کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوالخیر مرثد بن عبداللہ یزنی کی سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكمِ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِِ بْنِ بِشْرٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَة، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: نَذَرَتْ أُخْتِي أنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللهِ فَأَمَرَتْنِي أنْ أَسْتَفْتِي لَهَا، فَاسْتَفْتَيْتُ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ» ، وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُفَارِقُ عُقْبَةَ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ پیدل چل کر بیت اللہ جائے گی، اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے فتویٰ معلوم کروں۔ چنانچہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ پیدل بھی چلے اور سواری بھی کرے۔“
راوی کہتے ہیں: ابوالخیر سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے کبھی جدا نہیں ہوتے تھے۔
راوی کہتے ہیں: ابوالخیر سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے کبھی جدا نہیں ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: نَذَرَتِ ابْنَةُ عَامِرٍ أنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عامر کی بیٹی نے نذر مانی کہ وہ پیدل چل کر بیت اللہ جائے گی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ پیدل بھی چلے اور سواری بھی کرے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح، وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ الْفُرُوجَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پورا کرنے کے لائق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَقُّ الشُّرُوطِ أنْ يُوَفَّى مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پورا کرنے کے لائق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ الذِّرَاعُ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ يَزِيدَ، وَيَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثَانِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ مَا وَفَّيْتُمْ بِهِ مِنَ الشُّرُوطِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ فُرُوجَ النِّسَاءِ» أَوْ قَالَ: «مَا اسْتُحِلَّ بِهِ الْفُرُوجُ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جن شرطوں کو پورا کرنا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے وہ ہیں جن کے ذریعے تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے“ (یا فرمایا: ”جن کے ذریعے شرمگاہیں حلال کی جاتی ہیں“)۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”سب سے زیادہ پورا کرنے کے لائق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرَ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پورا کرنے کے لائق شرط وہ ہیں جن کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ يَحْيَى الرَّقِّيُّ، ثَنَا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ يُوَفَّى مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”سب سے زیادہ پورا کرنے کے لائق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي فَرُّوجِ حَرِيرٍ، ثُمَّ نَزَعَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلَّيْتَ فِيهِ، ثُمَّ نَزَعْتَهُ؟ قَالَ: «إِنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ لِبَاسِ الْمُتَّقِينَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ریشمی فروج (چاک دار جبہ) پہن کر نماز پڑھی، پھر اسے اتار دیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے اسے پہن کر نماز پڑھی، پھر اتار دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ متقی لوگوں کا لباس نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجٌ مِنْ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: «لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ریشمی فروج ہدیہ کیا گیا، آپ ﷺ نے اسے پہن لیا اور اس میں نماز پڑھی، پھر نماز سے فارغ ہو کر گویا اسے ناپسند کرتے ہوئے زور سے اتار دیا اور فرمایا: ”یہ متقی لوگوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجٌ مِنْ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ، فَصَلَّى فَلَمَّا سَلَّمَ نَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا، ثُمَّ أَلْقَاهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ لَبِسْتَهُ وَصَلَّيْتَ فِيهِ؟ قَالَ: «إِنَّ هَذَا لَا يَنْبَغِي لِلْمُتَّقِينَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ریشمی فروج ہدیہ کیا گیا، آپ ﷺ نے اسے پہن کر نماز پڑھی، پھر سلام پھیرتے ہی اسے سختی سے اتار کر پھینک دیا۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے اسے پہن کر نماز پڑھی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ متقی لوگوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا، فَقَسَمَهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ضَحِّ بِهِ أَنْتَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کچھ بکریاں دیں تاکہ وہ اپنے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیں۔ ایک برس بھر کا بکرا بچ گیا تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم خود اس کی قربانی کر لو۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ الْحَمْوُ؟ قَالَ: «الْحَمْوُ الْمَوْتُ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کے پاس تنہائی میں جانے سے بچو۔“ ایک انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دیور کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیور تو موت ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُوا عَلَى النِّسَاءِ» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ الْحَمْوُ؟ قَالَ: «الْحَمْوُ الْمَوْتُ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کے پاس مت جاؤ۔“ ایک انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دیور کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیور تو موت ہے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتَحَدَّثُوا عِنْدَ النِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کے پاس بیٹھ کر باتیں نہ کیا کرو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَدْخُلُوا عَلَى النِّسَاءِ» فَقِيلَ: الْحَمْوُ؟ قَالَ: الْحَمْوُ الْمَوْتُ "
