حدیث نمبر: 2745M3
حدثني محمد بن عبد الله الشَّيباني، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسن، حدثنا حاتم بن يونس الجُرْجاني، قال: قلت لأبي الوليد الطَّيالسي: ما تقول في النكاح بغير وليّ؟ فقال: لا يجوز، قلت: ما الحُجَّةُ في ذلك؟ فقال: حدثنا قيس بن الربيع، عن أبي إسحاق، عن أبي بردة، عن أبيه (1). قلت: فإنَّ الثَّوْري وشعبة يُرسِلانه، قال: فإنَّ إسرائيلَ قد تابع قيسًا.
حافظ طلحہ بابر

حاتم بن یونس جرجانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوالولید طیالسی سے پوچھا: ولی کے بغیر نکاح کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”یہ جائز نہیں ہے“ میں نے عرض کیا: اس پر کیا دلیل ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہمیں قیس بن ربیع نے ابواسحاق کے واسطے سے، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی ہے“ میں نے عرض کیا: سفیان ثوری اور شعبہ تو اسے مرسل (سند میں صحابی کا ذکر کیے بغیر) بیان کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”بے شک اسرائیل نے (متصل سند بیان کرنے میں) قیس کی متابعت کی ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2745M3
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2745M3]