حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مَا يَبْلُغُ حَجَّ بَيْتِ اللهِ الْحَرَامِ، فَلَمْ يَحُجَّ، وَمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ الزَّكَاةَ، وَلَمْ يُزَكِّهِ سَأَلَ الرَّجْعَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ» , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: اتَّقِ اللهَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنَّمَا يَسْأَلُ الْكَافِرُ الرَّجْعَةَ، فَقَالَ: «أَنَا اقْرَأُ بِهِ عَلَيْكَ قُرْآنًا {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ} »
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس بیت اللہ کے حج تک پہنچنے کی استطاعت ہو اور وہ حج نہ کرے، اور جس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو اور وہ زکوٰۃ نہ دے، وہ موت کے وقت دنیا میں واپسی مانگے گا۔“ ایک آدمی نے کہا: اللہ سے ڈریں، اے ابوعباس! واپسی تو صرف کافر مانگتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”میں تمہیں اس پر قرآن پڑھ کر سناتا ہوں: ”اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو وہ کہے: اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت کیوں نہ دی؟““
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ أَبِي جَنَابٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مَا يَحُجُّ فَلَمْ يَحُجَّ، أَوْ مَا يُزَكِّهِ فَلَمْ يُزَكِّهِ سَأَلَ الرَّجْعَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ» , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: اتَّقِ اللهَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنَّمَا يَسْأَلُ الرَّجْعَةَ الْكَافِرُ، فَقَالَ: «أَنَا أَقْرَأُ عَلَيْكَ قُرْآنًا {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُنْ مِنَ الصَّالِحِينَ} »
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس حج کرنے کی استطاعت ہو اور وہ حج نہ کرے، یا زکوٰۃ دینے کی استطاعت ہو اور وہ زکوٰۃ نہ دے، وہ موت کے وقت واپسی مانگے گا۔“ ایک آدمی نے کہا: اللہ سے ڈریں، اے ابوعباس! واپسی تو صرف کافر مانگتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”میں تمہیں اس پر قرآن پڑھ کر سناتا ہوں: ”اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو وہ کہے: اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت کیوں نہ دی، تو میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں سے ہو جاتا۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، حَدَّثَنِي رَزِينٌ الْجُرْجَانِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: ٢٤] قَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا، فَسَأَلْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ وَذَكَرْتُ قَوْلَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ يَسْأَلُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ، , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " نَزَلَتْ يَوْمَ خَيْبَرَ لَمَّا فَتْحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةً مِنْهُنَّ قَالَتْ: إِنَّ لِي زَوْجًا , فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: ٢٤] الْآيَةَ يَعْنِي السَّبِيَّةَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ تُصَابُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ " فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , فَقَالَ: صَدَقَ
ترجمہ
راوی رزین جرجانی بیان کرتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے اس آیت ”اور شادی شدہ عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں)“ [النساء: 24] کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر میں نے ضحاک بن مزاحم سے پوچھا اور سعید بن جبیر کا قول بھی ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے انہیں (ضحاک کو) خود ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال پوچھتے سنا ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ آیت خیبر کے دن نازل ہوئی، جب رسول اللہ ﷺ نے فتح حاصل کی تو مسلمانوں کو اہل کتاب کی ایسی عورتیں (بطور قیدی) ملیں جن کے شوہر (کفار میں) موجود تھے، تو جب کوئی آدمی ان میں سے کسی عورت کے پاس جانا