المستدرك على الصحيحين
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
السُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ . باب: جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2750
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا أبو جعفر محمد بن أحمد (2) الضُّبَعي ببغداد، حدثنا محمد بن سهل بن عَسكَر، حدثنا قَبيصة بن عُقْبة، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى، عن النبي ﷺ قال: "لا نَكَاحَ إلّا بوليّ" (3). قال ابنُ عَسكَر: فقال لي قَبيصة بن عُقبة: جاءني علي بن المَديني، فسألني عن هذا الحديث، فحدثتُه به، فقال علي بن المديني: قد استرحْنا مِن خلاف أبي إسحاق. قال الحاكم: ليس أعلمُ بين أئمة هذا العلم خلافًا على عدالة يونس بن أبي إسحاق، وأنَّ سماعه من أبي بردة مع أبيه صحيح، ثم لم يُختلَف على يونس في وَصْل هذا الحديث، ففيه الدليل الواضحُ أنَّ الخلاف الذي وقع على أبيه فيه من جهة أصحابه، لا من جهة أبي إسحاق، والله أعلم. وممَّن وَصَلَ هذا الحديث عن أبي بُرْدة نفسِه أبو حَصِين عثمان بن عاصم الثقفي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
قبیصہ بن عقبہ بیان کرتے ہیں کہ علی بن مدینی نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں یہ سنائی، جس پر انہوں نے فرمایا: ہمیں ابواسحاق کے اختلاف (مرسل و متصل ہونے کی بحث) سے راحت مل گئی۔ امام حاکم فرماتے ہیں: ماہرینِ فن کے نزدیک یونس بن ابی اسحاق کی عدالت پر کوئی اختلاف نہیں اور ان کا اپنے والد کے ہمراہ ابوبردہ سے سماع صحیح ہے، لہٰذا یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اختلاف ابواسحاق کے شاگردوں کی جانب سے تھا نہ کہ ان کی اپنی طرف سے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وقع اسم هذا الرجل في النسخ الخطية: أبو جعفر بن محمد بن أحمد الضبعي، بزيادة لفظة "ابن" بين أبي جعفر ومحمد وهي مُقحمة، لم ترد في رواية البيهقي في "سننه الكبرى" 7/ 109 فقد رواه عن الحاكم من كتاب "المستدرك"، ونقله كذلك عن البيهقي ابنُ عبد الهادي في "تنقيح التحقيق" (2673). وهذا الرجل لم نتبين من هو على اليقين.
فنی نکتہ / علّت: مخطوطات میں اس شخص کا نام "أبو جعفر بن محمد بن أحمد الضبعي" لکھا ہے، یعنی "أبو جعفر" اور "محمد" کے درمیان لفظ "ابن" کا اضافہ ہے جو کہ زائد (مقحم) ہے۔
اہم نکتہ: امام بیہقی کی "السنن الکبری" (7/ 109) اور ابن عبد الہادی کی "تنقیح التحقیق" (2673) میں یہ لفظ موجود نہیں ہے، اور ہمیں یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ شخص کون ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور یہ سند بھی سابقہ سند کی طرح "حسن" ہے۔
وأخرجه البيهقي 7/ 109 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی (7/ 109) نے امام ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مخطوطات میں اس شخص کا نام "أبو جعفر بن محمد بن أحمد الضبعي" لکھا ہے، یعنی "أبو جعفر" اور "محمد" کے درمیان لفظ "ابن" کا اضافہ ہے جو کہ زائد (مقحم) ہے۔
اہم نکتہ: امام بیہقی کی "السنن الکبری" (7/ 109) اور ابن عبد الہادی کی "تنقیح التحقیق" (2673) میں یہ لفظ موجود نہیں ہے، اور ہمیں یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ شخص کون ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور یہ سند بھی سابقہ سند کی طرح "حسن" ہے۔
وأخرجه البيهقي 7/ 109 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی (7/ 109) نے امام ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2750 سے ماخوذ ہے۔