١١٣٦٩ - حدثنا حفص بن غياث عن هشام (بن) (١) عروة عن أبيه عن عائشة أن رسول اللَّه ﷺ كفن في ثلاثة أثواب (يمانية) (٢) ليس فيها قميص ولا عمامة، فقلنا لعائشة: إنهم يزعمون أنه كان كفن في برد حبرة فقالت: قد جاؤوا ببئر حبرة ولم يكفنوه (فيه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا، اس میں (کفن میں) قمیص اور عمامہ شامل نہ تھا، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ لوگوں کا تو یہ گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کاٹن کے چادر میں کفن دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کاٹن کی چادر لائی تو گئی تھی لیکن اس میں کفن نہ دیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو۔
١١٣٧٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن يزيد عن مقسم عن ابن عباس قال: (كان) (١) كفن رسول اللَّه ﷺ في ثلاثة أثواب في قميصه الذي مات فيه (وحلة) (٢) له نجرانية (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا، اس میں ایک تو وہ قمیص تھی جس میں آپ کی وفات ہوئی تھی اور دو ایک ہی طرح کے کپڑے تھے۔
١١٣٧١ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق قال: (مررت) (١) على مجلس من مجالس بني عبد المطلب فسألتهم في كم كفن رسول اللَّه ﷺ فقالوا: في ثلاثة (أثواب) (٢) ليس فيها قميص ولا قباء ولا عمامة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں بنو عبد المطلب کی مجالس کے پاس سے گذرا تو میں نے ان سے دریافت کیا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : تین کپڑوں میں جس میں قمیص، قباء اور عمامہ نہ تھا۔
١١٣٧٢ - حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن أبيه قال: كفن رسول اللَّه ﷺ في ثوبين صحاريين وبرد حبرة قال: وأوصاني أبي بذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو یمنی کپڑوں میں اور ایک یمنی چادر میں کفن دیا گیا، راوی فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے اس کی وصیت فرمائی تھی۔
١١٣٧٣ - حدثنا جرير عن منصور قال: كفن رسول اللَّه ﷺ في حلة حمراء وثوب ممشق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرخ رنگ کی چادر اور دو سرخ رنگ میں رنگے کپڑوں میں کفن دیا گیا۔
١١٣٧٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن هشام عن أبيه عن عائشة قالت: لما حضر أبو بكر قال: في كم كفن رسول اللَّه ﷺ؟ قلت: في ثلاثة أثواب ⦗٤٩٥⦘ (سحول) (١)، قال: فنظر إلى ثوب خلق عليه فقال: اغسلوا هذا وزيدوا عليه ثوبين آخرين، فقلت: بل نشتري لك ثيابًا جددًا، (قال) (٢): الحي أحق بالجديد من الميت إنما هي للمهلة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضرت صدیق اکبر کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا ؟ میں نے عرض کیا تین یمنی چادروں میں (کپڑوں میں) آپ نے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں کی طرف دیکھا اور فرمایا اس کو دھو دو اور اس پر دو کپڑوں کا اور اضافہ کردو، میں نے عرض کیا کہ ہم آپ کے لیے دو نئے کپڑے خرید لے تک ہیں، آپ نے فرمایا، نئے کپڑوں کے زیادہ حق دار زندہ لوگ ہیں، بیشک یہ تو مردہ کی پیپ کے لیے ہے۔
١١٣٧٥ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن ابن (أبي) (١) مليكة عن عائشة قالت: قال أبو بكر: في كم كفنتم رسول اللَّه ﷺ؟ فقلت: في ثلاثة أثواب، قال: (فاغسلوا) (٢) ثوبي هذين واشتروا لي ثوبًا من السوق، قالت: إنا موسرون، قال: يا بنية الحي أحق بالجديد من الميت إنما هو للمهلة والصديد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا : تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا ؟ میں نے عرض کیا تین کپڑوں میں آپ نے فرمایا میرے ان دو کپڑوں کو دھو دو اور بازار سے ایک اور کپڑا خرید لو، میں نے عرض کیا ہم آپ کے لیے نیا کپڑا تیار کرلیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مردوں کی بنسبت زندہ نئے کپڑے کے زیادہ حقدار ہیں، بیشک یہ کفن تومردے کی پیپ اور خون کے لیے ہوتا ہے۔
