المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عصمة بن مالك الخطمي باب: سیدنا عصمہ بن مالک خطمی رضی اللہ عنہ
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ بِإبِلٍ لَهُ فَلَقِيَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ، فَلَقِيَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ: مَا أَقْدَمَكَ؟ قَالَ: قَدِمْتُ بِإِبِلٍ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَقَدَكَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ بِعْتَهَا مِنْهُ بِتَأْخِيرٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ: ارْجِعْ فَقُلْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ مَنْ يَقْضِينِي مَالِي؟ وَانْظُرْ مَا يَقُولُ لَكَ فَارْجِعْ إِلَيَّ حَتَّى تُعْلِمَنِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ فَمَنْ يَقْضِينِي؟ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ» ، فَأَعْلَمَ عَلِيًّا فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ اسْأَلْهُ إِنْ حَدَثَ بِأَبِي بَكْرْ حَدَثٌ فَمَنْ يَقْضِينِي؟ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «عُمَرُ» ، فَجَاءَ فَأَعْلَمَ عَلِيًّا فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ فَسَلْهُ إِذَا مَاتَ عُمَرُ فَمَنْ يَقْضِينِي؟ فَجَاءَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْحَكَ، إِذَا مَاتَ عُمَرُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَمُوتَ فَمُتْ»سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دیہات کا ایک آدمی اپنے اونٹ لے کر آیا تو رسول اللہ ﷺ اس سے ملے اور اس سے وہ اونٹ خرید لیے۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس سے ملے اور پوچھا: تمہیں کیا چیز یہاں لائی ہے؟ اس نے کہا: میں اونٹ لے کر آیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید لیا۔ انہوں نے پوچھا: کیا آپ ﷺ نے تمہیں نقد قیمت ادا کر دی؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ میں نے انہیں ادھار پر آپ ﷺ کے ہاتھ بیچا ہے۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: واپس جاؤ اور آپ ﷺ سے عرض کرو: یا رسول اللہ! اگر آپ کو کچھ ہو جائے تو میرا مال مجھے کون ادا کرے گا؟ اور دیکھو آپ ﷺ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں، پھر واپس آ کر مجھے بتانا۔ چنانچہ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو کچھ ہو جائے تو میرا قرض کون ادا کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر۔“ اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے کہا: واپس جاؤ اور پوچھو کہ اگر ابوبکر کو کچھ ہو جائے تو میرا قرض کون ادا کرے گا؟ اس نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمر۔“ وہ آیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے کہا: واپس جاؤ اور پوچھو کہ عمر کے مرنے کے بعد میرا قرض کون ادا کرے گا؟ وہ گیا اور پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر افسوس! جب عمر مر جائیں تو اگر تم بھی مر سکو تو مر جانا۔“