حدیث نمبر: 11595
حَدَّثَنَا الْمُنْتَصِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَمَّالُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَدِمَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ وَكَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ مَكَّةَ عَلَى قُرَيْشٍ فَحَالَفُوهُمْ عَلَى قِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لَهُمْ: أَنْتُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ الْقَدِيمِ، وَأَهْلُ الْكِتَابِ فَأَخْبِرُونَا عَنَّا وَعَنْ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: وَمَا أَنْتُمْ وَمَا مُحَمَّدٌ؟ قَالُوا: نَحْنُ نَنْحَرُ الْكَوْمَاءَ، وَنَسْقِي اللَّبَنَ عَلَى الْمَاءِ، ونَفُكُّ الْعناةَ، وَنَسْقِي الْحَجِيجَ، ونَصِلُ الْأَرْحَامَ، قَالُوا: فَمَا مُحَمَّدٌ؟ قَالُوا: صنبورٌ قَطَعَ أَرْحامَنا، وَاتَّبَعَهُ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ بَنُو غِفَارٍ، قَالُوا: بَلْ أَنْتُمْ خَيْرٌ مِنْهُ، وَأَهْدَى سَبِيلًا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ} [النساء: ٥١] " إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حُیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ آ کر قریش کے پاس پہنچے اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف لڑنے پر ان کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ قریش نے ان سے کہا: تم اہلِ علمِ قدیم اور اہلِ کتاب ہو، ہمیں ہمارے اور محمد کے بارے میں بتاؤ۔ انہوں (یہودیوں) نے کہا: اچھا تم خود کیا ہو اور محمد کیا ہے، پہلے یہ بتاؤ؟ قریش نے کہا: ہم موٹے تازے اونٹ ذبح کرتے ہیں، دودھ میں پانی ملا کر پلاتے ہیں، قیدیوں کو آزاد کراتے ہیں، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: اور محمد کیا ہے؟ قریش نے کہا: وہ ایک بے نسل، کٹا ہوا شخص ہے جس نے ہمارے رشتے کاٹ ڈالے ہیں، اور اس کے پیچھے حاجیوں کو لوٹنے والے بنو غفار لگ گئے ہیں۔ اس پر انہوں (یہودیوں) نے کہا: بلکہ تم اس سے بہتر اور زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ جبت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں...“ [سورۃ النساء: 51] آخر آیت تک۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11595
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 251، حدیث 11645