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”عورتوں کے پاس مت جاؤ۔“ عرض کیا گیا: دیور کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیور تو موت ہے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْنَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلَا يَقْرُونَا فَمَاذَا تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ بِحَقِّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: آپ ہمیں کسی مہم پر بھیجتے ہیں تو ہم کسی قوم کے ہاں اترتے ہیں مگر وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم کے ہاں اترو اور وہ تمہارے لیے مہمان کے حق کے مطابق انتظام کریں تو قبول کر لو، اور اگر ایسا نہ کریں تو ان سے مہمان کا جو حق بنتا ہے وہ خود لے لو۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: «إِنِّي فَرَطُكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللهِ لَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن باہر تشریف لائے اور اہل احد پر نماز جنازہ کی طرح دعا کی، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: ”میں تم سے پہلے حوض پر پہنچنے والا ہوں اور تم پر گواہ ہوں، اللہ کی قسم میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں، اور اللہ کی قسم مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، بلکہ مجھے یہ خوف ہے کہ تم دنیا کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَة، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ الْأَحْيَاءَ وَالْأَمْوَاتَ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: «إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمٍ فَرَطٌ، وَإِنِّي عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمْ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ وَأَنَا فِي مَقَامِي هَذَا، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أنْ تُشْرِكُوا، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا» قَالَ عُقْبَةَ: فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَحَدُهُمَا نَحْوَ حَدِيثِ صَاحِبِهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آٹھ سال بعد احد کے شہداء پر ایسے نماز جنازہ پڑھی جیسے زندوں اور مُردوں سے الوداع کہہ رہے ہوں، پھر منبر پر چڑھے اور فرمایا: ”میں تم سے پہلے حوض پر پہنچنے والا ہوں اور تم پر گواہ ہوں، اور تمہارا وعدہ گاہ حوض ہے، اور میں اپنی اسی جگہ کھڑے ہوئے اسے دیکھ رہا ہوں، مجھے تمہارے بارے میں یہ خدشہ نہیں کہ تم شرک کرو گے، بلکہ مجھے یہ خدشہ ہے کہ تم دنیا کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے۔“ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھنے کا میرا آخری موقع تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ فَقَالَ: «إنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ عَرْضَهُ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى الْجُحْفَةِ، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا فَتَفْشَلُوا فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ» فَكَانََ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے شہداء پر نماز جنازہ پڑھی، پھر منبر پر اس طرح چڑھے جیسے زندوں اور مُردوں سے الوداع کہہ رہے ہوں اور فرمایا: ”میں حوض پر تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں، اور اس کا عرض ایلہ اور جحفہ کے درمیان کے فاصلے کے برابر ہے، مجھے تمہارے بارے میں یہ خدشہ نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، بلکہ مجھے یہ خدشہ ہے کہ تم دنیا کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے، پھر کمزور پڑ جاؤ گے اور اسی طرح ہلاک ہو جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے۔“ یہ آخری بار تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو الْمُعَافَى مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنِّي وَاللهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي، وَإِنِّي فِي مَقَامِي، وَإِنَّ سَعَتَهُ لَمَا بَيْنَ الْجُحْفَةِ إِلَى أَيْلَةَ، وَإِنِّي وَاللهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنْ قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَخَزَائِنِ الْأَرْضِ، وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أنْ تَنَافَسُوا فِيهَا» ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے شہداء پر نماز جنازہ پڑھی، پھر واپس آ کر منبر پر بیٹھ گئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں تم سے پہلے حوض پر پہنچنے والا ہوں اور تم پر گواہ ہوں، اللہ کی قسم میں اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور اپنی اسی جگہ کھڑا ہوں، اور اس کی وسعت جحفہ اور ایلہ کے درمیان کے فاصلے کے برابر ہے، اور اللہ کی قسم مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، بلکہ مجھے دنیا اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی جا چکی ہیں اور مجھے صرف یہ خوف ہے کہ تم ان کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے۔“ اس کے بعد آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے اور پھر اپنے گھر سے باہر تشریف نہ لائے یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے آپ کی روح قبض کر لی۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ» أَوْ قَالَ: «حَتَّى يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ» قَالَ يَزِيدُ: وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمُ إلَّا تَصَدَّقَ بِكَعْكَةٍ أَوْ بِفُولَةٍ أَوْ بِكَذَا، سَمَّى شَيْئًا
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“ (یا فرمایا: ”یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان حکم کیا جائے“)۔
یزید کہتے ہیں: ابوالخیر کا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں وہ کچھ نہ کچھ صدقہ نہ کرتے ہوں، خواہ ایک کعک ہو یا ایک پھلی یا کوئی اور چیز۔
