المستدرك على الصحيحين
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
السُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ . باب: جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہوتا ہے
سمعتُ أبا الحسن بن منصور يقول: سمعتُ أبا بكر محمد بن إسحاق الإمام يقول: سألتُ محمد بن يحيى عن هذا الباب، فقال: حديث إسرائيل صحيح عندي، فقلت له: رواه شَريك أيضًا؟ فقال: من رواه؟ فقلت: حدَّثَنا به علي بن حُجْر، وذكرتُ له حديث يونس بن أبي إسحاقَ وبعضَ من روى هذا الخبر عن أبي إسحاق، فقلت له: رواه شعبة والثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن النبي ﷺ: قال: نعم، هكذا رَوَياه، ولكنهم كانوا يُحدّثون بالحديث فيُرسِلونه، حتى يقال لهم: عمَّن؟ فيُسنِدونه.
ابوبکر محمد بن اسحاق امام کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ سے اس باب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث صحیح ہے“ میں نے ان سے کہا: اسے شریک نے بھی روایت کیا ہے؟ انہوں نے پوچھا: کس نے روایت کیا؟ میں نے کہا: ہمیں اسے علی بن حجر نے بیان کیا ہے، اور میں نے ان کے سامنے یونس بن ابی اسحاق اور ان دیگر راویوں کی حدیث کا ذکر کیا جنہوں نے اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے، پھر میں نے ان سے کہا کہ اسے شعبہ اور ثوری نے ابواسحاق سے، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ہاں، ان دونوں نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن وہ (محدثین) بسا اوقات حدیث بیان کرتے ہوئے اسے مرسل کر دیتے تھے، یہاں تک کہ جب ان سے پوچھا جاتا کہ ”کس سے؟“ تو پھر وہ اسے متصل (مسند) بیان کرتے تھے۔