حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي سَجْدَةِ ص: «تَوْبَةُ نَبِيٍّ أَمَرَ اللهُ نَبِيَّهُ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۃ ص کے سجدے کے بارے میں فرمایا: ”یہ ایک نبی کی توبہ ہے، اللہ نے اپنے نبی (ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ اس کی پیروی کریں۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ السُّجُودِ فِي ص فَقَالَ: " {أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهِ} [الأنعام: ٩٠] "
ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ ص میں سجدے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، تو تم بھی انہی کی ہدایت کی پیروی کرو“ [سورۃ الانعام: 90]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ ص «فَسَجَدَ فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں سفر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ سورۃ ص پڑھ رہے تھے، اور آپ ﷺ نے اس میں سجدہ کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي} [الحجر: ٨٧] قَالَ: «هِي السَّبْعُ الطِّوَالُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ”اور بے شک ہم نے تمہیں سات دہرائی جانے والی (آیتیں) عطا کیں“ [سورۃ الحجر: 87] کے بارے میں فرمایا: ”اس سے مراد سات لمبی سورتیں ہیں۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ وَهُوَ صَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے کی حالت میں اپنے پاؤں کے اوپری حصے پر پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ قَالَ: «رُخِّصَ لِلشَّيْخِ وَهُوَ صَائِمٌ، وَنُهِي الشَّابُّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”بوڑھے کو روزے کی حالت میں (پچھنے لگوانے کی) رخصت دی گئی، اور نوجوان کو اس سے منع کیا گیا۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح، وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَريُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالُوا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «فَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے تمہارے نبی ﷺ کی زبانی حضر میں چار رکعت، سفر میں دو رکعت، اور خوف کی حالت میں ایک رکعت نماز فرض کی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ، قَالَا: ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَالسَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَالْخَوْفِ رَكْعَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”حضر کی نماز چار رکعت، سفر کی دو رکعت، اور خوف کی ایک رکعت ہے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ الْحَارِثِ الْغَنَوِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «افْتَرَضَ اللهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”اللہ نے تمہارے نبی ﷺ کی زبانی حضر میں چار رکعت، سفر میں دو رکعت، اور خوف کی حالت میں ایک رکعت نماز فرض کی۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری مدد صبا (پروا ہوا) کے ذریعے کی گئی، اور قومِ عاد دبور (مغربی ہوا) کے ذریعے ہلاک کی گئی۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْيٌ، فَلْيَحْلِلْ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَقَدْ دَخَلْتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”یہ ایک عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا، تو جس کے پاس ہَدی نہ ہو وہ مکمل طور پر احرام کھول دے، بے شک عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو چکا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا جَعَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً، فَإِنَّهُمْ قَدِمُوا مَكَّةَ قَبْلَ عَرَفَةَ بِأَرْبَعِ لَيَالٍ، فَكَرِهَ أَنْ يَمْكُثَ الْمُسْلِمُونَ أَرْبَعَ لَيَالٍ لَا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَعَلِمَ أَنَّهُمْ إِذَا طَافُوا بِالْبَيْتِ حَلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ سَاقَ هَدْيًا فَقَالَ: «عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - ثُمَّ دَخَلْتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
...آپ ﷺ نے ناپسند کیا کہ مسلمان چار راتیں بیت اللہ کا طواف کیے بغیر رہیں، اور آپ ﷺ کو معلوم تھا کہ جب وہ بیت اللہ کا طواف کر لیں گے تو احرام کھول دیں گے سوائے اس کے جس کے ساتھ ہَدی ہو، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا“ - تین بار فرمایا - ”پھر عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو چکا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَمَّادِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي: وأُرْسِلْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرْسَلُ إِلَى خَاصَّةٍ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ حَتَّى إِنَّ الْعَدُوَّ ليخافوني مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِمَنْ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَقِيلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ فادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فَهِي نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهُ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں: مجھے سرخ و سیاہ (ہر رنگ و نسل کے لوگوں) کی طرف بھیجا گیا، جبکہ پہلے نبی صرف اپنی خاص قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے، اور میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی یہاں تک کہ دشمن مجھ سے ایک یا دو مہینے کی مسافت پر بھی خوفزدہ رہتا ہے، اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا، اور میرے لیے ساری زمین سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی بنا دی گئی، اور مجھ سے کہا گیا: مانگو تمہیں دیا جائے گا، تو میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا رکھی ہے، اور وہ ان شاء اللہ ہر اس شخص کو ملے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے فوت ہوا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ: «مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ بِالْخَيْفِ الْأَيْمِنِ حَيْثُ اسْتَقْسَمَ الْمُشْرِكُونَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یومِ ترویہ سے ایک دن پہلے فرمایا: ”کل، ان شاء اللہ، ہمارا پڑاؤ خیفِ ایمن (دائیں جانب کی وادی) میں ہو گا، جہاں مشرکین نے فال نکالی تھی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ الْفَضْلُ أَكْبَرَ مِنِّي، وَكَانَ يُرْدِفُنِي فَأَكُونُ بَيْنَ يَدَيْهِ فارْتَدَفْتُ أَنَا وَأَخِي حِمَارَةً، فَانْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ فَنَزَلْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَدَخَلْنَا فَصَلَّيْنَا، وَتَرَكْنَاهَا تَرْعَى بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَمْ يَقْطَعْ صَلَاتَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”فضل مجھ سے بڑے تھے، اور وہ مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا کرتے تھے، تو میں ان کے آگے بیٹھ جاتا۔“ ایک بار میں اور میرا بھائی ایک گدھی پر سوار ہوئے، تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے جو عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، تو ہم آپ ﷺ کے آگے اتر گئے، اور نماز میں داخل ہو کر نماز پڑھی، اور گدھی کو آپ ﷺ کے آگے چرنے کے لیے چھوڑ دیا، اور آپ ﷺ نے اپنی نماز نہیں توڑی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا، يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بِالتَّيَمُّمِ إِلَّا صَلَاةً وَاحِدَةً، ثُمَّ يَتَيَمَّمُ لِلصَّلَاةِ الْأُخْرَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”سنت یہ ہے کہ آدمی تیمم سے صرف ایک ہی نماز پڑھے، پھر دوسری نماز کے لیے دوبارہ تیمم کرے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ رَاشِدٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ، وَالْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمِ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ فَنَظَرَ إِلَى مَا بِهِ قَالَ: «لَوْلَا أَنْ تَحْزَنَ النِّسَاءُ مَا غَيَّبْتُهُ، وَلَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَكُونَ فِي بُطُونِ السِّبَاعِ وَحَوَاصِلِ الطُّيُورِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللهُ مِمَّا هُنَالِكَ» قَالَ: وَأَحْزَنَهُ مَا رَأَى بِهِ، فَقَالَ: «لَئِنْ ظَفَرْتُ بِقُرَيْشٍ لأُمَثِّلَنَّ بِثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْهُمْ» فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ} [النحل: ١٢٦] إِلَى قَوْلِهِ {يَمْكُرُونَ} [النحل: ١٢٧] ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَهُيِّءَ إِلَى الْقِبْلَةِ ثُمَّ كَبَّرَ عَلَيْهِ تِسْعًا، ثُمَّ جَمَعَ عَلَيْهِ الشُّهَدَاءَ كُلَّمَا أُتِي بِشَهِيدٍ وُضِعَ إِلَى حَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَعَلَى الشُّهَدَاءِ مَعَهُ، حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ وَعَلَى الشُّهَدَاءِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ صَلَاةً، ثُمَّ قَامَ عَلَى أَصْحَابِهِ حَتَّى وَارَاهُمْ، وَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَفَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَجَاوَزَ وَتَرَكَ الْمُثْلَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوئے اور ان کی حالت دیکھی تو فرمایا: ”اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ عورتیں غمگین ہوں گی تو میں انہیں یونہی نہ چھپاتا، اور انہیں چھوڑ دیتا یہاں تک کہ وہ درندوں کے پیٹوں اور پرندوں کے حلق میں چلے جاتے، یہاں تک کہ اللہ انہیں وہاں سے اٹھاتا۔“ راوی کہتے ہیں: اور آپ ﷺ کو ان کی حالت دیکھ کر سخت غم ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے قریش پر غلبہ ملا تو میں ضرور ان میں سے تیس آدمیوں کا مثلہ (اعضاء کاٹ کر بدلہ) کروں گا۔