حدیث نمبر: 11003
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ الْفَضْلُ أَكْبَرَ مِنِّي، وَكَانَ يُرْدِفُنِي فَأَكُونُ بَيْنَ يَدَيْهِ فارْتَدَفْتُ أَنَا وَأَخِي حِمَارَةً، فَانْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ فَنَزَلْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَدَخَلْنَا فَصَلَّيْنَا، وَتَرَكْنَاهَا تَرْعَى بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَمْ يَقْطَعْ صَلَاتَهُ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”فضل مجھ سے بڑے تھے، اور وہ مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا کرتے تھے، تو میں ان کے آگے بیٹھ جاتا۔“ ایک بار میں اور میرا بھائی ایک گدھی پر سوار ہوئے، تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے جو عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، تو ہم آپ ﷺ کے آگے اتر گئے، اور نماز میں داخل ہو کر نماز پڑھی، اور گدھی کو آپ ﷺ کے آگے چرنے کے لیے چھوڑ دیا، اور آپ ﷺ نے اپنی نماز نہیں توڑی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11003
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 62، حدیث 11049