المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الضحاك، عن ابن عباس باب: ضحاک کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْمُنْتَصِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ: نَاجَى مُوسَى بِمِائَةِ أَلْفٍ، وَأَرْبَعِينَ أَلْفَ كَلِمَةٍ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَلَمَّا سَمِعَ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ مَقَتَهُمْ لِمَا وَقَعَ فِي مَسَامِعِهِ مِنْ كَلَامِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَانَ فِيمَا نَاجَاهُ بِهِ أَنْ قَالَ: يَا مُوسَى إِنَّهُ لَمْ يَتَصَنَّعِ الْمُتَصَنِّعُونَ بِمِثْلِ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا، وَلَمْ يَتَقَرَّبْ إِلَيَّ الْمُتَقَرِّبُونَ الْمُتَصَنِّعُونَ بِمِثْلِ الْوَرَعِ عَمَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَعَبَّدِ الْمُتَعَبِّدُونَ بِمِثْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خَشْيَتِي، قَالَ مُوسَى: يَا رَبَّ الْبَرِيَّةِ كُلِّهَا , وَيَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ، وَيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ , مَاذَا أَعْدَدْتَ لَهُمْ؟ وَمَاذَا جَزَيْتَهُمْ؟ قَالَ: أَمَّا الزُّهَّادُ فِي الدُّنْيَا فَإِنِّي أُبِيحُهُمْ جَنَّتِي يَتَبَوَّءُونَ مِنْهَا حَيْثُ شَاءُوا، وَأَمَّا الْوَرِعُونَ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةَ لَمْ يَبْقَ عَبْدٌ إِلَّا نَاقَشْتُهُ الْحِسَابَ وَنَقَشْتُهُ إِلَّا الْوَرِعِينَ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ وَأُجِلُّهُمْ وَأُكْرِمُهُمْ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَأَمَّا الْبَكَّاءُونَ مِنْ خَشْيَتِي فَأُولَئِكَ لَهُمُ الرَّفِيعُ الْأَعْلَى لَا يُشَارَكُونَ فِيهِ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام سے تین دن میں ایک لاکھ چالیس ہزار کلمات میں سرگوشی فرمائی۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے (اپنی قوم کے) انسانوں کی گفتگو سنی تو انہیں ان سے کراہت محسوس ہوئی، اس وجہ سے جو کچھ ان کے کانوں میں رب عزوجل کا کلام پڑ چکا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان سے سرگوشی میں یہ بھی فرمایا: اے موسیٰ! زیب و زینت اختیار کرنے والوں نے دنیا سے زہد جیسی زیب و زینت کبھی اختیار نہیں کی، اور میرا قرب چاہنے والے متقی لوگ حرام کردہ چیزوں سے پرہیز جیسے کسی عمل کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کر سکے، اور عبادت گزاروں نے میرے خوف سے رونے جیسی کسی عبادت کے ذریعے عبادت نہیں کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے تمام مخلوقات کے رب، اے روز جزا کے مالک، اے صاحب جلال و اکرام! تو نے ان کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ اور تو انہیں کیا بدلہ دے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رہے دنیا سے زہد اختیار کرنے والے، تو میں انہیں اپنی جنت میں سے جہاں چاہیں رہنے کی اجازت دوں گا۔ اور رہے حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرنے والے، تو قیامت کے دن ہر بندے کا سخت حساب لیا جائے گا، سوائے پرہیزگاروں کے، کیونکہ میں ان سے شرم کروں گا، انہیں معزز و مکرم رکھوں گا اور بغیر حساب کے جنت میں داخل کروں گا۔ اور رہے میرے خوف سے رونے والے، تو ان کے لیے سب سے بلند مقام ہو گا جس میں ان کا کوئی شریک نہ ہو گا۔“