المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الضحاك، عن ابن عباس باب: ضحاک کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12600
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ لِلْجَدِّ بْنِ قَيْسٍ: «يَا جِدُّ بْنَ قَيْسٍ مَا تَقُولُ فِي مُجَاهَدَةِ بَنِي الْأَصْفَرِ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنِّي امْرُؤٌ صَاحِبُ نِسَاءٍ، وَمَتَى أَرَى نِسَاءَ بَنِي الْأَصْفَرِ أُفْتَتَنُ فَائْذَنْ لِي فِي الْجُلُوسِ، وَلَا تَفْتِنِّي، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا} [التوبة: ٤٩]ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک کے لیے نکلنے کا ارادہ فرمایا تو جد بن قیس سے فرمایا: ”اے جد بن قیس! بنو اصفر (رومیوں) سے جہاد کرنے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں عورتوں کا رسیا آدمی ہوں، اور مجھے خدشہ ہے کہ جب میں بنو اصفر کی عورتوں کو دیکھوں گا تو فتنے میں پڑ جاؤں گا، تو آپ مجھے (گھر) بیٹھنے کی اجازت دیں اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیں۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور ان میں سے کوئی کہتا ہے: مجھے اجازت دیں اور فتنے میں نہ ڈالیں، خبردار! وہ تو فتنے میں پڑ چکے ہیں“ [التوبة: 49]۔