❮
❯
حدیث نمبر: 14555
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: سَرَقَ مَمْلُوكٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ الثَّالِثَةَ فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الرَّابِعَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الْخَامِسَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّادِسَةَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّابِعَةَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّامِنَةَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْبَعٌ بِأَرْبَعٍ»
ترجمہ

سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک غلام نے چوری کی، اس کا معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا، پھر دوسری بار آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ اس نے چوری کی تھی تو آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا، پھر تیسری بار پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا، پھر چوتھی بار پیش کیا گیا جبکہ اس نے چوری کی تھی تو آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا، پھر پانچویں بار پیش کیا گیا جبکہ اس نے چوری کی تھی تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پھر چھٹی بار اس کا معاملہ آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کی ٹانگ کاٹنے کا حکم دیا، پھر ساتویں بار پیش کیا گیا تو (دوسرا) ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پھر آٹھویں بار پیش کیا گیا تو (دوسری) ٹانگ کاٹنے کا حکم دیا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چار کے بدلے چار۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14555
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 182، حدیث 483