المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الخير مرثد بن عبد الله اليزني، عن عقبة باب: ابوالخیر مرثد بن عبداللہ یزنی کی سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 14838
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْنَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلَا يَقْرُونَا فَمَاذَا تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ بِحَقِّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ»ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: آپ ہمیں کسی مہم پر بھیجتے ہیں تو ہم کسی قوم کے ہاں اترتے ہیں مگر وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم کے ہاں اترو اور وہ تمہارے لیے مہمان کے حق کے مطابق انتظام کریں تو قبول کر لو، اور اگر ایسا نہ کریں تو ان سے مہمان کا جو حق بنتا ہے وہ خود لے لو۔“