المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عصمة بن مالك الخطمي باب: سیدنا عصمہ بن مالک خطمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 14566
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: دَخَلَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمًا الْمَسْجِدَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَنَظَرَ إِلَى الْكَرَاهِيَةِ فِي وُجُوهِهِمْ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لِي إِذَا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ أَرَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وُجُوهِ النَّاسِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النَّاسِ لَنْ تُؤْمِنُوا وَلَنْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ حَتَّى تُحِبُّوا عَبَّاسًا»ترجمہ
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور لوگوں کو سلام کیا تو ان کے چہروں پر ناپسندیدگی دیکھی، چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کے گھر لوٹے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کیا ہوا کہ جب میں مسجد میں داخل ہوتا ہوں تو لوگوں کے چہروں پر ناپسندیدگی دیکھتا ہوں؟ تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! تم ہرگز ایمان نہیں لاؤ گے اور ہرگز مومن نہیں بنو گے جب تک عباس سے محبت نہ کرو۔“