المستدرك على الصحيحين
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
السُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ . باب: جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہوتا ہے
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيلُ بنُ قُتيبة. وأخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمرْقَنْدي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر. وأخبرني أبو عمرو بن جعفر العَدْلُ، حدثنا إبراهيم بن علي الذُّهلي، قالوا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا حجّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج، أخبرني سليمان بن موسى، أنَّ ابن شِهاب أخبره، أنَّ عُرْوة أخبره، أنَّ عائشة أخبرته، أنَّ النبي ﷺ قال: "أيُّما امرأةٍ نَكَحتْ بغير إذن وليّها، فنكاحُها باطلٌ، نكاحُها باطلٌ، ولها مَهرُها بما أصاب منها، فإن اشتَجَروا فالسلطان وَليُّ من لا وَليَّ له" (1). فقد صحَّ وثبت بروايات الأئمة الأثبات سماعُ الرواة بعضِهم من بعض، فلا تُعلَّل هذه الروايات بحديثِ ابن عُليّة وسؤالِه ابنَ جُرَيج عنه، وقولِه: إني سألتُ الزُّهْري عنه فلم يعرفه، فقد ينسى الثقةُ الحافظُ الحديثَ بعد أن حدّث به، وقد فَعلَه غيرُ واحد من حفّاظ الحديث.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اور صحبت کی وجہ سے اسے مہر ملے گا، اور اگر وہ آپس میں اختلاف کریں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔“
معتبر ائمہ کی روایات سے راویوں کا ایک دوسرے سے سماع ثابت ہو چکا ہے، لہٰذا ان روایات پر ابن علیہ کی اس حکایت سے اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے ابن جریج سے اس کے بارے میں پوچھا تھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے پوچھا تو وہ اسے نہیں پہچانتے تھے، کیونکہ بسا اوقات ثقہ حافظ حدیث بیان کرنے کے بعد اسے بھول جاتا ہے، اور ایسا کئی حفاظِ حدیث کے ساتھ ہوا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: سلیمان بن موسیٰ الاشدق الدمشقی کی وجہ سے یہ اسناد "قوی" ہے۔