“ تو اس بارے میں اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی لو جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی“ [النحل: 126] سے ”جو مکر کر رہے ہیں“ [النحل: 127] تک۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہیں قبلہ رخ کیا گیا، پھر آپ ﷺ نے ان پر نو تکبیریں کہیں، پھر ان پر باقی شہداء کو بھی جمع کیا، جب بھی کوئی شہید لایا جاتا تو اسے حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس رکھا جاتا اور آپ ﷺ ان پر اور دوسرے شہداء پر نمازِ جنازہ پڑھتے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان پر اور دیگر شہداء پر بہتر بار نمازِ جنازہ پڑھی، پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس کھڑے رہے یہاں تک کہ انہیں دفن کر دیا۔ اور جب قرآن نازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے معاف کر دیا، درگزر کیا اور مثلہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اغْزُوا تَغْنَمُوا بَنَاتَ الْأَصْفَرِ» فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ: إِنَّهُ ليَفْتِنُكُمْ بِالنِّسَاءِ " فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفُتِنِّي} [التوبة: ٤٩] "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد کرو، تمہیں بنات الاصفر (رومی عورتیں) بطور مالِ غنیمت ملیں گی۔“ تو کچھ منافقین نے کہا: یہ تو ہمیں عورتوں کے ذریعے فتنے میں ڈالے گا۔ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ مجھے اجازت دیں اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیں“ [التوبۃ: 49]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ الْعَسَّالُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ رمضان میں سفر پر گئے تو روزہ بھی رکھا اور روزہ چھوڑا بھی، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نُسِخَتْ آيَتَانِ مِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ: آيَةُ الْهَدْي، وَالْقَلَائِدِ، وَالْآيَةُ الْأُخْرَى {فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ} [المائدة: ٤٢] قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ مُخَيَّرًا إِنْ شَاءَ حَكَمَ بَيْنَهُمْ، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهُمْ إِلَى حُكْمِ غَيْرِهِ حَتَّى نَزَلَتْ {فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ} [المائدة: ٤٨] "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سورۃ المائدہ کی دو آیتیں منسوخ ہوئیں: آیتِ ہَدی و قلائد، اور دوسری آیت ”تو ان کے درمیان فیصلہ کرو یا ان سے منہ پھیر لو“ [المائدہ: 42]۔ وہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ اس معاملے میں اختیار رکھتے تھے، اگر چاہتے تو ان کے درمیان فیصلہ کرتے اور اگر چاہتے تو انہیں کسی اور کے فیصلے کی طرف بھیج دیتے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: تو ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے [المائدہ: 48]۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَا: «يُكْرَهُ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أُذُنِ الْقَدَحِ، وَثَلَمَةِ الْقَدَحِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: ”پیالے کے دستے اور اس کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینا ناپسندیدہ ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نُصِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرَيْنِ عَلَى عَدُوِّهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کی اپنے دشمن پر دو مہینے کی مسافت تک رعب کے ذریعے مدد کی گئی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عِيسَى وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَأَمَّا عِيسَى: فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ، وَأَمَّا مُوسَى: فَآدَمُ جَسِيمٌ سَبِطٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ الزُّطِّ " فَقَالُوا لَهُ: إِبْرَاهِيمُ؟ قَالَ: «انْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ»
ترجمہ
...عیسیٰ علیہ السلام سرخ رنگ، گھنگھریالے بالوں والے، کشادہ سینے والے تھے، اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ، قد آور، سیدھے بالوں والے تھے، گویا وہ قومِ زط کے مردوں میں سے تھے۔ تو صحابہ نے پوچھا: ابراہیم علیہ السلام کیسے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کو دیکھ لو۔“
حَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الذُّبَابُ كُلُّهُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلَةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مکھی ساری کی ساری جہنم میں ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَحْسَبُهُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنْ كَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي لِيَدْعُو رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ اللَّيْلِ عَلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ فَيُجِيبُ»
ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ - غالباً ابن عباس رضی اللہ عنہما سے - کہتے ہیں: ”عوالی (مدینہ کے بیرونی علاقوں) کے رہنے والوں میں سے کوئی آدمی آدھی رات کو رسول اللہ ﷺ کو جَو کی روٹی کھانے کی دعوت دیتا تو آپ ﷺ قبول فرما لیتے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا، اپنی لاٹھی سے حجرِ اسود کا استلام کرتے رہے۔
حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ صَالِحٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا فَمَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيَأْتِهِ مِنْ بَابِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، تو جو علم چاہے وہ اس کے دروازے سے آئے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ عَلَى حِمَارٍ، وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ مِنْ إِسْتَبْرَقٍ خَمَّلَهَا اللِّوَاءُ، فَسَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا مُحَمَّدُ أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَنْزِلُ عَنْهَا حَتَّى تُفْتَحَ لَكَ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَلَمْ يَرْجِعْ حَتَّى فُتِحَ لَهُ»
ترجمہ
...پھر کچھ دیر چلے، تو جبریل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں اس سے نہیں اتروں گا یہاں تک کہ آپ کے لیے (دروازہ) کھول دیا جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”تو وہ واپس نہیں پلٹے یہاں تک کہ ان کے لیے کھول دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا مِلْحَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَهُمَا يضحكانِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَا فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكُمَا كُنْتُمَا تَضْحَكَانِِ، فَلَمَّا رَأَيْتُمَانِي سَكَتُّما؟» فَبَادَرَتْ فَاطِمَةُ فَقَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ هَذَا: أَنَا أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ مِنْكِ، فَقُلْتُ: بَلْ أَنَا أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «يَا بُنَيَّةُ لَكِ رِقَّةُ الْوَلَدِ، وَعَلِيٌّ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْكِ»
ترجمہ
...راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لائے، وہ دونوں ہنس رہے تھے، جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو خاموش ہو گئے۔ تو نبی کریم ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا، تم ہنس رہے تھے، پھر جب مجھے دیکھا تو خاموش ہو گئے؟“ تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پہل کرتے ہوئے عرض کیا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ! انہوں نے (یعنی علی نے) کہا: میں رسول اللہ ﷺ کو تم سے زیادہ محبوب ہوں، تو میں نے کہا: بلکہ میں رسول اللہ ﷺ کو تم سے زیادہ محبوب ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”اے میری بیٹی! تجھے اولاد کی نرمی حاصل ہے، اور علی مجھے تجھ سے زیادہ عزیز ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الصابونيُّ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {سَلَامٌ عَلَى إِلْ يَاسِينَ} [الصافات: ١٣٠] قَالَ: «نَحْنُ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ”آلِ یاسین پر سلامتی ہو“ [الصافات: 130] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد ہم، یعنی آلِ محمد ﷺ ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَةُ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا} [التوبة: ١٠٨] بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُوَيْمِرِ بْنِ سَاعِدَةَ فَقَالَ: «مَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي أَثْنَى الله عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ؟» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا خَرَجَ مِنَّا رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ فَرْجَهُ - أَوْ قَالَ: مَقْعَدَتَهُ - " فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ هَذَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں“ [التوبۃ: 108] تو نبی کریم ﷺ نے عویمر بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کے پاس (کسی کو) بھیجا اور پوچھا: ”یہ کون سی طہارت ہے جس پر اللہ عزوجل نے تمہاری تعریف کی ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی مرد یا عورت قضائے حاجت سے نہیں نکلتا مگر اپنی شرمگاہ - یا فرمایا: نشست گاہ - دھو لیتا ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہی وہ (طہارت) ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عبدوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ بِمَكَّةَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَالْكَعْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَبَعْدَمَا هَاجَرَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْكَعْبَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”نبی