المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الضحاك، عن ابن عباس باب: ضحاک کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، حَدَّثَنِي رَزِينٌ الْجُرْجَانِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: ٢٤] قَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا، فَسَأَلْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ وَذَكَرْتُ قَوْلَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ يَسْأَلُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ، , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " نَزَلَتْ يَوْمَ خَيْبَرَ لَمَّا فَتْحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةً مِنْهُنَّ قَالَتْ: إِنَّ لِي زَوْجًا , فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: ٢٤] الْآيَةَ يَعْنِي السَّبِيَّةَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ تُصَابُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ " فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , فَقَالَ: صَدَقَراوی رزین جرجانی بیان کرتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے اس آیت ”اور شادی شدہ عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں)“ [النساء: 24] کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر میں نے ضحاک بن مزاحم سے پوچھا اور سعید بن جبیر کا قول بھی ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے انہیں (ضحاک کو) خود ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال پوچھتے سنا ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ آیت خیبر کے دن نازل ہوئی، جب رسول اللہ ﷺ نے فتح حاصل کی تو مسلمانوں کو اہل کتاب کی ایسی عورتیں (بطور قیدی) ملیں جن کے شوہر (کفار میں) موجود تھے، تو جب کوئی آدمی ان میں سے کسی عورت کے پاس جانا چاہتا تو وہ کہتی: میرا شوہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور شادی شدہ عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں)“ [النساء: 24] الآیۃ، یعنی مشرکین کی قیدی عورت، اس سے تعلق قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ بات سعید بن جبیر سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا۔