چاہتا تو وہ کہتی: میرا شوہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور شادی شدہ عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں)“ [النساء: 24] الآیۃ، یعنی مشرکین کی قیدی عورت، اس سے تعلق قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ بات سعید بن جبیر سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ نَهْشَلٍ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللهِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَلْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي يُطْعَمُ فِيهِ الطَّعَامُ مِنَ الشَّفْرَةِ فِي سَنَامِ الْبَعِيرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس گھر کی طرف بھلائی اس سے زیادہ تیزی سے آتی ہے جس میں کھانا کھلایا جاتا ہے، بہ نسبت اونٹ کے کوہان میں چھری کے (تیزی سے اترنے کے)۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي أَمْلَى عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ الْأَصْلِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عُمَرَ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ كُلِّ ذِي رُوحٍ إِلَّا أَنْ يُؤْذِيَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی بھی جاندار کو قتل کرنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے جو ایذا دے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرَ الْبَجَلِيُّ، أنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: ٣] قَالَ: دَخَلَتْ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهَا وَهُوَ يَطَأُ مَارِيَةَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُخْبِرِي عَائِشَةَ حَتَّى أُبَشِّرَكِ بِبِشَارَةٍ، فَإِنَّ أَبَاكِ يَلِي مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ إِذَا أَنَا مِتُّ» ، فَذَهَبَتْ حَفْصَةُ، فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةَ أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطَأُ مَارِيَةَ وَأَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ يَلِي بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَلِي عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا؟ قَالَ: «نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَا أَنْظُرُ إِلَيْكَ حَتَّى تُحَرِّمَ مَارِيَةَ فَحَرَّمَهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ} [التحريم: ١]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور جب نبی نے اپنی ایک بیوی سے ایک بات راز میں کہی“ [التحریم: 3] کے بارے میں فرماتے ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ (ازدواجی تعلق میں) تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”سیدہ عائشہ کو مت بتانا، تاکہ میں تمہیں ایک خوشخبری دوں: تمہارے والد میرے بعد ابوبکر کے بعد خلیفہ بنیں گے، اگر میں فوت ہو جاؤں۔“ چنانچہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا گئیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ (اس حالت میں) دیکھا، اور یہ بھی بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں بتایا کہ ابوبکر رسول اللہ ﷺ کے بعد خلیفہ بنیں گے اور عمر ان کے بعد۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے کہا: آپ کو یہ کس نے بتایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سب کچھ جاننے والے، خوب خبر رکھنے والے (اللہ) نے بتایا۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کی طرف نہیں دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو اپنے اوپر حرام نہ کر لیں، تو آپ ﷺ نے انہیں حرام کر لیا، اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے نبی! آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ [التحریم: 1]۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَقْتُولُ دُونَ مَالِهِ شَهِيدٌ، وَالْمَقْتُولُ دُونَ أَهْلِهِ شَهِيدٌ، وَالْمَقْتُولُ دُونَ نَفْسِهِ شَهِيدٌ» ،
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے گھر والوں کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے، اور جو اپنی جان کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِثْلَهُ سَوَاءً
