کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عُثْمَانَ، ثَنَا سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحُجُّ عَنْ أُمِّي وَقَدْ مَاتَتْ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتِ إنْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِهِ أَلَيْسَ كَانَ مَقْبُولًا مِنْكِ؟» قَالَتْ: بَلَى، «فَأَمَرَهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا» ، وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: أَحُجُّ بِابْنِي وَهُوَ مُرْضَعٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی والدہ کی طرف سے حج کروں، وہ وفات پا چکی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کر دیتیں تو کیا وہ قبول نہ ہوتا؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنی والدہ کی طرف سے حج کرے۔ پھر ایک اور عورت آئی اور عرض کیا: کیا میں اپنے دودھ پیتے بیٹے کو ساتھ لے کر حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتِهِ أَنَّهَا نَذَرَتْ أنْ تَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ لِغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ، لِتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ پیدل چل کر بیت اللہ جائے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس نذر سے بے نیاز ہے، وہ سواری پر جائے اور ایک اونٹ قربان کرے۔“