حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الصَّدَفِيُّ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ الْخَطْمِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «احْتَكَّ بَعْضُ جَسَدِي فَأَدْخَلْتُ يَدِي أَحْتَكُّ فَأَصَابَتْ يَدِي ذَكَرِي» قَالَ: «وَأَنَا أَيْضًا يُصِيبُنِي ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ بن مالک خطمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میرے جسم کے کسی حصے میں کھجلی ہوئی تو میں نے ہاتھ ڈالا کھجانے کے لیے تو میرا ہاتھ میری شرمگاہ سے چھو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بھی ایسا ہو جاتا ہے۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حِمَى فِي الْإِسْلَامِ وَلَا مُنُاجَشَةَ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں (بلاوجہ زمین کو) روک کر رکھنا اور نجش (دھوکے سے بولی بڑھانا) جائز نہیں۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: زَارَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ جِئْنَاهُ بِحِمَارٍ قَحَاطِيٍّ قَطُوفٍ فَرَكِبَهُ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا غُلَامٌ يَأْتِي مَعَكَ يَرُدُّ الدَّابَّةَ قَالَ: «صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ ارْكَبْ وُرَّدَهَا لَنَا، فَذَهَبَ فَرَدَّهُ عَلَيْنَا وَهُوَ هِمْلَاجٌ مَا يُسَايِرُ
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ قباء میں ہماری زیارت کو تشریف لائے، جب واپس جانے کا ارادہ فرمایا تو ہم ایک کاہل و سست رفتار گدھا لے آئے، آپ ﷺ اس پر سوار ہو گئے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ ایک لڑکا آپ کے ساتھ جائے گا تاکہ جانور واپس لے آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جانور کا مالک اس کی اگلی نشست کا زیادہ حق دار ہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ سوار ہو جائیں اور اسے (خود ہی) ہمیں واپس بھیج دیں۔ چنانچہ آپ ﷺ تشریف لے گئے اور اسے ہمیں واپس بھیج دیا، اور اب وہ ایسا ہموار اور تیز چال والا ہو چکا تھا کہ کوئی اس کے ساتھ چل نہیں سکتا تھا۔
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میری امت کے اکثر منافق اس کے قاری (قرآن پڑھنے والے) ہوں گے۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَقَالَ: «يَا حُذَيْفَةُ اسْتُرْنِي» فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَالَ قَائِمًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفِّ وَصَلَّى
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مدینہ کی کسی گلی میں ہمارے پاس سے نکلے، یہاں تک کہ ایک قوم کے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر پہنچے تو فرمایا: ”اے حذیفہ! مجھے چھپاؤ۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگے، پھر پانی منگوا کر وضو کیا، موزوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی۔
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: جَاءَ مَمْلُوكٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ مَوْلَايَ زَوَّجَنِي وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي، قَالَ: فَصَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا الطَّلَاقُ بِيَدِ مَنْ أَخَذَ السَّاقَ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غلام نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے آقا نے میری شادی کرائی تھی اور اب وہ مجھے اور میری بیوی کو جدا کرنا چاہتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا: ”اے لوگو! طلاق کا اختیار اسی کے پاس ہے جس نے (نکاح میں عورت کی) پنڈلی تھامی ہو (یعنی جس نے نکاح کیا ہو)۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنَامَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُعَصْفَرَةٍ فَإِنَّهَا مُحْتَضَرُهُ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی عصفر کے رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے میں ہرگز نہ سوئے، کیونکہ اس میں (شیطان) حاضر ہوتا ہے۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ظَهْرُ الْمُؤْمِنِ حِمًى إِلَّا بِحَقِّهِ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی پیٹھ (کوڑے مارنے سے) محفوظ ہے، سوائے اس کے حق کے۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَلَقِيَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: جِئْتُ أسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَنْ نَدْفَعُ صَدَقَةَ أَمْوَالِنَا إِذَا قَبَضَكَ اللهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَى أَبِي بَكْرٍ» ، فَإِذَا قَبَضَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ فَإلَى مَنْ؟ قَالَ: «عُمَرَ» ، فَإِذَا قَبَضَ اللهُ عُمَرَ فَإلَى مَنْ؟ قَالَ: «إِلَى عُثْمَانَ» ، قَالَ: فَإِذَا قَبَضَ اللهُ عُثْمَانَ فَإلَى مَنْ؟ قَالَ: «انْظُرُوا لِأَنْفُسِكُمْ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ بن مالک خطمی رضی اللہ عنہ اسی سابقہ سند سے بیان کرتے ہیں: خزاعہ (قبیلے) کا ایک شخص آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے ملاقات کی اور پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ اس نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ سے یہ پوچھنے آیا ہوں کہ اگر اللہ آپ کو وفات دے دے تو ہم اپنے مال کا صدقہ کسے دیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کو۔