١١٣٧٦ - حدثنا علي بن مسهر عن عبيد اللَّه عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه قال: كفن أبو بكر في ثوبين سحوليين ورداء له (ممشق) (١) أمر به أن يغسل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کو دو یمنی چادروں میں اور ایک میلی چادر جس میں کچھ زردی تھی کفن دیا گیا آپ نے اس چادر کا دھونے کا حکم فرمایا۔
١١٣٧٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم عن سالم (عن) (١) ابن عمر أن عمر كفن في ثلاثة أثواب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا۔
١١٣٧٨ - حدثنا وكيع عن ثور عن راشد بن (سعد) (١) قال: قال عمر: يكفن الرجل في ثلاثة أثواب. . ﴿وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ [البقرة: ١٩٠] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ مرد کو تین کپڑوں میں کفن دیا جائے گا اور حد سے تجاوز نہیں کیا جائے گا، بیشک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے ۔
١١٣٧٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (الجعد) (١) عن إبراهيم (بن) (٢) نافع قال: قال أبو هريرة: كفنوني في ثلاثة أثواب لفوني فيها لفًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے تین کپڑوں میں کفن دینا اور ان کو میرے اوپر لپیٹ دینا۔
١١٣٨٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب (عن عمرو) (١) عن إبراهيم قال: سئل جابر بن زيد عن الميت كم (يكفيه) (٢) من الكفن؟ قال: كان ابن عباس يقول: ثوب أو ثلاثة أثواب أو خمسة أثواب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن ھرم فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید سے دریافت کیا گیا کہ میت کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک کپڑے میں، تین کپڑوں میں یا پانچ کپڑوں میں (سب جائز ہیں) ۔
١١٣٨١ - حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد بن جميع عن أبي الطفيل عن حذيفة قال: كفنوني في ثوبي هذين، (في ثوبين) (١) كانا عليه خلقين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے ان دو کپڑوں میں کفن دینا وہ دو کپڑے جو انہوں نے پہنے ہوئے تھے۔
١١٣٨٢ - حدثنا حماد بن خالد عن مالك بن أنس عن الزهري عن حميد بن ⦗٤٩٧⦘ عبد الرحمن عن عبد اللَّه بن عمرو قال: يكفن الميت في ثلاثة أثواب: قميص [وإزار، ولفاقة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میت کو تین کپڑوں میں کفن دیا جائے گا، قمیص، ازار اور لفافہ۔
١١٣٨٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب (عن نافع) (١) أن (واقد) (٢) بن عبد اللَّه توفي (فكفنه) (٣) ابن عمر في خمسة أثواب: قميص (٤)] (٥) وثلاثة (لفائف) (٦) (وعمامة) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع ہیں کہ واقد بن عبد اللہ کا انتقال ہوا تو حضرت عبداللہ بن عمر نے اس کو پانچ کپڑوں میں کفن دیا، ایک قمیص، تین لفافے اور ایک عمامہ۔
١١٣٨٤ - حدثنا وكيع عن هشام (بن) (١) عروة عن أبيه قال: كفن حمزة في ثوب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔
١١٣٨٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (عبد اللَّه) (١) بن محمد بن عقيل عن جابر أن النبي ﷺ كفن حمزة في ثوب (و) (٢) ذلك الثوب نمرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا اور وہ کپڑا سفید اور دوسرے رنگوں والا تھا۔
١١٣٨٦ - حدثنا أبو معاوية عن هشام عن أبيه أن صفية ذهبت يوم أحد بثوبين تريد أن تكفن (فيهما) (١) حمزة بن عبد المطلب قال: وأحد الثوبين أوسع من الآخر، (قال) (٢): فوجدت إلى جنبه رجلًا من الأنصار فأقرعت بينهما، فكفنت القارع أوسع الثوبين والآخر في الثوب الباقي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت صفیہ غزوہ احد کے دن دو کپڑے لے کر آئیں تاکہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب کو کفن دیں، فرماتے ہیں کہ ایک کپڑا دوسرے سے لمبا تھا، فرماتے ہیں کہ انہوں حضرت حمزہ کے پہلو میں ایک انصاری صحابی کی لاش کو پایا، تو ان دونوں کے درمیان قرعہ ڈالا، اور جو بلند ہوا (جس کا نام نکلا) اس کو لمبے سے کفن دیا اور دوسرے کو باقی رہ جانے والے کپڑے سے۔
