کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: علی بن رباح کی سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ح، وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَا: ثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُ: «ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا، حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ» .
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے تھے جن میں رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھنے یا اپنے مُردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے: جب سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے، جب دوپہر کا وقت ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور جب سورج غروب کے قریب ہو یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14869
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 289، حدیث 797
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: «ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”تین اوقات ایسے تھے جن میں رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھنے یا اپنے مُردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے“ … (آگے وہی حدیث بیان کی جو اوپر مذکور ہوئی)۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14870
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 289، حدیث 798
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ح، وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَا: ثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوِ الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ كُلَّ يَوْمٍ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ وَيَأْخُذَهُمَا؟» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، كُلُّنَا يُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: «أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَتَعَلَمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَأَعْدَادُهُنَّ أَيَّامُ مِنًى مِنَ الْإِبِلِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم اس وقت صفہ میں تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح بطحان یا عقیق جائے اور وہاں سے دو بڑی، خوبصورت اونٹنیاں لے آئے؟“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سب یہ پسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی صبح مسجد نہیں جاتا کہ وہاں سے اللہ کی کتاب کی دو آیتیں سیکھے، جو دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں، اور تین آیتیں تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں، اور چار آیتیں چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں، اور اسی طرح جتنی بھی آیتیں سیکھے وہ اتنے ہی اونٹوں سے بہتر ہیں جتنے منیٰ کے دنوں میں قربان ہونے والے ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14871
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 290، حدیث 799
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ قَبَاثٍ، ح، وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، وَمُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي قَبَاثُ بْنُ رَزِينٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَدَارَسُ الْقُرْآنَ فَقَالَ: «تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللهِ وَأَفْشُوهُ وَتَغَنَّوْا بِهِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، اس وقت ہم قرآن کا مذاکرہ کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب سیکھو اور اسے پھیلاؤ اور اسے خوش الحانی سے پڑھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سینوں سے اس سے بھی زیادہ تیزی سے نکل جاتا ہے جتنی تیزی سے باندھی ہوئی حاملہ اونٹنیاں اپنی رسیوں سے نکل بھاگتی ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14872
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 290، حدیث 800
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَغَنُّوا بِهِ وَاقْتَنُوهُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، اسے خوش الحانی سے پڑھو اور اسے یاد رکھ کر محفوظ رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سینوں سے اس سے بھی زیادہ تیزی سے نکل جاتا ہے جتنی تیزی سے باندھی ہوئی حاملہ اونٹنیاں اپنی رسیوں سے نکل بھاگتی ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14873
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 290، حدیث 801
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي قَبَاثُ بْنُ رَزِينٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14874
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 290، حدیث 802
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ح، وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَا: ثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهُنَّ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یوم عرفہ، یوم نحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14875
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 291، حدیث 803
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَوَضَعَ التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ: مَا يَعْبَأُ اللهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ بَعْدَ هَذَا، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَأْمُرُكَ أَنْ تُرَاجِعَ حَفْصَةَ رَحْمَةً لِعُمَرَ "
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بار سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی۔ جب یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے اپنے سر پر مٹی ڈال لی اور کہا: اے ابن خطاب! اس کے بعد اللہ تجھے کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ اس پر جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ سیدہ حفصہ کو، عمر پر رحمت کی خاطر، نکاح میں واپس لے لیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14876
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 291، حدیث 804
