حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَلَّى عَلَى بِسَاطٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک چٹائی پر نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا آدَمُ، ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَعِينُوا بقائلةِ النَّهَارِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ، وبأَكْلِ السَّحَرِ عَلَى صِيَامِ النَّهَارِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رات کے قیام کے لیے دن کی قیلولہ سے مدد لو، اور دن کے روزے کے لیے سحری کھانے سے مدد لو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِمْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا» يَعْنِي إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ مِنْ سَفَرٍ لَا يَأْتِي أَهْلَهُ إِلَّا نَهَارًا، قَالَ: فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا مِنْ سَفَرٍ، وَذَهَبَ رَجُلَانِ فَسَبَقَا بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيَا أَهْلَيْهِمَا فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رات کے وقت عورتوں پر اچانک وارد نہ ہوا کرو۔“ یعنی جب تم میں سے کوئی سفر سے واپس آئے تو اپنے گھر والوں کے پاس دن ہی میں جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے، تو دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد (جلدی میں) آگے بڑھ گئے اور اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ گئے، تو ان میں سے ہر ایک نے اپنی بیوی کے ہاں ایک اجنبی مرد کو پایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ الْأُمَوِيِّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْهُذَيْلُ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَوْتُ الْغَرِيبِ شَهَادَةٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پردیسی کی موت شہادت ہے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَشِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، قَالُوا: ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ مِنْ قَابِلٍ، وَعُمْرَتَهُ مِنَ الْجِعْرَانَةِ الثَّالِثَةَ، وَعُمْرَتَهُ الرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کیے: عمرۃ الحدیبیہ، اگلے سال عمرۃ القضاء، جعرانہ سے تیسرا عمرہ، اور چوتھا عمرہ جو آپ کے حج کے ساتھ تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تُوُفِّيَتْ أُمِّي وَلَمْ تُوصِ أَفَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری ماں فوت ہو گئیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی، کیا انہیں فائدہ ہو گا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَقَالَ: إِنَّ لِي مَخْرَفَةً فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا عَنْهَا. قَالَ رَوْحٌ: الْمخرفةُ النَّخْلُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ اس کی ماں فوت ہو گئی ہیں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا اگر وہ ان کی طرف سے صدقہ کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے عرض کیا: میرے پاس ایک باغ (مخرفہ) ہے، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے وہ ان کی طرف سے صدقہ کر دیا۔ (راوی) روح کہتے ہیں: مخرفہ سے مراد کھجور کا باغ ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَازُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ، قَالَ: لَمَّا انْصَرَفَ أَبُو سُفْيَانَ وَالْمُشْرِكُونَ عَنْ أَحَدٍ، وَبَلَغُوا الرَّوْحَاءَ، قَالُوا: لَا مُحَمَّدًا قَتَلْتُمْ، وَلَا الْكواعبَ أَرْدَفْتُمْ، شَرٌّ مَا صَنَعْتُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبُوا حَتَّى بَلَغُوا حَمْرَاءَ الْأَسَدِ أَوْ بِئْرَ أَبِي عُيَيْنَةَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَللرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ} وَقَدْ كَانَ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَوْعِدُكَ مَوْسِمُ بَدْرٍ حَيْثُ قَتَلْتُمْ أَصْحَابَنَا فَأَمَّ الْجَبَانُ فَرَجَعَ، وَأَمَّا الشُّجَاعُ فَأَخَذَ أُهْبَةَ الْقِتَالِ وَالتِّجَارَةِ فَأَتَوْهُ، فَلَمْ يَجِدُوا بِهِ أَحَدًا وتَسَوَّقُوا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللهِ وَفَضَلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ} [آل عمران: ١٧٤] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب ابوسفیان اور مشرکین احد سے واپس لوٹے اور روحاء پہنچے تو کہنے لگے: نہ تم نے محمد کو قتل کیا اور نہ نوجوان عورتوں کو ساتھ لائے، تم نے بہت برا کیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو (ان کے تعاقب کے لیے) پکارا، چنانچہ وہ روانہ ہو گئے یہاں تک کہ حمراء الاسد یا بئرِ ابی عیینہ پہنچے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہا...“ اور ابوسفیان نے نبی کریم ﷺ سے کہا تھا: ”ہمارا وعدہ بدر کے میلے پر ہے، جہاں تم نے ہمارے ساتھیوں کو قتل کیا تھا۔