١١٣٨٧ - [[حدثنا وكيع عن سفيان عن عمران (عن) (١) سويد قال: الرجل (و) (٢) المرأة يكفنان في ثوبين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید فرماتے ہیں کہ حضر ت ابوبکر صدیق کو دو کپڑوں میں کفن دیا گیا۔
١١٣٨٨ - [حدثنا وكيع عن سفيان (عن) (١) عمران عن سويد أن أبا بكر كفن في ثوبين] (٢)]] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید فرماتے ہیں کہ عورت اور مرد دونوں کو دو کپڑوں میں کفن دیا جائے گا۔
١١٣٨٩ - حدثنا عبد الأعلى عن (الجريري) (١) عن غنيم بن قيس قال: كانا نكفن في (الثوبين) (٢) والثلاثة والأربعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غنیم بن قیس فرماتے ہیں کہ ہم دو ، تین اور چار کپڑوں میں کفن دیا کرتے تھے۔
١١٣٩٠ - حدثنا ابن (حباب) (١) قال: (ثنا) (٢) (محمد) (٣) بن صالح قال: حدثني يزيد بن (زيد) (٤) (مولى) (٥) (أبي) (٦) أسيد عن أبي أسيد قال: أنا مع رسول اللَّه ﷺ على قبر حمزة (فمدت) (٧) (النمرة) (٨) على رأسه (وانكشفت) (٩) رجلاه (فمدت) (١٠) على رجليه فانكشف رأسه فقال رسول اللَّه ﷺ: "ضعوها على رأسه واجعلوا على رجليه من شجر (الحرمل) (١١) " (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسید فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت حمزہ کی لاش کے پاس موجود تھا، کفن والی چادر (جو سفید اور دوسرے رنگوں والی تھی) کو آپ کی سر کی طرف کھچاحض تو آپ کے پاؤں برہنہ ہوگئے، اور اس کو پاؤں پر کیا گیا تو سر برہنہ ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اس کفن کو اس کے سر پر ڈال دو اور پاؤں پر اسید نامی بوٹی کے پتے ڈال دو ۔
١١٣٩١ - حدثنا وكيع عن حسان بن إبراهيم عن أمية عن جابر بن زيد قال: لا يعمم الميت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ میت کے سر پر کپڑا نہیں باندھا جائے گا (پگڑی کے مثل) ۔
١١٣٩٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن (خباب) (١) بن الأرت قال: هاجرنا مع رسول اللَّه ﷺ في سبيل اللَّه نبتغي وجه اللَّه (تعالى) (٢)، فوجب ⦗٥٠٠⦘ أجرنا على اللَّه، فمنا من مضى لم يأكل من أجره شيئًا، منهم مصعب بن عمير قتل يوم أحد فلم (نجد) (٣) له شيئًا يكفن فيه إلا نمرة، وكنا إذا وضعناها على رأسه خرجت رجلاه، فإذا وضعناها على رجليه خرج رأسه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ضعوها مما يلي رأسه واجعلوا على رجليه من الإِذْخِر"، و (٤) منا من أينعت له ثمرته فهو (يَهْدِبُها) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خباب بن الارت فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا کی خاطر نکلے، ہمارا اجر اللہ کے ذمہ ہے، فرماتے ہیں ہم میں سے بعض تو گذر گئے ان کے اجر میں کوئی کمی نہ کی گئی، ان ہی میں حضرت مصعب بن عمیر بھی ہیں جو غزوہ احد میں شریک ہو کر شھید ہوئے، ہمیں کوئی کپڑا نہ ملا جس میں آپ کو کفن دیتے سوائے ایک کپڑے کے، جب اس کو ہم سر کی طرف کرتے تو پاؤں برہنہ ہوجاتے اور پاؤں کی طرف کرتے تو سر برہنہ ہوجاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو سر کی جانب رکھ دو اور پاؤں پر ازخر کے پتے رکھ دو ۔ اور فرماتے ہیں کہ ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پھل لگنے والے ہیں اور وہ ان کو توڑتے ہیں۔
١١٣٩٣ - حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن (أبي) (١) بكر عن أبيه أنه أوصى أن يكفن في ثلاثة أثواب (يدرج) (٢) فيها إدراجًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی بکر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے والد صاحب نے وصیت فرمائی کہ ان کو تین کپڑوں میں کفن دیا جائے جن کو ایک دوسرے کے اوپر لپیٹا جائے۔
١١٣٩٤ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: يكفن الرجل في ثلاثة أثواب (القميص) (١) و (الإزار) (٢) (واللفافة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مرد کو تین کپڑوں میں کفن دیا جائے گا، قمیص، ازار اور لفافے میں۔
