کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: وہب بن منبہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مُنْذِرُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ عَدَنِ أَبْيَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا يُنْصَرُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ هُمْ خَيْرُ مَنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”عدن ابین سے بارہ ہزار (آدمی) نکلیں گے جو اللہ اور اس کے رسول کی مدد کریں گے، وہ میرے اور ان کے درمیان (موجود لوگوں میں سے) بہترین ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْيَمَانِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ قَالَ: «مَنْ بَدَا جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِنَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو دیہات میں جا بسا وہ سخت دل ہو گیا، جو شکار کے پیچھے لگا وہ غافل ہو گیا، اور جو بادشاہ (حکمران) کے پاس گیا وہ فتنے میں پڑ گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ الْكُوفِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ أَتَى ذَا مَحْرَمٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے کسی محرم (رشتے دار) سے بدکاری کرے وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ إِدْرِيسَ ابْنِ بِنْتِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِكَ إِثْمًا، أَنْ لَا تَزَالَ مُخَاصِمًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑالو رہو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا عَبْدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ إِدْرِيسَ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِيهِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ قَالَ: ادْعُ رَبَّكَ، فَدَعَا رَبَّهُ، فَطَلَعَ عَلَيْهِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ فَيَنْتَشِرُ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِقَ فَأَتَاهُ فَنَعَشَهُ وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقِهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے جبریل علیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ انہیں اپنی اصل صورت میں دکھائیں۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: اپنے رب سے دعا کریں۔ تو آپ ﷺ نے اپنے رب سے دعا کی، پس مشرق کی جانب سے ایک سیاہی نمودار ہوئی جو بلند ہوتی اور پھیلتی جا رہی تھی، جب نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھا تو بے ہوش ہو گئے، تو جبریل علیہ السلام ان کے پاس آئے، انہیں سہارا دیا اور ان کے منہ سے (نکلا ہوا) لعاب صاف کیا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُلَاثَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْتُ الْغَرِيبِ شَهَادَةٌ إِذَا احْتُضِرَ، فَرَمَى بِبَصَرِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، فَلَمْ يَرَ إِلَّا غَرِيبًا، وَذَكَرَ أَهْلَهُ وَوَلَدَهُ، وَتَنَفَّسَ فَلَهُ بِكُلِّ نَفَسٍ يَتَنَفَسُّهُ يَمْحُو اللهُ أَلْفَيْ أَلْفِ سَيِّئَةٍ، وَيَكْتُبُ لَهُ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پردیسی کی موت شہادت ہے۔ جب اسے موت آتی ہے تو وہ اپنی دائیں اور بائیں طرف نظر دوڑاتا ہے، اسے کوئی جاننے والا نظر نہیں آتا سوائے اجنبیوں کے، تو وہ اپنے گھر والوں اور اولاد کو یاد کرتا ہے اور آہ بھرتا ہے، تو اس کی ہر آہ کے بدلے اللہ اس کی بیس لاکھ برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے لیے بیس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے۔“