یزید کہتے ہیں: ابوالخیر کا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں وہ کچھ نہ کچھ صدقہ نہ کرتے ہوں، خواہ ایک کعک ہو یا ایک پھلی یا کوئی اور چیز۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ غُلَامًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَكَتْ أُمِّي حُلِيًّا أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا؟ قَالَ: «أَمَرَتْكَ بِذَاكَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَاحْبِسْهُ عَلَيْكَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکے نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: میری والدہ نے کچھ زیورات چھوڑے ہیں، کیا میں انہیں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا انہوں نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اسے اپنے پاس ہی رکھو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا وَلَمْ تُوصِ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ فَقَالَ: «احْبِسْ عَلَيْكَ مَالَكَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور کچھ زیورات چھوڑے ہیں، انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی، کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو انہیں فائدہ ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا مال اپنے ہی پاس رکھو۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُبَارَكَةِ زَيْتِ الزَّيْتُونِ، فَتَدَاوَوْا بِهِ فَإِنَّهُ مَصَحَّةٌ مِنَ الْبَاسُورِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس مبارک درخت یعنی زیتون کے تیل کو استعمال کرو اور اس سے علاج کرو، کیونکہ یہ بواسیر سے شفا دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رَبُّنَا سَمِيعٌ بَصِيرٌ» وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”ہمارا رب سننے والا، دیکھنے والا ہے“ اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنی دونوں آنکھوں کی طرف اشارہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فِي خَاتِمَةِ النُّورِ وَهُوَ جَاعِلٌ أُصْبُعَيْهِ تَحْتَ عَيْنَيْهِ يَقُولُ: «بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے سورۃ النور کی آخری آیت پڑھی، اس دوران آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیاں اپنی آنکھوں کے نیچے رکھی ہوئی تھیں اور فرما رہے تھے: ”ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اذان دینے والے قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ: «نِعْمَ سُحُورٌ لِلْمُسْلِمِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مٹھی کھجوریں لیں اور فرمایا: ”مسلمان کے لیے یہ کیا ہی اچھا سحری ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اقْرَءُوا هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ فِي آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ رَبِّي أَعْطَانِيهِمَا مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کرو، کیونکہ میرے رب نے مجھے یہ عرش کے نیچے سے عطا فرمائی ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اقْرَءُوا هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ بِخَاتِمَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَإِنِّي أُعْطِيتُهُمَا مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”سورۃ البقرہ کے خاتمے کی یہ دو آیتیں پڑھا کرو، مجھے یہ عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَاسِبُ الْمَهْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: " تَرَدَّدُوا فِي الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ} [البقرة: ٢٨٥] إِلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّ اللهَ اصْطَفَى بِهَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتوں ”آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ“ [البقرہ: 285] سے لے کر سورت کے خاتمے تک بار بار پڑھا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خاص طور پر یہ آیتیں عطا فرمائی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ مِنْ عَمَلِ يَوْمٍ إلَّا وَهُوَ يُخْتَمُ عَلَيْهِ، فَإِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبَّنَا، عَبْدُكَ فُلَانٌ قَدْ حَبَسْتَهُ، فَيَقُولُ: اجْتَمِعُوا لَهُ عَلَى مِثْلِ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ "
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر دن کا عمل مہر لگا کر بند کر دیا جاتا ہے، پھر جب مومن بیمار ہو جاتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے رب! تیرے بندے فلاں کو تو نے روک لیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اس کے لیے اسی کے سابقہ عمل کے برابر لکھتے رہو، یہاں تک کہ وہ شفا پا جائے یا فوت ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ، ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ، ثُمَّ عَمِلَ أُخْرَى فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ أُخْرَى، حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو شخص برے اعمال کرتا ہے، پھر نیک اعمال کرتا ہے، اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے تنگ زرہ پہن رکھی ہو جو اسے گھٹن میں مبتلا کر رہی ہو، پھر وہ ایک نیکی کرتا ہے تو ایک کڑی کھل جاتی ہے، پھر دوسری نیکی کرتا ہے تو دوسری کڑی کھل جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ زرہ زمین پر گر جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مثَلُ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ، ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ، فَكُلَّمَا عَمِلَ حَسَنَةً انْتَقَضَ حَلْقَةً، ثُمَّ أُخْرَى حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو شخص برے اعمال کرتا ہے، پھر نیک اعمال کرتا ہے، اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے تنگ زرہ پہن رکھی ہو جو اسے گھٹن میں مبتلا کر رہی ہو، پس جب بھی وہ نیکی کرتا ہے تو ایک کڑی کھل جاتی ہے، پھر دوسری نیکی کرتا ہے تو دوسری کڑی، یہاں تک کہ وہ زمین پر گر جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ يُوسُفَ الْعَبْدِيُّ، ثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ دَخَلْتُ جَنَّةَ عَدْنٍ فَوَقَعَتْ فِي يَدِي تُفَّاحَةٌ، فَلَمَّا وَضَعْتُهَا فِي يَدِي انْفَلَقَتْ عَنْ حَوْرَاءَ عَيْنَاءَ مُرْضِيَةٍ، أَشْفَارُ عَيْنَيْهَا كَمَقَادِيمِ أَجْنِحَةِ النُّسُورِ، قُلْتُ لَهَا: لِمَنْ أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا لِلْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِكَ "
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب مجھے آسمان کی طرف معراج کرائی گئی تو میں جنت عدن میں داخل ہوا، وہاں میرے ہاتھ میں ایک سیب آ گیا۔ جب میں نے اسے اپنے ہاتھ میں رکھا تو وہ پھٹا اور اس میں سے ایک حور نکلی، بڑی آنکھوں والی، پسندیدہ، جس کی پلکیں عقابوں کے پروں کے اگلے حصے جیسی تھیں۔ میں نے اس سے پوچھا: تم کس کے لیے ہو؟ اس نے کہا: میں تمہارے بعد آنے والے خلیفہ کے لیے ہوں۔“
…