❮
❯
حدیث نمبر: 11000
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا جَعَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً، فَإِنَّهُمْ قَدِمُوا مَكَّةَ قَبْلَ عَرَفَةَ بِأَرْبَعِ لَيَالٍ، فَكَرِهَ أَنْ يَمْكُثَ الْمُسْلِمُونَ أَرْبَعَ لَيَالٍ لَا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَعَلِمَ أَنَّهُمْ إِذَا طَافُوا بِالْبَيْتِ حَلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ سَاقَ هَدْيًا فَقَالَ: «عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - ثُمَّ دَخَلْتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے اسے صرف عمرہ اس لیے بنایا کیونکہ وہ عرفہ سے چار راتیں پہلے مکہ پہنچے تھے، تو آپ ﷺ نے ناپسند کیا کہ مسلمان چار راتیں بیت اللہ کا طواف کیے بغیر رہیں، اور آپ ﷺ کو معلوم تھا کہ جب وہ بیت اللہ کا طواف کر لیں گے تو احرام کھول دیں گے سوائے اس کے جس کے ساتھ ہَدی ہو، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا“ - تین بار فرمایا - ”پھر عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو چکا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11000
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 61، حدیث 11046