کریم ﷺ مکہ میں بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے جبکہ کعبہ آپ ﷺ کے سامنے ہوتا تھا، اور ہجرت کے بعد سولہ مہینے تک بھی ایسا ہی رہا، پھر آپ ﷺ کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ الْحَبَالَى أَنْ يُوطِئْنَ حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنِّ، وَعَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ بَيْعِ الْمَغْنَمِ حَتَّى يُقْسَمَ، وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے، حاملہ (قیدی عورتوں) سے ہمبستری کرنے سے یہاں تک کہ وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن لیں، ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے، غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے سے، اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ يَزِيدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ} [آل عمران: ١٠٢] الْآيَةَ فَقَالَ: «لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي بحارِ الدُّنْيَا لَأَفْسَدَتْ عَلَيْهِمْ مَعَايِشَهُمْ كَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامَهُ؟»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ”اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے“ [آلِ عمران: 102]، پھر فرمایا: ”اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں ٹپکا دیا جائے تو وہ لوگوں کی معیشت خراب کر دے، تو اس شخص کا کیا حال ہو گا جس کا کھانا ہی زقوم ہو؟“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ " يَرَى الِاسْتِثْنَاءَ، وَلَوْ بَعْدَ سَنَةٍ، ثُمَّ قَرَأَ {وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ} [الكهف: ٢٤] يَقُولُ: «إِذَا ذَكَرْتَ» . فَقِيلَ لِلْأَعْمَشِ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِ اللَّيْثُ، عَنْ مُجَاهِدٍ
ترجمہ
...ابن عباس رضی اللہ عنہما 'ان شاء اللہ' کہنے کی گنجائش رکھتے تھے، چاہے ایک سال بعد ہی کیوں نہ ہو، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ”اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز یہ نہ کہو کہ میں کل یہ کام کروں گا، مگر یہ کہ اللہ چاہے، اور جب بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرو“ [الکہف: 24]، وہ فرماتے: ”یعنی جب یاد آئے۔“ اعمش سے پوچھا گیا: کیا آپ نے یہ مجاہد سے سنا؟ تو انہوں نے کہا: مجھے یہ لیث نے مجاہد سے بیان کیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ فِتْيَانًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَعْمِلْنَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَةِ نَصِيبُ مِنْهَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ وَنُؤَدِّي كَمَا يُؤَدُّونَ فَقَالَ: «إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ وَهِي أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَلَكِنْ مَا ظَنُّكُمْ إِذَا أَنَا أَخَذْتُ بِحَلْقَةِ الْجَنَّةِ هَلْ أُوثِرَ عَلَيْكُمْ أَحَدًا»
ترجمہ
...ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنی ہاشم کے کچھ نوجوان نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں اس صدقے کی وصولی پر مقرر فرما دیں، ہمیں بھی اس میں سے اتنا ملے گا جتنا لوگوں کو ملتا ہے، اور ہم بھی اسی طرح ادا کریں گے جس طرح وہ ادا کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم آلِ محمد کے لیے صدقہ حلال نہیں، یہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے، لیکن تمہارا کیا خیال ہے جب میں جنت کے حلقے کو پکڑوں گا تو کیا کسی کو تم پر ترجیح دوں گا؟“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَطَاوُسٍ وَعَطَاءٍ أَخْبَرُوهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَيَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُعَجِّلَهُ أَمْرٌ أَوْ يَطْلُبَهُ عَدُوٌّ أَوْ يَخَافَ شَيْئًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں ظہر اور عصر کو جمع کرتے، اور مغرب اور عشاء کو جمع کرتے، بغیر اس کے کہ کوئی جلدی کا معاملہ ہو یا کوئی دشمن پیچھے ہو یا کسی چیز کا خوف ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، «فَتَوَضَّأَ فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ فَأَدَارَنِي بِيَدَيْهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا، تو نبی کریم ﷺ رات کو اٹھے، وضو کیا، تو میں آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے مجھے گھما کر اپنے دائیں جانب کھڑا کر دیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَمَعَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سفر اور حضر دونوں میں ظہر اور عصر کو، اور مغرب اور عشاء کو جمع کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التِّرْمِذِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، اور عنقریب اجنبی حالت میں لوٹ جائے گا، تو خوشخبری ہو اجنبیوں کے لیے۔“
…