١١٣٩٥ - حدثنا يحيى بن اليمان عن سفيان عن الشيباني عن الشعبي قال: لا يعمم الميت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی فرماتے ہیں میت کے سر پر کپڑا نہیں باندھا جائے گا۔
١١٣٩٦ - حدثنا (عبيد اللَّه عن) (١) عثمان بن الأسود عن عطاء قال: يكفن الميت في ثوبين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میت کو دو کپڑوں میں کفن دیا جائے گا۔
١١٣٩٧ - حدثنا ابن علية عن ابن عون (عن) (١) ابن سيرين أنه كان (يحب) (٢) أن يكفن الميت في قميص له (٣) (أزرار) (٤) و (كمان) (٥) مثل الحي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ میت کو قمیص میں کفن دیا جائے جس کے ازار اور آستین زندوں کی طرح ہوں۔
١١٣٩٨ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن علي بن حسين قال: كفن رسول اللَّه ﷺ في ثلاثة أثواب أحدها برد حبرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا، جن میں سے ایک یمنی چادر تھی۔
١١٣٩٩ - [حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن أبي سلمة عن عائشة أن رسول اللَّه ﷺ سجي في برد حبرة، فصدق ذلك عنده قول علي بن حسين] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک یمنی چادر میں لپیٹا (کفن) دیا گیا، اس سے ان کے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین کے قول کی تصدیق کی گی۔
١١٤٠٠ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال: كفن رسول اللَّه ﷺ، في ثلاثة أثواب أحدها برد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں سے ایک یمنی چادر تھی۔
١١٤٠١ - حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن هشام (بن) (٢) عروة قال: إن غير واحد من أصحاب رسول اللَّه ﷺ كفن في ثوب واحد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کئی صحابہ کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا گیا۔
١١٤٠٢ - [حدثنا عبدة (عن هشام) (١) عن أبيه أن حمزة بن عبد المطلب كفن في ثوب واحد] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔
١١٤٠٣ - حدثنا عبدة عن إسماعيل بن أبي خالد عن (البهي) (١) عن عائشة أن أبا بكر قال: إذا (أنا) (٢) مت فاغسلي (ملاءتي) (٣) هاتين (وكفنيني) (٤) (فيهما) (٥) فإن الحي أحوج إلى الجديد من الميت (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فر ماتی ہیں کہ حضرت صدیق اکبر کا وقت مرگ قریب آیا تو آپ نے فرمایا : جب مر جاؤں تو ان دونوں کپڑوں کو دھو دینا انہی میں مجھے کفن دینا، بیشک زندہ لوگ نئے کپڑوں کے زیادہ حقدار ہیں۔
١١٤٠٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن محمد بن عبد الرحمن عن عمرة عن عائشة قالت: لا يكفن الميت في أقل من ثلاثة أثواب لمن قدر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ میت کو جو قادر ہو تین کپڑوں سے کم میں کفن نہیں دیا جائے گا۔
١١٤٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) مروان بن معاوية عن عاصم عن أبي العالية أن حمزة كفن في ثوب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔
١١٤٠٦ - حدثنا المحاربي عن ليث عن خيثمة عن سويد قال: (لا تكفنوني) (١) إلا في ثوبين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید فرماتے ہیں کہ مجھے دو کپڑوں میں کفن دینا ۔
١١٤٠٧ - حدثنا وكيع عن إياس بن دغفل عن عبد اللَّه بن قيس بن (عباد) (١) عن أبيه أنه أوصى: كفنوني في بردي عصب، وجللوا سريري كسائي الأبيض الذي كنت أصلي فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن قیس بن عبادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو ان کے والد صاحب نے وصیت فرمائی کہ مجھے میری اس چادر میں کفن دینا جو کا تے ہوئے کپڑے کی بنی ہے اور میری چار پائی کو اس سفید کپڑے سے ڈھاپنا جس میں، میں نماز پڑھا کرتا تھا۔
١١٤٠٨ - حدثنا محمد بن (أبي) (١) عدي عن أشعث عن الحسن أن عثمان بن أبي (العاص) (٢) كفن في خمسة أثواب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن ابی العاص کو پانچ کپڑوں میں کفن دیا گیا۔
…