❮
❯
حدیث نمبر: 11016
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ عَلَى حِمَارٍ، وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ مِنْ إِسْتَبْرَقٍ خَمَّلَهَا اللِّوَاءُ، فَسَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا مُحَمَّدُ أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَنْزِلُ عَنْهَا حَتَّى تُفْتَحَ لَكَ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَلَمْ يَرْجِعْ حَتَّى فُتِحَ لَهُ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ کی طرف نکلے تو ایک گدھے پر سوار تھے، اور آپ ﷺ کے ساتھ جبرائیل علیہ السلام ایک سفید خچر پر سوار تھے جس کے نیچے استبرق (ریشمی کپڑے) کی ایک چادر تھی جس کے کنارے پھندنے دار تھے، پھر کچھ دیر چلے، تو جبریل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں اس سے نہیں اتروں گا یہاں تک کہ آپ کو فتح عطا ہو جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”تو آپ ﷺ واپس نہیں لوٹے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو فتح عطا ہو گئی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11016
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 66، حدیث 11062