“ اگر اللہ ابوبکر کو بھی وفات دے دے تو کسے دیں؟ فرمایا: ”عمر کو۔“ اگر اللہ عمر کو بھی وفات دے دے تو کسے دیں؟ فرمایا: ”عثمان کو۔“ اگر اللہ عثمان کو بھی وفات دے دے تو کسے دیں؟ فرمایا: ”اپنے معاملات کے لیے خود ہی دیکھ لینا۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ بِإبِلٍ لَهُ فَلَقِيَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ، فَلَقِيَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ: مَا أَقْدَمَكَ؟ قَالَ: قَدِمْتُ بِإِبِلٍ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَقَدَكَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ بِعْتَهَا مِنْهُ بِتَأْخِيرٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ: ارْجِعْ فَقُلْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ مَنْ يَقْضِينِي مَالِي؟ وَانْظُرْ مَا يَقُولُ لَكَ فَارْجِعْ إِلَيَّ حَتَّى تُعْلِمَنِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ فَمَنْ يَقْضِينِي؟ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ» ، فَأَعْلَمَ عَلِيًّا فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ اسْأَلْهُ إِنْ حَدَثَ بِأَبِي بَكْرْ حَدَثٌ فَمَنْ يَقْضِينِي؟ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «عُمَرُ» ، فَجَاءَ فَأَعْلَمَ عَلِيًّا فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ فَسَلْهُ إِذَا مَاتَ عُمَرُ فَمَنْ يَقْضِينِي؟ فَجَاءَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْحَكَ، إِذَا مَاتَ عُمَرُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَمُوتَ فَمُتْ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دیہات کا ایک آدمی اپنے اونٹ لے کر آیا تو رسول اللہ ﷺ اس سے ملے اور اس سے وہ اونٹ خرید لیے۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس سے ملے اور پوچھا: تمہیں کیا چیز یہاں لائی ہے؟ اس نے کہا: میں اونٹ لے کر آیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید لیا۔ انہوں نے پوچھا: کیا آپ ﷺ نے تمہیں نقد قیمت ادا کر دی؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ میں نے انہیں ادھار پر آپ ﷺ کے ہاتھ بیچا ہے۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: واپس جاؤ اور آپ ﷺ سے عرض کرو: یا رسول اللہ! اگر آپ کو کچھ ہو جائے تو میرا مال مجھے کون ادا کرے گا؟ اور دیکھو آپ ﷺ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں، پھر واپس آ کر مجھے بتانا۔ چنانچہ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو کچھ ہو جائے تو میرا قرض کون ادا کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر۔“ اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے کہا: واپس جاؤ اور پوچھو کہ اگر ابوبکر کو کچھ ہو جائے تو میرا قرض کون ادا کرے گا؟ اس نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمر۔“ وہ آیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے کہا: واپس جاؤ اور پوچھو کہ عمر کے مرنے کے بعد میرا قرض کون ادا کرے گا؟ وہ گیا اور پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر افسوس! جب عمر مر جائیں تو اگر تم بھی مر سکو تو مر جانا۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى الظُّهْرَ وَقَعَدَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ يُصَلِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ألَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا يُصَلِّي مَعَهُ؟»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز پڑھ چکے تھے اور مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا کوئی ہے جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے؟“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: نَشَدَ رَجُلٌ ضَالَّتَهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا: «لَا رَدَّ اللهُ عَلَيْكَ ضَالَّتَكَ» وَكَرِهَ أَنْ يَقُولَهَا هُوَ
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے مسجد میں اپنے گمشدہ جانور کا اعلان کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا: ”تم کہو: اللہ تمہاری گمشدہ چیز تمہیں واپس نہ دے“، اور آپ ﷺ نے خود یہ الفاظ کہنا ناپسند فرمایا۔
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلَا يُصَلِّي بَعْدَهَا شَيْئًا حَتَّى يَتَكَلَّمَ أَوْ يَخْرُجَ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھ لے تو اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھے جب تک کہ بات نہ کر لے یا مسجد سے نکل نہ جائے۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فُقِئَتْ عَيْنُهُ فَقَالَ لَهُ: «مَنْ ضَرَبَكَ؟» قَالَ: أَعْوَرُ بَنِي فُلَانٍ فَبَعَثَ فَجَاءَ فَقَالَ: أَنْتَ فَقَأْتَ عَيْنَ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَضَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ وَقَالَ: «لَا تَفْقَأْ عَيْنُهُ تَدَعُهُ غَيْرَ بَصِيرٍ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جس کی آنکھ پھوڑ دی گئی تھی، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تمہیں کس نے مارا؟“ اس نے کہا: فلاں قبیلے کے کانے آدمی نے۔ آپ ﷺ نے اسے بلا بھیجا، وہ آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اس کی آنکھ پھوڑی؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور کہا: ”اس (کانے) کی آنکھ نہیں پھوڑی جائے گی کہ تم اسے بالکل نابینا کر چھوڑو۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: سَرَقَ مَمْلُوكٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ الثَّالِثَةَ فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الرَّابِعَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الْخَامِسَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّادِسَةَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّابِعَةَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّامِنَةَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْبَعٌ بِأَرْبَعٍ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک غلام نے چوری کی، اس کا معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا، پھر دوسری بار آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ اس نے چوری کی تھی تو آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا، پھر تیسری بار پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا، پھر چوتھی بار پیش کیا گیا جبکہ اس نے چوری کی تھی تو آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا، پھر پانچویں بار پیش کیا گیا جبکہ اس نے چوری کی تھی تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پھر چھٹی بار اس کا معاملہ آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کی ٹانگ کاٹنے کا حکم دیا، پھر ساتویں بار پیش کیا گیا تو (دوسرا) ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پھر آٹھویں بار پیش کیا گیا تو (دوسری) ٹانگ کاٹنے کا حکم دیا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چار کے بدلے چار۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: ٢] ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ "
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قراءت کا آغاز ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ سے فرماتے تھے، اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: «كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرْبَةٌ يَمْشِي بِهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا صَلَّى رَكَزَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک نیزہ تھا جو آپ ﷺ کے آگے آگے لے جایا جاتا تھا، اور جب آپ ﷺ نماز پڑھتے تو اسے اپنے سامنے گاڑ دیتے۔
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: شَرَدَ عَلَيْنَا بَعِيرٌ لِيَتِيمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَخْذِهِ، فَجِئْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَامَ مَعَنَا حَتَّى جِئْنَا الْحَائِطَ الَّذِي فِيهِ الْبَعِيرُ، فَلَمَّا رَأَى الْبَعِيرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ حَتَّى سَجَدَ لَهُ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَسْجُدَ لَكَ كَمَا يُسْجَدُ لِلْمُلُوكِ قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ فِي أُمَّتِي، لَوْ كُنْتُ فَاعِلًا لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کے ایک یتیم کا اونٹ ہم سے بدک کر بھاگ گیا اور ہم اسے پکڑ نہ سکے، تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ ہمارے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہم اس باغ میں پہنچے جس میں وہ اونٹ تھا۔ جب اونٹ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو آگے بڑھا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سامنے سجدہ کر دیا، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ ہمیں حکم دیں تو ہم بھی آپ کو سجدہ کریں جیسے بادشاہوں کو سجدہ کیا جاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میری امت میں نہیں ہے، اگر میں ایسا کرتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إنَّا نَمُرُّ فِي هَذِهِ الْأَسْوَاقِ فَنَنْظُرُ إِلَى هَذِهِ الْفَوَاكِهِ فَنَشْتَهِيهَا وَلَيْسَ مَعَنَا فَلْسٌ نَشْتَرِي بِهِ فَهَلْ لَنَا فِي ذَلِكَ أَجْرٌ؟ فَقَالَ: «وَهَلِ الْأَجْرُ إِلَّا فِي ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ان بازاروں سے گزرتے ہیں تو ان پھلوں کو دیکھ کر ان کی خواہش ہوتی ہے، حالانکہ ہمارے پاس خریدنے کے لیے ایک پیسہ بھی نہیں ہوتا، تو کیا اس میں ہمارے لیے کوئی اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اجر تو اسی میں ہے۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْهَدِيَّةُ تَذْهَبُ بِالسَّمْعِ وَالْقَلْبِ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہدیہ (قبول کرنے والے کے) کان اور دل کو لے جاتا ہے (یعنی اسے دینے والے کی طرف مائل کر دیتا ہے)۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ حَرَقُ النَّارِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا: ”مومن کی گمشدہ چیز (بلاوجہ اٹھا لینا) آگ کی طرح جلانے والا عمل ہے۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: لَمَّا مَاتَتْ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي تَحْتَ عُثْمَانَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَوِّجُوا عُثْمَانَ لَو كَانَ لِي ثَالِثَةً لَزَوَّجْتُهُ، وَمَا زَوَّجْتُهُ إِلَّا بِالْوَحْيِ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ کی وہ بیٹی فوت ہوئیں جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عثمان کی شادی کر دو، اگر میری تیسری بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی اسی سے کر دیتا، اور میں نے ان کا نکاح صرف اللہ عزوجل کی وحی سے کیا تھا۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَجَرَى بِهِ فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَقَالَ: «وَجَدْتُهُ بَحْرًا»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک گھوڑے پر سوار ہوئے، اس نے دوڑ لگائی، پھر آپ ﷺ ہماری طرف واپس آئے اور فرمایا: ”میں نے اسے سمندر کی طرح (تیز رفتار) پایا۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَيْهِمْ غَدًا: شَيْخٌ زَانٍ، وَرَجُلٌ اتَّخَذَ الْأَيْمَانَ بِضَاعَةً يَحْلِفُ فِي كُلِّ حَقٍّ وَبَاطِلٍ، وَفَقِيرٌ مُخْتَالٌ مَزْهُوٌّ "
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین آدمی ایسے ہیں جن کی طرف اللہ کل (قیامت کے دن) نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا: بوڑھا زانی، وہ آدمی جس نے قسموں کو (کاروبار کا) ذریعہ بنا رکھا ہو اور ہر حق و باطل بات پر قسم کھاتا ہو، اور مغرور و متکبر فقیر۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اخْتَرْ لِي، فَقَالَ: «اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو صدقہ کی وصولی پر مقرر کیا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے (بہتر بات) پسند فرما دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر میں بیٹھے رہو۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: دَخَلَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمًا الْمَسْجِدَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَنَظَرَ إِلَى الْكَرَاهِيَةِ فِي وُجُوهِهِمْ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لِي إِذَا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ أَرَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وُجُوهِ النَّاسِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النَّاسِ لَنْ تُؤْمِنُوا وَلَنْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ حَتَّى تُحِبُّوا عَبَّاسًا»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور لوگوں کو سلام کیا تو ان کے چہروں پر ناپسندیدگی دیکھی، چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کے گھر لوٹے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کیا ہوا کہ جب میں مسجد میں داخل ہوتا ہوں تو لوگوں کے چہروں پر ناپسندیدگی دیکھتا ہوں؟ تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! تم ہرگز ایمان نہیں لاؤ گے اور ہرگز مومن نہیں بنو گے جب تک عباس سے محبت نہ کرو۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَمْشِي فِي نَعْلَيْهِ فِي الْمَقَابِرِ فَقَالَ: «يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّةِ اخْلَعْ نَعْلَيْكَ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو قبرستان میں جوتے پہنے چلتے دیکھا تو فرمایا: ”اے چمڑے کی جوتیوں والے! اپنے جوتے اتار دو۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ سُبْحَةُ الْحَدِيثِ، وَأَبْغَضُ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ التَّحْدِيفُ، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا سُبْحَةُ الْحَدِيثِ؟ قَالَ: «الْقَوْمُ يَتَحَدَّثُونَ وَالرَّجُلُ يُسَبِّحُ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا التَّحْدِيفُ؟ قَالَ: " الْقَوْمُ يَكُونُونَ بِخَيْرٍ فَيَسْأَلُهُمُ الْجَارُ وَالصَّاحِبُ فَيَقُولُونَ: نَحْنُ بِشَرٍّ يَشْكُونَ "
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل ’سُبحۃ الحدیث‘ ہے، اور سب سے ناپسندیدہ عمل ’تحدیف‘ ہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سُبحۃ الحدیث کیا ہے؟ فرمایا: ”لوگ آپس میں باتیں کر رہے ہوں اور ایک آدمی (اپنی زبان سے) تسبیح کرتا رہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تحدیف کیا ہے؟ فرمایا: ”لوگ اچھی حالت میں ہوں، پھر پڑوسی اور ساتھی ان کا حال پوچھیں تو وہ کہیں: ہم بری حالت میں ہیں، شکوہ کرتے ہوئے (حالانکہ ایسا نہ ہو)۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ارْتَدَّ عَنْ دِينِهِ فَاقْتُلُوهُ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے دین سے پھر جائے اسے قتل کر دو۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ جُمِعَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ مَا أَحْرَقَتْهُ النَّارُ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر قرآن کو کسی چمڑے میں جمع کر دیا جائے تو آگ اسے نہیں جلا سکتی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ، ثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عِصْمَةََ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَحَبَّبَ إِلَى النَّاسِ بِمَا يُحِبُّوهُ وبَارَزَ اللهَ؛ لَقِيَ اللهَ تَعَالَى وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے وہ کام کیا جو وہ پسند کرتے تھے، جبکہ اس میں اللہ کی نافرمانی کی، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ، ثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ذَرَأَ لَكُمْ صَيْدَ الْبَحْرِ»
ترجمہ
سیدنا عصمہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے تمہارے لیے سمندر کا شکار پیدا کیا ہے۔“