حدیث نمبر: 11005
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ رَاشِدٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ، وَالْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمِ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ فَنَظَرَ إِلَى مَا بِهِ قَالَ: «لَوْلَا أَنْ تَحْزَنَ النِّسَاءُ مَا غَيَّبْتُهُ، وَلَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَكُونَ فِي بُطُونِ السِّبَاعِ وَحَوَاصِلِ الطُّيُورِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللهُ مِمَّا هُنَالِكَ» قَالَ: وَأَحْزَنَهُ مَا رَأَى بِهِ، فَقَالَ: «لَئِنْ ظَفَرْتُ بِقُرَيْشٍ لأُمَثِّلَنَّ بِثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْهُمْ» فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ} [النحل: ١٢٦] إِلَى قَوْلِهِ {يَمْكُرُونَ} [النحل: ١٢٧] ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَهُيِّءَ إِلَى الْقِبْلَةِ ثُمَّ كَبَّرَ عَلَيْهِ تِسْعًا، ثُمَّ جَمَعَ عَلَيْهِ الشُّهَدَاءَ كُلَّمَا أُتِي بِشَهِيدٍ وُضِعَ إِلَى حَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَعَلَى الشُّهَدَاءِ مَعَهُ، حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ وَعَلَى الشُّهَدَاءِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ صَلَاةً، ثُمَّ قَامَ عَلَى أَصْحَابِهِ حَتَّى وَارَاهُمْ، وَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَفَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَجَاوَزَ وَتَرَكَ الْمُثْلَ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوئے اور ان کی حالت دیکھی تو فرمایا: ”اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ عورتیں غمگین ہوں گی تو میں انہیں یونہی نہ چھپاتا، اور انہیں چھوڑ دیتا یہاں تک کہ وہ درندوں کے پیٹوں اور پرندوں کے حلق میں چلے جاتے، یہاں تک کہ اللہ انہیں وہاں سے اٹھاتا۔“ راوی کہتے ہیں: اور آپ ﷺ کو ان کی حالت دیکھ کر سخت غم ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے قریش پر غلبہ ملا تو میں ضرور ان میں سے تیس آدمیوں کا مثلہ (اعضاء کاٹ کر بدلہ) کروں گا۔“ تو اس بارے میں اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی لو جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی“ [النحل: 126] سے ”جو مکر کر رہے ہیں“ [النحل: 127] تک۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہیں قبلہ رخ کیا گیا، پھر آپ ﷺ نے ان پر نو تکبیریں کہیں، پھر ان پر باقی شہداء کو بھی جمع کیا، جب بھی کوئی شہید لایا جاتا تو اسے حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس رکھا جاتا اور آپ ﷺ ان پر اور دوسرے شہداء پر نمازِ جنازہ پڑھتے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان پر اور دیگر شہداء پر بہتر بار نمازِ جنازہ پڑھی، پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس کھڑے رہے یہاں تک کہ انہیں دفن کر دیا۔ اور جب قرآن نازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے معاف کر دیا، درگزر کیا اور مثلہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11005
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 62، حدیث 11051