حدیث نمبر: 2742
فحدَّثَناه أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، قال: قُرئ على محمد بن إسماعيل السُّلَمي وأنا أسمع، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني ابن جُرَيج، أنَّ سُليمان بن موسى الدمشقي حدثه، أخبرني ابن شهاب، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "لا تُنكَحُ المرأةُ بغير إذن وليِّها، فإن نَكَحَت فنِكاحُها باطِلٌ - ثلاثَ مرّات - فإن أصابها، فلها مهرُها بما أصاب منها، فإن اشْتَجَروا، فالسلطان وليُّ من لا وليَّ له" (2). وأما حديث حجَّاج بن محمد:
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح نہیں کیا جائے گا، پس اگر اس نے نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے - آپ ﷺ نے یہ بات تین بار دہرائی - پھر اگر شوہر اس سے صحبت کر لے تو اس کے بدلے عورت مہر کی حقدار ہے، اور اگر وہ (اولیاء) باہم جھگڑ پڑیں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2742
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 2742] [ترقيم الشركة 2723]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب - وهو الغافقي المصري - وقد توبع.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی یہ سند یحییٰ بن ایوب (الغافقی المصری) کی وجہ سے "حسن" ہے، نیز ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2742 سے ماخوذ ہے۔