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی نبی کریم ﷺ سے بالکل اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي سَعْدٍ الْبَقَّالِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْسِنُوا الْأَصْوَاتَ بِالْقُرْآنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کو اچھی آوازوں سے مزین کرو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِرْدَاسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا جَارِيَةُ بْنُ هَرِمٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ» فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا أَرَادَ بِذَلِكَ؟ قَالَ: «التَّوَسُّعَ عَلَى أُمَّتِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں بغیر کسی عذر کے ظہر اور عصر، اور مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپ ﷺ کا اس سے کیا مقصد تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”اپنی امت پر آسانی پیدا کرنا۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ الْبَلْخِيُّ، ثنا أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، وَأَبِي عَبْدِ اللهِ الْقُشَيْرِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَوْمَ الرِّهَانُ، وَغَدًا السِّبَاقُ، وَالْغَايَةُ الْجَنَّةُ أَوِ النَّارُ، أَنَا الْأَوَّلُ وَأَبُو بَكْرٍ الْمُصَلِّي وَعُمَرُ الثَّالِثُ، وَالنَّاسُ بَعْدُ عَلَى السَّبْقِ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج شرط لگانے کا دن ہے، اور کل دوڑ کا دن ہے، اور منزل جنت یا جہنم ہے، میں سب سے آگے ہوں، ابوبکر دوسرے نمبر پر (میرے قریب) ہیں، اور عمر تیسرے نمبر پر، اور اس کے بعد لوگ پہلے پہلے کی ترتیب سے سبقت پر ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ , مَتَى أُخِذَ مِيثَاقُكَ؟ قَالَ: «وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا میثاق (نبوت کا عہد) کب لیا گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ التَّمَّارُ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ نَهْشَلِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي يَدِهِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ زَوَّجَنِي ابْنَتَهُ، وَأَخْرَجَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنْ إِخَاءُ مَوَدَّةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی کا احسان مجھ پر ابوبکر کے احسان جتنا نہیں، انہوں نے اپنی بیٹی میرے نکاح میں دی، اور مجھے ہجرت کے گھر (مدینہ) کی طرف نکالا۔ اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، لیکن (ہمارے درمیان) قیامت تک باقی رہنے والی دینی محبت و بھائی چارگی ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ يَعْفُورٌ فَعَرِقْتُ «فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا جسے یعفور کہا جاتا تھا، تو مجھے پسینہ آ گیا، تو آپ ﷺ نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْوَحْيِ لَمْ يَفْرُغْ حَتَّى يُزَمَّلَ مِنَ الْوَحْيِ حَتَّى يَتَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَأَوَّلِهِ مَخَافَةَ أَنْ يُغْشَى عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «مَخَافَةَ أَنْ أَنْسَى» ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى}
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جبریل علیہ السلام وحی لے کر آتے تو (نبی کریم ﷺ) فارغ نہ ہوتے یہاں تک کہ وحی کی وجہ سے آپ ﷺ کو لپیٹ دیا جاتا، اور نبی کریم ﷺ وحی کی ابتدا (جلدی جلدی) دہراتے رہتے، اس ڈر سے کہ کہیں آپ ﷺ پر بےہوشی طاری نہ ہو جائے۔ جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ڈر سے کہ میں بھول نہ جاؤں۔“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”ہم تمہیں پڑھائیں گے، پھر تم نہیں بھولو گے“ [الأعلى: 6]۔
