حدیث نمبر: 11001
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَمَّادِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي: وأُرْسِلْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرْسَلُ إِلَى خَاصَّةٍ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ حَتَّى إِنَّ الْعَدُوَّ ليخافوني مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِمَنْ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَقِيلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ فادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فَهِي نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهُ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں: مجھے سرخ و سیاہ (ہر رنگ و نسل کے لوگوں) کی طرف بھیجا گیا، جبکہ پہلے نبی صرف اپنی خاص قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے، اور میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی یہاں تک کہ دشمن مجھ سے ایک یا دو مہینے کی مسافت پر بھی خوفزدہ رہتا ہے، اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا، اور میرے لیے ساری زمین سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی بنا دی گئی، اور مجھ سے کہا گیا: مانگو تمہیں دیا جائے گا، تو میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا رکھی ہے، اور وہ ان شاء اللہ ہر اس شخص کو ملے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے فوت ہوا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11001
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 61، حدیث 11047