حدیث نمبر: 11612
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الْفَزَارِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، ثنا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «فِي أَوَّلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَسْمَعُ صِغَارُهُمْ مِنْ كِبَارِهِمْ، وَفِي آخِرِهَا يَسْمَعُ كِبَارُهُمْ مِنْ صِغَارِهِمْ» قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «لِأَنَّ الصِّغَارُ سَمِعُوا وَلَمْ يَسْمَعِ الْكِبَارُ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس امت کے آغاز میں اس کے چھوٹے بڑوں سے سنیں گے، اور اس کے آخر میں اس کے بڑے چھوٹوں سے سنیں گے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: ایسا کیوں ہے؟ فرمایا: ”کیونکہ چھوٹوں نے سنا تھا اور بڑوں نے نہیں سنا تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11612
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 256، حدیث 11662