المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الخير مرثد بن عبد الله اليزني، عن عقبة باب: ابوالخیر مرثد بن عبداللہ یزنی کی سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَة، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ الْأَحْيَاءَ وَالْأَمْوَاتَ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: «إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمٍ فَرَطٌ، وَإِنِّي عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمْ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ وَأَنَا فِي مَقَامِي هَذَا، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أنْ تُشْرِكُوا، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا» قَالَ عُقْبَةَ: فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَحَدُهُمَا نَحْوَ حَدِيثِ صَاحِبِهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَسیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آٹھ سال بعد احد کے شہداء پر ایسے نماز جنازہ پڑھی جیسے زندوں اور مُردوں سے الوداع کہہ رہے ہوں، پھر منبر پر چڑھے اور فرمایا: ”میں تم سے پہلے حوض پر پہنچنے والا ہوں اور تم پر گواہ ہوں، اور تمہارے وعدے کی جگہ حوض ہے، اور میں اپنی اسی جگہ پر رہتے ہوئے اسے دیکھ رہا ہوں، مجھے تمہارے بارے میں یہ خدشہ نہیں کہ تم شرک کرو گے، بلکہ مجھے یہ خدشہ ہے کہ تم دنیا کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے۔“ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھنے کا میرا آخری موقع تھا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دونوں (سندوں) میں سے ہر ایک کی روایت دوسرے کی روایت جیسی ہے، اور لیث بن سعد نے ”آٹھ سال بعد“ کا ذکر نہیں کیا۔