حدیث نمبر: 14842
حَدَّثَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو الْمُعَافَى مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنِّي وَاللهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي، وَإِنِّي فِي مَقَامِي، وَإِنَّ سَعَتَهُ لَمَا بَيْنَ الْجُحْفَةِ إِلَى أَيْلَةَ، وَإِنِّي وَاللهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنْ قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَخَزَائِنِ الْأَرْضِ، وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أنْ تَنَافَسُوا فِيهَا» ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے شہداء پر نماز جنازہ پڑھی، پھر واپس آ کر منبر پر بیٹھ گئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں تم سے پہلے حوض پر پہنچنے والا ہوں اور تم پر گواہ ہوں، اللہ کی قسم میں اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور اپنی اسی جگہ کھڑا ہوں، اور اس کی وسعت جحفہ اور ایلہ کے درمیان کے فاصلے کے برابر ہے، اور اللہ کی قسم مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، بلکہ مجھے دنیا اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی جا چکی ہیں اور مجھے صرف یہ خوف ہے کہ تم ان کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے۔“ اس کے بعد آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے اور پھر اپنے گھر سے باہر تشریف نہ لائے یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے آپ کی روح قبض کر لی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14842
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 279، حدیث 770