حدیث نمبر: 11590
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَشَّارٍ النَّسَائِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَجِبْتُ لصبرِ أَخِي يُوسُفَ وكَرَمِهِ وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ حَيْثُ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ليُسْتَفْتَى فِي الرُّؤْيَا، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أَفْعَلْ حَتَّى أَخْرُجَ، وعَجِبْتُ لصَبْرِهِ وكَرَمِهِ وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ أُتِي لِيَخْرُجَ فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى أَخْبَرَهُمْ بِعُذْرِهِ، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لبادرتُ الْبَابَ، وَلَوْلَا الْكَلِمَةُ لَمَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ حَيْثُ يَبْتَغِي الْفَرَجَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ قَوْلُهُ: {اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ} [يوسف: ٤٢] "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کے صبر اور کرم پر تعجب ہے، اللہ انہیں معاف فرمائے، جب انہیں خواب کی تعبیر پوچھنے کے لیے بلایا گیا تو وہ (فوراً چل پڑے)، اگر میں ہوتا تو قید سے نکلے بغیر ایسا نہ کرتا۔ اور مجھے ان کے صبر اور کرم پر تعجب ہے، اللہ انہیں معاف فرمائے، انہیں (رہائی کے لیے) بلایا گیا تو وہ نہ نکلے جب تک انہوں نے اپنا عذر (اپنی برأت کی تحقیق) نہ بتا دیا، اگر میں ہوتا تو دروازے کی طرف جلدی کرتا۔ اور اگر وہ بات (بادشاہ کے ساتھی سے کہنا) نہ ہوتی تو وہ اتنی دیر قید میں نہ رہتے، کیونکہ انہوں نے اللہ کے سوا کسی اور سے فریاد رسی چاہی تھی، ان کا قول: مجھے اپنے بادشاہ کے سامنے یاد کر دینا [سورۃ یوسف: 42]۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11590
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 249، حدیث 11640