المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عصمة بن مالك الخطمي باب: سیدنا عصمہ بن مالک خطمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 14542
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: زَارَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ جِئْنَاهُ بِحِمَارٍ قَحَاطِيٍّ قَطُوفٍ فَرَكِبَهُ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا غُلَامٌ يَأْتِي مَعَكَ يَرُدُّ الدَّابَّةَ قَالَ: «صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ ارْكَبْ وُرَّدَهَا لَنَا، فَذَهَبَ فَرَدَّهُ عَلَيْنَا وَهُوَ هِمْلَاجٌ مَا يُسَايِرُترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ قباء میں ہماری زیارت کو تشریف لائے، جب واپس جانے کا ارادہ فرمایا تو ہم ایک کاہل و سست رفتار گدھا لے آئے، آپ ﷺ اس پر سوار ہو گئے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ ایک لڑکا آپ کے ساتھ جائے گا تاکہ جانور واپس لے آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جانور کا مالک اس کی اگلی نشست کا زیادہ حق دار ہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ سوار ہو جائیں اور اسے (خود ہی) ہمیں واپس بھیج دیں۔ چنانچہ آپ ﷺ تشریف لے گئے اور اسے ہمیں واپس بھیج دیا، اور اب وہ ایسا ہموار اور تیز چال والا ہو چکا تھا کہ کوئی اس کے ساتھ چل نہیں سکتا تھا۔