مقداد بن اسود، ابن مسعود، جابر، ابوہریرہ، عمران بن حصین، ابن عمرو، مسور بن مخرمہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے احادیث مروی ہیں جو کہ اکثر صحیح ہیں، نیز ازواجِ مطہرات سیدہ عائشہ، ام سلمہ اور زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن سے بھی مستند روایات موجود ہیں۔