“ چنانچہ بزدل واپس لوٹ گیا، اور بہادر نے لڑائی اور تجارت دونوں کا سامان اٹھایا اور چل پڑا، تو انہیں وہاں کوئی نہ ملا اور انہوں نے تجارت کی، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”پس وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے، انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچی“ [سورۃ آلِ عمران: 174]۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُعْضَدُ عِضَاهُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُخَلَّى خَلَاهَا، وَلَا يَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ» قَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے خاردار درخت نہ کاٹے جائیں، اس کا شکار نہ بھگایا جائے، اس کی گھاس نہ اکھاڑی جائے، اور اس کی گری ہوئی چیز صرف اعلان کرنے والے کے لیے حلال ہے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: سوائے اذخر کے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا طَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَلَمْ يَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ بحرمِ اللهِ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا» فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے مکہ کو حرمت والا بنایا ہے، اور یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئی، اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال کی جائے گی، صرف میرے لیے دن کی ایک گھڑی حلال کی گئی تھی، پھر وہ اللہ کی حرمت کے ساتھ ویسی ہی حرام ہے: نہ اس کے درخت کاٹے جائیں، نہ اس کا شکار بھگایا جائے، نہ اس کی گھاس اکھاڑی جائے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: سوائے اذخر کے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى مَنْ دَمَا وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا غضب اس شخص پر سخت ہوا جسے رسول اللہ ﷺ نے قتل کیا، اور اس شخص پر بھی جس نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک لہولہان کیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «اسْتَحَلَّ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ بِبُدْنٍ مِنْ حَدِيدٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایک لوہے کی زرہ کے عوض حلال کیا (یعنی مہر میں دی)۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوْزَاءِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنِهَ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ يَرَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی قوم کی بات سنے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا، اور جو اپنی آنکھوں سے خواب میں ایسا کچھ دیکھنے کا دعویٰ کرے جو اس نے نہیں دیکھا تو اسے (ایک ناممکن کام) جو کے دانے کو باریکی سے باندھنے کا مکلف کیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَجُلًا فَقَالَ: «أَيْنَ نَزَلْتَ؟» فَقَالَ: عَلَى فُلَانَةَ، فَقَالَ: «أَغْلَقَتْ عَلَيْكَ بَابَهَا؟» فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا: ”تم کہاں ٹھہرے؟“ اس نے کہا: فلاں عورت کے ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس نے تم پر اپنا دروازہ بند کر لیا تھا؟“ رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو ناپسند فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَزَلْتَ عَلَى فُلَانَةَ وَدَخَلْتَ عَلَيْهَا؟» فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص سفر سے آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم فلاں عورت کے ہاں ٹھہرے اور اس کے پاس گئے؟“ رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو ناپسند فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَشَّارٍ النَّسَائِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَجِبْتُ لصبرِ أَخِي يُوسُفَ وكَرَمِهِ وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ حَيْثُ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ليُسْتَفْتَى فِي الرُّؤْيَا، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أَفْعَلْ حَتَّى أَخْرُجَ، وعَجِبْتُ لصَبْرِهِ وكَرَمِهِ وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ أُتِي لِيَخْرُجَ فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى أَخْبَرَهُمْ بِعُذْرِهِ، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لبادرتُ الْبَابَ، وَلَوْلَا الْكَلِمَةُ لَمَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ حَيْثُ يَبْتَغِي الْفَرَجَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ قَوْلُهُ: {اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ} [يوسف: ٤٢] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کے صبر اور کرم پر تعجب ہے، اللہ انہیں معاف فرمائے، جب انہیں خواب کی تعبیر پوچھنے کے لیے بلایا گیا تو وہ (فوراً چل پڑے)، اگر میں ہوتا تو قید سے نکلے بغیر ایسا نہ کرتا۔ اور مجھے ان کے صبر اور کرم پر تعجب ہے، اللہ انہیں معاف فرمائے، انہیں (رہائی کے لیے) بلایا گیا تو وہ نہ نکلے جب تک انہوں نے اپنا عذر (اپنی برأت کی تحقیق) نہ بتا دیا، اگر میں ہوتا تو دروازے کی طرف جلدی کرتا۔ اور اگر وہ بات (بادشاہ کے ساتھی سے کہنا) نہ ہوتی تو وہ اتنی دیر قید میں نہ رہتے، کیونکہ انہوں نے اللہ کے سوا کسی اور سے فریاد رسی چاہی تھی، ان کا قول: مجھے اپنے بادشاہ کے سامنے یاد کر دینا [سورۃ یوسف: 42]۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: ٦٠] قَالَ: «هِيَ رُؤْيَا رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، وَلَيْسَتْ بِرُؤْيَا مَنَامٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اور ہم نے وہ رؤیا جو ہم نے تمہیں دکھائی، لوگوں کے لیے آزمائش ہی بنایا“ [سورۃ الاسراء: 60]، فرمایا: ”یہ وہ رؤیا ہے جو نبی کریم ﷺ نے شبِ معراج دیکھی، یہ خواب کی رؤیا نہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كُسِفَ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: سُحِرَ الْقَمَرُ فَنَزَلَتْ {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ} [القمر: ١] الْقَمَرُ إِلَى قَوْلِهِ {مُسْتَمِرٌّ} [القمر: ٢] ".
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے دور میں چاند گرہن ہوا تو لوگوں نے کہا: چاند پر جادو کر دیا گیا ہے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں: ”قیامت قریب آ گئی اور چاند شق ہو گیا“ سے ”مستمر“ تک [سورۃ القمر: 1-2]۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہوا۔ پھر راوی نے اسی طرح کی تفصیل بیان کی جیسی ابن جریج کی روایت میں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى فَاطِمَةَ يَوْمَ أَحَدٍ فَقَالَ: خُذِي هَذَا السَّيْفَ غَيْرَ ذميمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَئِنْ كُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ لَقَدْ أَحْسَنَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ وَأَبُو دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ احد کے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: یہ تلوار لے لو، یہ بے عیب ہے (یعنی اس سے خوب لڑائی ہوئی)۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے اچھی لڑائی کی ہے تو سہل بن حنیف اور ابودجانہ سماک بن خرشہ نے بھی اچھی لڑائی کی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْمُنْتَصِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَمَّالُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَدِمَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ وَكَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ مَكَّةَ عَلَى قُرَيْشٍ فَحَالَفُوهُمْ عَلَى قِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لَهُمْ: أَنْتُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ الْقَدِيمِ، وَأَهْلُ الْكِتَابِ فَأَخْبِرُونَا عَنَّا وَعَنْ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: وَمَا أَنْتُمْ وَمَا مُحَمَّدٌ؟ قَالُوا: نَحْنُ نَنْحَرُ الْكَوْمَاءَ، وَنَسْقِي اللَّبَنَ عَلَى الْمَاءِ، ونَفُكُّ الْعناةَ، وَنَسْقِي الْحَجِيجَ، ونَصِلُ الْأَرْحَامَ، قَالُوا: فَمَا مُحَمَّدٌ؟ قَالُوا: صنبورٌ قَطَعَ أَرْحامَنا، وَاتَّبَعَهُ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ بَنُو غِفَارٍ، قَالُوا: بَلْ أَنْتُمْ خَيْرٌ مِنْهُ، وَأَهْدَى سَبِيلًا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ} [النساء: ٥١] " إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حُیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ آ کر قریش کے پاس پہنچے اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف لڑنے پر ان کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ قریش نے ان سے کہا: تم اہلِ علمِ قدیم اور اہلِ کتاب ہو، ہمیں ہمارے اور محمد کے بارے میں بتاؤ۔ انہوں (یہودیوں) نے کہا: اچھا تم خود کیا ہو اور محمد کیا ہے، پہلے یہ بتاؤ؟ قریش نے کہا: ہم موٹے تازے اونٹ ذبح کرتے ہیں، دودھ میں پانی ملا کر پلاتے ہیں، قیدیوں کو آزاد کراتے ہیں، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: اور محمد کیا ہے؟ قریش نے کہا: وہ ایک بے نسل، کٹا ہوا شخص ہے جس نے ہمارے رشتے کاٹ ڈالے ہیں، اور اس کے پیچھے حاجیوں کو لوٹنے والے بنو غفار لگ گئے ہیں۔ اس پر انہوں (یہودیوں) نے کہا: بلکہ تم اس سے بہتر اور زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ جبت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں...“ [سورۃ النساء: 51] آخر آیت تک۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ خُوَارٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ مَا يَكْفِي مِنَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَ: صَاعٌ وَمُدٌّ لِلْوُضُوءِ فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يَكْفِينِي قَالَ: «لَا أُمَّ لَكَ فَيَكْفِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
عکرمہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: غسل کے لیے کتنا پانی کافی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ایک صاع، اور وضو کے لیے ایک مد۔ اس شخص نے کہا: میرے لیے تو یہ کافی نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے! یہ تو اس ذات کے لیے کافی تھا جو تجھ سے بہتر تھی، یعنی رسول اللہ ﷺ کے لیے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْجَارُودِيِّ الْأَصْبَهَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَا: ثنا مَالِكُ بْنُ سَعْدٍ الْقَيْسِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللهُ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَلَعَنَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں، اور ان عورتوں پر بھی لعنت کی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْأَدَمِيُّ الشِّيرَازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَكِيمٍ الرَّازِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كُنَّا نَأْكُلُ وَنَشْرَبُ، وَنَغْتَسِلُ ونخرجُ، ثُمَّ نَخْرُجُ إِلَى الْمُصَلَّى»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم کھاتے پیتے، غسل کرتے اور نکلتے، پھر عیدگاہ کی طرف نکل جاتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، ثنا مَنِيعُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَبْدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَأْكُلُ بِعَرَفَةَ زَمَانًا وَيَقُولُ: «لَمْ يَصُمْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ»
ترجمہ
عکرمہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو عرفہ کے دن ایک عرصے تک کھاتے ہوئے دیکھا، اور وہ فرماتے: ”نہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن روزہ رکھا، نہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، نہ عمر رضی اللہ عنہ نے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَأَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنَّمَا أُمِرَ الرَّجُلُ أَنْ يُصَبِّرَ نَفْسَهُ الْعَشَرَةُ لِمِائَةٍ إِذِ الْمُسْلِمُونَ قَلِيلٌ، فَلَمَّا كَثُرَ الْمُسْلِمُونَ أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الرَّجُلَ أَنْ يَصْبِرَ لِلرَّجُلَيْنِ، وَالْعِشْرَةَ للعشرينَ وَالْمِائَةَ لِلْمِئَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ابتداء میں ایک آدمی کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ سو کے مقابلے میں دس (دشمنوں) کے سامنے ثابت قدم رہے، کیونکہ مسلمان تھوڑے تھے، پھر جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی تو اللہ عزوجل نے حکم دیا کہ ایک آدمی دو کے مقابلے میں، دس بیس کے مقابلے میں اور سو دو سو کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبِي، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَوَّلُ مَا أُوحِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قِيلَ لَهُ: اسْتَتِرْ، فَمَا رُئِيَتْ عَوْرَتُهُ بَعْدُ ذَلِكَ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلی وحی میں یہ کہا گیا کہ ستر پوشی اختیار کرو، چنانچہ اس کے بعد آپ ﷺ کا ستر کبھی ظاہر نہیں ہوا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَكِيعِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَبْشِرًا فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ زَادَكُمْ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ خوش خوش باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”اللہ عزوجل نے تمہارے لیے ایک نماز اور بڑھا دی ہے، اور وہ وتر ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فَاشْرَبُوا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب زیارت کیا کرو، مگر نازیبا بات نہ کہو۔ اور میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن کے بعد رکھنے سے منع کیا تھا، اب کھاؤ اور ذخیرہ کرو۔ اور میں نے تمہیں نبیذ سے منع کیا تھا، اب پیو، مگر نشہ آور چیز مت پیو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں جوتوں سمیت نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دھوکے (غرر) کی بیع سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتٍ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا إِزَارٌ فَطَرَحَهُ بَيْنَ رِجْلَيْهِ وَفَخِذَاهُ خارجتانِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَأَذِنَ لَهُ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مُسْرِعًا حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى عَائِشَةَ، فَلَمَّا خَرَجَ الْقَوْمُ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلَمْ تُغَيِّرْ عَنْ حَالِكَ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ قُمْتَ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ أَلَا أَسْتَحِي مِمَّنْ تَسْتَحْي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَسْتَحْي مِنْ عُثْمَانَ»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ جلدی سے اٹھے یہاں تک کہ گھر میں داخل ہو گئے، عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات گراں گزری، جب لوگ چلے گئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوبکر اور عمر آئے تو آپ نے اپنی حالت نہ بدلی، لیکن جب عثمان آئے تو آپ کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟ بے شک فرشتے عثمان سے حیا کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، قَالَا: ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ» زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ فِي حَدِيثِهِ: فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ. قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ فِي حَدِيثِهِ: «اللهُمَّ أَعَزَّ الْإِسْلَامَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! عمر بن خطاب یا ابوجہل بن ہشام کے ذریعے اسلام کو تقویت دے۔“ ابوکریب نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ اگلی صبح عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اسی دن اسلام لے آئے۔ ابوکریب نے اپنی روایت میں (دعا کے الفاظ) یوں بیان کیے: ”اے اللہ! اسلام کو عزت دے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ سَهْلٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا صَلَّى خَلْفَ الصُّفُوفِ وَحْدَهُ «فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے صفوں کے پیچھے اکیلے نماز پڑھی، تو نبی کریم ﷺ نے اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِدْرِيسَ الْخشكيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ قَالَ الْقَوْمُ: انْتَصَفَ الْقَوْمُ مِنَّا "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگوں نے کہا: اب (مسلمانوں نے) ہم سے برابری کر لی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ} [الأحقاف: ٢٩] الْآيَةَ قَالَ: «كَانُوا تِسْعَةَ نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ نَصِيبِينَ» فَجَعَلَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اور جب ہم نے جنوں میں سے ایک جماعت کو تمہاری طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن سنیں، پھر جب وہ اس کے پاس حاضر ہوئے...“ [سورۃ الاحقاف: 29]، فرمایا: ”وہ نصیبین کے رہنے والوں میں سے نو افراد تھے۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ان کی قوم کی طرف پیغام رساں بنا کر بھیجا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، أَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «آخِرُ جَنَازَةٍ صَلَّى عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: آخری جنازہ جس پر نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھی، اس پر آپ نے چار تکبیریں کہیں۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الْفَزَارِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، ثنا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «فِي أَوَّلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَسْمَعُ صِغَارُهُمْ مِنْ كِبَارِهِمْ، وَفِي آخِرِهَا يَسْمَعُ كِبَارُهُمْ مِنْ صِغَارِهِمْ» قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «لِأَنَّ الصِّغَارُ سَمِعُوا وَلَمْ يَسْمَعِ الْكِبَارُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس امت کے آغاز میں اس کے چھوٹے بڑوں سے سنیں گے، اور اس کے آخر میں اس کے بڑے چھوٹوں سے سنیں گے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: ایسا کیوں ہے؟ فرمایا: ”کیونکہ چھوٹوں نے سنا تھا اور بڑوں نے نہیں سنا تھا۔“
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ، فَكَانَ يُرْسِلُ مَعَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ كُلَّ يَوْمٍ رِجَالًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ يَحْرُسُونَهُ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ} [المائدة: ٦٧] إِلَى قَوْلِهِ {وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ} [المائدة: ٦٧] ، فَأَرَادَ عَمُّهُ أَنْ يُرْسِلَ مَعَهُ مَنْ يَحْرُسُهُ فَقَالَ: «يَا عَمِّ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ عَصَمَنِي مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ»
ترجمہ
…یہ آیت نازل ہوئی: ”اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ پہنچا دیں“ سے ”اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا“ تک [سورۃ المائدہ: 67]، تو آپ کے چچا نے چاہا کہ آپ کے ساتھ کوئی محافظ بھیج دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے چچا! اللہ عزوجل نے مجھے جن و انس سے محفوظ فرما دیا ہے۔“
…