حدیث نمبر: 12605
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {لَا تَقُولُوا رَاعِنَا} [البقرة: ١٠٤] قَالَ: " كَانُوا يَقُولُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْعَنَا سَمْعَكَ، وَإِنَّمَا رَاعِنَا كَقَوْلِكِ: عَاطِنَا "، {وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ} [النساء: ٤٦] لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُونَ: لَا سَمِعْتَ وَاسْمَعْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا سَمِعْتَ " قَالَ: {وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ} [النساء: ٤٦]
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”راعنا مت کہو“ [البقرة: 104] کے بارے میں فرماتے ہیں: لوگ نبی کریم ﷺ سے کہا کرتے تھے: ”ارعنا سمعک“ (ہماری بات پر کان دھریں)، اور راعنا دراصل تمہارے قول ”عاطنا“ (ہمیں دیجیے) جیسا (مشابہ) لفظ تھا۔ اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں (نازل ہونے والے فرمان) ”واسمع غیر مسمع“ [النساء: 46] کے بارے میں فرماتے ہیں: وہ (یہود) کہتے: ”لا سمعت“ (تو نہ سنے)، اور نبی کریم ﷺ کے متعلق کہتے: ”اسمع لا سمعت“۔ فرمایا: ”اور اگر وہ کہتے: ہم نے سنا اور اطاعت کی، اور سنیے اور ہمیں دیکھیے، تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا“ [النساء: 46]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12605
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 123، حدیث 12659