حدیث نمبر: 14568
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ سُبْحَةُ الْحَدِيثِ، وَأَبْغَضُ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ التَّحْدِيفُ، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا سُبْحَةُ الْحَدِيثِ؟ قَالَ: «الْقَوْمُ يَتَحَدَّثُونَ وَالرَّجُلُ يُسَبِّحُ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا التَّحْدِيفُ؟ قَالَ: " الْقَوْمُ يَكُونُونَ بِخَيْرٍ فَيَسْأَلُهُمُ الْجَارُ وَالصَّاحِبُ فَيَقُولُونَ: نَحْنُ بِشَرٍّ يَشْكُونَ "
ترجمہ

سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل ’سُبحۃ الحدیث‘ ہے، اور سب سے ناپسندیدہ عمل ’تحدیف‘ ہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سُبحۃ الحدیث کیا ہے؟ فرمایا: ”لوگ آپس میں باتیں کر رہے ہوں اور ایک آدمی (اپنی زبان سے) تسبیح کرتا رہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تحدیف کیا ہے؟ فرمایا: ”لوگ اچھی حالت میں ہوں، پھر پڑوسی اور ساتھی ان کا حال پوچھیں تو وہ کہیں: ہم بری حالت میں ہیں، شکوہ کرتے ہوئے (حالانکہ ایسا نہ ہو)۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14568
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 185، حدیث 496