حَدَّثَنَا الْمُنْتَصِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ: نَاجَى مُوسَى بِمِائَةِ أَلْفٍ، وَأَرْبَعِينَ أَلْفَ كَلِمَةٍ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَلَمَّا سَمِعَ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ مَقَتَهُمْ لِمَا وَقَعَ فِي مَسَامِعِهِ مِنْ كَلَامِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَانَ فِيمَا نَاجَاهُ بِهِ أَنْ قَالَ: يَا مُوسَى إِنَّهُ لَمْ يَتَصَنَّعِ الْمُتَصَنِّعُونَ بِمِثْلِ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا، وَلَمْ يَتَقَرَّبْ إِلَيَّ الْمُتَقَرِّبُونَ الْمُتَصَنِّعُونَ بِمِثْلِ الْوَرَعِ عَمَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَعَبَّدِ الْمُتَعَبِّدُونَ بِمِثْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خَشْيَتِي، قَالَ مُوسَى: يَا رَبَّ الْبَرِيَّةِ كُلِّهَا , وَيَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ، وَيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ , مَاذَا أَعْدَدْتَ لَهُمْ؟ وَمَاذَا جَزَيْتَهُمْ؟ قَالَ: أَمَّا الزُّهَّادُ فِي الدُّنْيَا فَإِنِّي أُبِيحُهُمْ جَنَّتِي يَتَبَوَّءُونَ مِنْهَا حَيْثُ شَاءُوا، وَأَمَّا الْوَرِعُونَ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةَ لَمْ يَبْقَ عَبْدٌ إِلَّا نَاقَشْتُهُ الْحِسَابَ وَنَقَشْتُهُ إِلَّا الْوَرِعِينَ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ وَأُجِلُّهُمْ وَأُكْرِمُهُمْ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَأَمَّا الْبَكَّاءُونَ مِنْ خَشْيَتِي فَأُولَئِكَ لَهُمُ الرَّفِيعُ الْأَعْلَى لَا يُشَارَكُونَ فِيهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام سے تین دن میں ایک لاکھ چالیس ہزار کلمات میں سرگوشی فرمائی۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے (اپنی قوم کے) انسانوں کی گفتگو سنی تو انہیں ان سے کراہت محسوس ہوئی، اس وجہ سے جو کچھ ان کے کانوں میں رب عزوجل کا کلام پڑ چکا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان سے سرگوشی میں یہ بھی فرمایا: اے موسیٰ! زیب و زینت اختیار کرنے والوں نے دنیا سے زہد جیسی زیب و زینت کبھی اختیار نہیں کی، اور میرا قرب چاہنے والے متقی لوگ حرام کردہ چیزوں سے پرہیز جیسے کسی عمل کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کر سکے، اور عبادت گزاروں نے میرے خوف سے رونے جیسی کسی عبادت کے ذریعے عبادت نہیں کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے تمام مخلوقات کے رب، اے روز جزا کے مالک، اے صاحب جلال و اکرام! تو نے ان کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ اور تو انہیں کیا بدلہ دے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رہے دنیا سے زہد اختیار کرنے والے، تو میں انہیں اپنی جنت میں سے جہاں چاہیں رہنے کی اجازت دوں گا۔ اور رہے حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرنے والے، تو قیامت کے دن ہر بندے کا سخت حساب لیا جائے گا، سوائے پرہیزگاروں کے، کیونکہ میں ان سے شرم کروں گا، انہیں معزز و مکرم رکھوں گا اور بغیر حساب کے جنت میں داخل کروں گا۔ اور رہے میرے خوف سے رونے والے، تو ان کے لیے سب سے بلند مقام ہو گا جس میں ان کا کوئی شریک نہ ہو گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَسْبِقُ الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللهِ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ الْمَقْتُولَ الْمُدْبِرَ إِلَى الْجَنَّةِ بِسَبْعِينَ خَرِيفًا، وَمَرْضَى أُمَّتِي قَبْلَ أَصِحَّائِهِمْ بِسَبْعِينَ خَرِيفًا، وَالْأَنْبِيَاءُ قَبْلَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا لِمَا كَانَ فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں آگے بڑھتے ہوئے (پیٹھ نہ پھیرتے ہوئے) مارا جانے والا، پیٹھ پھیر کر مارے جانے والے سے ستر سال پہلے جنت میں پہنچے گا۔ اور میری امت کے بیمار، تندرستوں سے ستر سال پہلے (پہنچیں گے)۔ اور سلیمان بن داؤد علیہما السلام سے پہلے کے انبیاء، ان کے پاس جو بادشاہت تھی اس کی وجہ سے، ان سے چالیس سال پہلے (پہنچیں گے)۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَةَ أَمْيَالٍ إِلَّا مَعَ زَوْجٍ أَوْ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ» فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: النَّاسُ يَقُولُونُ ثَلَاثَةُ أَيَّامِ. قَالَ: «إِنَّمَا هُوَ وَهْمٌ مِنْهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت تین میل سے زیادہ سفر نہ کرے مگر اپنے شوہر یا کسی محرم کے ساتھ۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: لوگ تو تین دن کہتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ ان کا وہم ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا عَقَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللِّوَاءَ لِعَلِيٍّ يَوْمَ خَيْبَرَ دَعَا لَهُ هُنَيْهَةً , فَقَالَ: «اللهُمَّ أَعِنْهُ، وَأَعِزَّ بِهِ، وَارْحَمْهُ وَارْحَمْ بِهِ، وَانْصُرْهُ وَانْصُرْ بِهِ. اللهُمَّ، وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن علی رضی اللہ عنہ کے لیے جھنڈا باندھا تو کچھ دیر ان کے لیے دعا کی اور فرمایا: ”اے اللہ! اس کی مدد فرما اور اس کے ذریعے (دین کو) عزت دے، اس پر رحم فرما اور اس کے ذریعے رحم فرما، اس کی مدد فرما اور اس کے ذریعے مدد فرما۔ اے اللہ! جو اس سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ، اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ لِلْجَدِّ بْنِ قَيْسٍ: «يَا جِدُّ بْنَ قَيْسٍ مَا تَقُولُ فِي مُجَاهَدَةِ بَنِي الْأَصْفَرِ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنِّي امْرُؤٌ صَاحِبُ نِسَاءٍ، وَمَتَى أَرَى نِسَاءَ بَنِي الْأَصْفَرِ أُفْتَتَنُ فَائْذَنْ لِي فِي الْجُلُوسِ، وَلَا تَفْتِنِّي، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا} [التوبة: ٤٩]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک کے لیے نکلنے کا ارادہ فرمایا تو جد بن قیس سے فرمایا: ”اے جد بن قیس! بنو اصفر (رومیوں) سے جہاد کرنے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں عورتوں کا رسیا آدمی ہوں، اور مجھے خدشہ ہے کہ جب میں بنو اصفر کی عورتوں کو دیکھوں گا تو فتنے میں پڑ جاؤں گا، تو آپ مجھے (گھر) بیٹھنے کی اجازت دیں اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیں۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور ان میں سے کوئی کہتا ہے: مجھے اجازت دیں اور فتنے میں نہ ڈالیں، خبردار! وہ تو فتنے میں پڑ چکے ہیں“ [التوبة: 49]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا} [مريم: ٩٦] قَالَ: «الْمَحَبَّةُ فِي صُدُورِ الْمُؤْمِنِينَ، نَزَلَتْ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللهِ وَجْهَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”عنقریب رحمان ان کے لیے محبت پیدا کر دے گا“ [مریم: 96] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یہ مومنوں کے دلوں میں محبت (پیدا کرنا) ہے، یہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا شَاذَانُ الْبَصْرِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا عَالَ مُقْتَصِدٌ قَطُّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میانہ روی اختیار کرنے والا کبھی محتاج نہیں ہوا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا شَاذَانُ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقَسْرِيُّ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُمَا سِتْرَانِ: الزَّوْجُ، وَالْقَبْرُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو پردے ہیں: شوہر اور قبر۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {فَإِنَّهُمْ لَا يَكْذِبُونَكَ} [الأنعام: ٣٣] مُخَفَّفَةً وَكَذَلِكَ كَانَ يَقْرَؤُهَا قَالَ: «لَا يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ لَا يَكُونَ رَسُولًا، وَلَا عَلَى أَنْ لَا يَكُونَ الْقُرْآنُ قُرْآنًا، فَإِمَّا أَنْ يُكَذِّبُونَكَ بِأَلْسِنَتِهِمْ فَهُمْ يُكَذِّبُونَكَ، وَذَلِكَ إِلَّا كَذَّابٌ، وَذَاكَ التَّكْذِيبُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ”بےشک وہ تجھے جھٹلاتے نہیں“ [الأنعام: 33] — جسے وہ (ابن عباس) تخفیف کے ساتھ پڑھا کرتے تھے — کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وہ اس بات پر قادر نہیں کہ (تم) رسول نہ ہو، اور نہ اس بات پر قادر ہیں کہ قرآن، قرآن نہ رہے۔ ہاں! وہ اپنی زبانوں سے تمہیں جھٹلاتے ہیں، تو وہ (زبانی) تجھے جھٹلاتے ہیں، اور یہ سوائے جھٹلانے کے اور کچھ نہیں، اور یہی وہ تکذیب ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {لَا تَقُولُوا رَاعِنَا} [البقرة: ١٠٤] قَالَ: " كَانُوا يَقُولُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْعَنَا سَمْعَكَ، وَإِنَّمَا رَاعِنَا كَقَوْلِكِ: عَاطِنَا "، {وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ} [النساء: ٤٦] لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُونَ: لَا سَمِعْتَ وَاسْمَعْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا سَمِعْتَ " قَالَ: {وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ} [النساء: ٤٦]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”راعنا مت کہو“ [البقرة: 104] کے بارے میں فرماتے ہیں: لوگ نبی کریم ﷺ سے کہا کرتے تھے: ”ارعنا سمعک“ (ہماری بات پر کان دھریں)، اور راعنا دراصل تمہارے قول ”عاطنا“ (ہمیں دیجیے) جیسا (مشابہ) لفظ تھا۔ اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں (نازل ہونے والے فرمان) ”واسمع غیر مسمع“ [النساء: 46] کے بارے میں فرماتے ہیں: وہ (یہود) کہتے: ”لا سمعت“ (تو نہ سنے)، اور نبی کریم ﷺ کے متعلق کہتے: ”اسمع لا سمعت“۔ فرمایا: ”اور اگر وہ کہتے: ہم نے سنا اور اطاعت کی، اور سنیے اور ہمیں دیکھیے، تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا“ [النساء: 46]۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ نَهْشَلِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً فَغَنِمُوا خَمَّسَ الْغَنِيمَةَ، فَضَرَبَ ذَلِكَ الْخُمُسَ فِي خَمْسَةٍ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ} [الأنفال: ٤١] إِلَى قَوْلِهِ: {لِلَّهِ} [الأنفال: ٤١] مِفْتَاحِ كَلَامٍ {لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} [البقرة: ٢٨٤] فَجَعَلَ سَهْمَ اللهِ وَسَهْمَ الرَّسُولِ وَاحِدًا، {وَلِذِي الْقُرْبَى} [الأنفال: ٤١] فَجَعَلَ هَذَيْنِ السَّهْمَيْنِ قُوَّةً فِي الْخَيْلِ وَالسِّلَاحِ، وَجَعَلَ سَهْمَ الْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِلَّا يُعْطِيهِ غَيْرَهَمْ، وَجَعَلَ الْأَرْبَعَةَ الْأَسْهُمَ الْبَاقِيَةَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِرَاكِبِهِ سَهْمٌ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب کوئی دستہ بھیجتے اور وہ مالِ غنیمت حاصل کرتے تو اس میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالتے، پھر اس خمس کو پانچ حصوں میں تقسیم کرتے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”اور جان لو کہ جو بھی مال تم غنیمت میں حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے“ [الأنفال: 41] ”اللہ کے لیے“ تک — یہ صرف بات کی ابتدا ہے، (جیسے) ”آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے“ [البقرة: 284] (اسی طرح یہاں بھی) — پھر اللہ کا حصہ اور رسول کا حصہ ایک ہی قرار دیا، ”اور قرابت داروں کے لیے“ [الأنفال: 41]، تو ان دونوں حصوں کو گھوڑوں اور اسلحے کی قوت (تیاری) میں لگا دیا، اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حصہ ان کے سوا کسی اور کو نہ دیا، اور باقی چار حصے: گھوڑے کے دو حصے، اس کے سوار کا ایک حصہ، اور پیدل کا ایک حصہ مقرر کیا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، عَنْ نَهْشَلِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَمَانٌ لِأُمَّتِي مِنَ الْغَرَقِ إِذَا رَكِبُوا السُّفُنَ أَنْ يَقُولُوا: بِسْمِ اللهِ الْمَلِكِ {وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ} [الزمر: ٦٧] {بِسْمِ اللهِ مُجْرَاهَا، وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ} [هود: ٤١] "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے لیے ڈوبنے سے امان یہ ہے کہ جب وہ کشتیوں پر سوار ہوں تو کہیں: ”بسم اللہ الملک“، ”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی جیسی قدر پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی، اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک ہے اور بلند ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں“ [الزمر: 67]، ”اللہ کے نام سے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے، بےشک میرا رب بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے“ [هود: 41]۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَكْرٍ السَّرَّاجُ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْجُرْجَانِيُّ، عَنْ نَهْشَلٍ أَبِي عَبْدِ اللهِ الرَّاسِبِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشْرَافُ أُمَّتِي حَمَلَةُ الْقُرْآنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے معزز ترین لوگ قرآن اٹھانے والے (حافظ) ہیں۔“