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، أَنَا سَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُبَلِّغُنَا أَيْنَ لِقَاحُنَا؟» فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اسْمُكَ؟» قَالَ: صَخْرٌ أَوْ جَنْدَلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسْ،» ثُمَّ قَالَ: «مَنْ يُبَلِّغُنَا أَيْنَ لِقَاحُنَا؟» ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اسْمُكَ؟» قَالَ: يَعِيشُ قَالَ: «بَلِّغْنَا أَيْنَ لِقَاحُنَا»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کون ہمیں ہماری دودھ دینے والی اونٹنیوں تک پہنچائے گا؟“ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: میں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: صخر یا جندل۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پھر فرمایا: ”کون ہمیں ہماری دودھ دینے والی اونٹنیوں تک پہنچائے گا؟“ ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: میں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: یعیش۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں ہماری دودھ دینے والی اونٹنیوں تک پہنچاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14877
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 292، حدیث 805
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ النَّاسُ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابراہیم (رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے) کی وفات ہوئی تو سورج کو گرہن لگ گیا۔ لوگوں نے کہا: سورج کو ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں گہناتے، جب تم ایسا دیکھو تو نماز کی طرف دوڑو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14878
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 292، حدیث 806
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ، فَإِنَّ اللهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14879
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 293، حدیث 807
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهْ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِ عُمَّالِكُمْ وَشِرَارِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَإِنَّ خِيَارَهُمْ لَكُمْ مَنْ تُحِبُّونَهُ وَيُحِبُّكُمْ وَتَدْعُونَ اللهَ لَهُمْ وَيَدْعُونَ اللهَ لَكُمْ، وَشِرَارُهُمْ شِرَارُهُمْ لَكُمْ مَنْ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَدْعُونَ اللهَ عَلَيْهِمْ وَيَدْعُونَ اللهَ عَلَيْكُمْ» فَقَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَا، دَعُوهُمْ مَا صَامُوا وَصَلُّوا»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے حکمرانوں میں سے اچھے اور برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے ان میں سے اچھے وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں، تم ان کے لیے دعا کرو اور وہ تمہارے لیے دعا کریں، اور تمہارے لیے ان میں سے برے وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں، تم ان پر بددعا کرو اور وہ تم پر بددعا کریں۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ روزہ رکھیں اور نماز پڑھیں انہیں چھوڑے رکھو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14880
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 293، حدیث 808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثَنَا عَمِّي مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَدْتَ أنْ تَغْزُوَ فَاشْتَرِ فَرَسًا أَغَرَّ مُحَجَّلًا مُطْلَقَ الْيُمْنَى، فَإِنَّكَ تَسْلَمُ وَتَغْنَمُ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم جہاد کا ارادہ کرو تو ایسا گھوڑا خریدو جس کی پیشانی سفید ہو اور جس کے پاؤں سفید ہوں سوائے دائیں پاؤں کے، (ایسا کرنے سے) تم سلامت رہو گے اور غنیمت پاؤ گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14881
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 293، حدیث 809
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ يَوْمِ السَّوْءِ، وَمِنْ لَيْلَةِ السَّوْءِ، وَمِنْ سَاعَةِ السَّوْءِ، وَمِنْ صَاحِبِ السَّوْءِ، وَمِنْ جَارِ السَّوْءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں برے دن، بری رات، برے وقت، برے ساتھی اور ہمیشہ رہنے کے گھر میں برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14882
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 294، حدیث 810
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرُّعَيْنِيُّ، وَأَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ الْمُعَوِّذَاتِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14883
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 294، حدیث 811
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اقْرَءُوا الْمُعَوِّذَاتِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14884
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 294، حدیث 812
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْبِجَادَيْنِ: «إِنَّهُ أَوَّاهٌ» وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ اللهِ بِالْقُرْآنِ وَالدُّعَاءِ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالبجادین نامی ایک صحابی کے بارے میں فرمایا: ”یہ بہت آہ و زاری کرنے والا ہے۔“ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قرآن اور دعا کے ذریعے کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14885
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 295، حدیث 813
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِسِبَابٍ عَلَى أَحَدٍ، وَإِنَّمَا أَنْتُمْ بَنُو آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ إِنْ تَمْلَئُوهُ، لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ فَضْلٌ إلَّا بِدِينٍ أَوْ عَمَلٍ صَالِحٍْ، حَسْبُ امْرِئٍ أنْ يَكُونَ فَاحِشًا بَذِيئًا بَخِيلًا حَلَّافًا»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے یہ نسب کسی پر طعنہ زنی کا ذریعہ نہیں ہیں، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور تم سب برابر ہو جیسے ایک ہی ناپ کے صاع کو بھر دیا جائے۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے دین یا نیک عمل کے، آدمی کے لیے یہی کافی برائی ہے کہ وہ بدزبان، بدکلام، بخیل اور کثرت سے قسمیں کھانے والا ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14886
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 295، حدیث 814