المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11584
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا طَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَلَمْ يَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ بحرمِ اللهِ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا» فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے مکہ کو حرمت والا بنایا ہے، اور یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئی، اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال کی جائے گی، صرف میرے لیے دن کی ایک گھڑی حلال کی گئی تھی، پھر وہ اللہ کی حرمت کے ساتھ ویسی ہی حرام ہے: نہ اس کے درخت کاٹے جائیں، نہ اس کا شکار بھگایا جائے، نہ اس کی گھاس اکھاڑی جائے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: سوائے اذخر کے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے۔“