حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «الْقُرْآنُ وَالْعَسَلُ هُمَا شَفَاءَانِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قرآن اور شہد دونوں شفا ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي قَوْلِهِ: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: ٥٧] قَالَ: «كَانَ نَاسٌ يَعْبُدُونَهُمْ فَأَسْلَمَ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ وَلَا يَعْلَمُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ فَعَيَّرَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِذَلِكَ» فَقَالَ: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: ٥٧]
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں“ [سورۃ الاسراء: 57] کے بارے میں فرمایا: ”کچھ لوگ (جنوں کی) عبادت کیا کرتے تھے، پھر جن کی وہ عبادت کرتے تھے وہ خود مسلمان ہو گئے، مگر ان کی عبادت کرنے والوں کو اس کا علم نہ ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے انہیں ملامت کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں“ [سورۃ الاسراء: 57]۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ} [الحج: ٢٥] بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ، قَالَ: «مَنْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ فَعَمِلَهَا فِي سِوَى الْبَيْتِ لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلَهَا، وَمَنْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ فَعَمِلَهَا فِي الْبَيْتِ لَمْ يُمِتْهُ اللهُ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى يُذِيقَهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور جو کوئی وہاں ظلم کے ساتھ کجروی کا ارادہ کرے، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے“ [سورۃ الحج: 25] کے بارے میں فرمایا: ”جو شخص کسی گناہ کا ارادہ کرے اور اسے بیت اللہ کے علاوہ کہیں اور کرے تو اس پر صرف ارادے کی وجہ سے نہیں لکھا جاتا جب تک وہ اسے کر نہ لے، اور جو شخص کسی گناہ کا ارادہ کرے اور اسے بیت اللہ کے اندر کرے تو اللہ اسے دنیا سے نہیں اٹھاتا جب تک اسے دردناک عذاب کا مزہ نہ چکھا دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا سَيَّارٌ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَأَى نَاسًا مِنْ أَهْلِ السُّوقِ سَمِعُوا الْأَذَانَ، فَتَرَكُوا أَمْتِعَتَهُمْ وَقَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " هَؤُلَاءِ الَّذِينَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ} [النور: ٣٧] "
ترجمہ
سیار کسی ایسے شخص سے بیان کرتے ہیں جس نے انہیں بتایا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بازار والوں میں سے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اذان سنی تو اپنا سامان چھوڑ کر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، تو فرمایا: ”یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ایسے مرد جنہیں نہ تجارت اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے“ [سورۃ النور: 37]۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، وَأَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، {وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ} [الحجر: ٢٢] قَالَ: «يُرْسِلُ اللهُ الرِّيحَ فَتَحْمِلُ الْمَاءَ، فَيَمُرُّ سَحَابٌ فَيُدِرُّ كَمَا تُدِرُّ اللِّقْحَةُ ثُمَّ يُمْطِرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور ہم نے بادل برسانے والی ہوائیں بھیجیں“ [سورۃ الحجر: 22] کے بارے میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہوا بھیجتا ہے جو پانی اٹھا لاتی ہے، پھر بادل گزرتا ہے تو وہ اسی طرح دودھ اتارتا ہے جیسے دودھ دینے والا جانور دودھ اتارتا ہے، پھر بارش برساتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَا أَقِيسُ شَيْئًا بِشَيْءٍ لَا تَزَلَّ قَدِمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں کسی چیز کو کسی چیز پر قیاس نہیں کرتا، ایسا نہ ہو کہ قدم جمنے کے بعد پھسل جائے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ أذابَ فِضَّةً مِنْ بَيْتِ الْمَالِ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى الْمُهْلِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَهِ»
ترجمہ
ضحاک بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیت المال سے کچھ چاندی پگھلائی، پھر مسجد والوں کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: ”جو مُہل (پگھلی ہوئی دھات) دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ: دَخَلَ بَيْتَ الْمَالِ فَدَعَا بِنُفَايَةٍ كَانَتْ فِيهِ، فَأَوْقَدَ عَلَيْهَا حَتَّى إِذَا هِي ذَابَتْ، قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْمُهْلِ؟ هَذَا الْمُهْلُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیت المال میں داخل ہوئے تو اس میں موجود ردی (فاضل دھات) منگوائی، پھر اس پر آگ جلائی یہاں تک کہ جب وہ پگھل گئی تو فرمایا: ”مُہل کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ یہ ہے مُہل۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: ٧١] قَالَ: «وُرُودُهَا الصِّرَاطَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور تم میں سے کوئی نہیں مگر اس پر وارد ہو گا“ [سورۃ مریم: 71] کے بارے میں فرمایا: ”اس پر وارد ہونے سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، قَالَ: بَلَغَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّ مَرْوَانَ، يَقُولُ: {وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ} [الأنبياء: ٨٤] ، قَالَ: أَتَى أَهْلًا غَيْرَ أَهْلِهِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «بَلْ أَتَى بِأَهْلِهِ بِأَعْيَانِهِمْ وَمِثْلِهِمْ مَعَهُمْ»
ترجمہ
ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ مروان اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کیے“ [سورۃ الانبیاء: 84] کے بارے میں کہتا ہے کہ اسے اس کے اصل گھر والوں کی بجائے دوسرے گھر والے دیے گئے۔ تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اسے اس کے اپنے ہی گھر والے بعینہ واپس دیے گئے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، {وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا} [الأنبياء: ٨٧] ، قَالَ: «هُوَ عَبْدٌ أَبَقَ مِنْ سَيِّدِهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کو یاد کرو جب وہ ناراض ہو کر چلے گئے“ [سورۃ الانبیاء: 87] کے بارے میں فرمایا: ”ان کی مثال اس غلام کی سی تھی جو اپنے آقا سے بھاگ گیا ہو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " إِذَا بَقِيَ فِي النَّارِ مَنْ يُخَلَّدُ فِيهَا جُعِلُوا فِي تَوَابِيتَ مِنْ نَارٍ فِيهَا مَسَامِيرُ مِنْ نَارٍ - قَالَ: ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - فَلَا يَرَوْنَ أَحَدًا فِي النَّارِ يُعَذَّبُ غَيْرُهُمْ "، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ} [الأنبياء: ١٠٠]
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں ہمیشہ کے لیے وہاں رہنا ہے، تو انہیں آگ کے تابوتوں میں بند کر دیا جائے گا جن میں آگ کی کیلیں ہوں گی“ - راوی نے کہا: یہ بات دو یا تین بار دہرائی - ”پھر وہ جہنم میں اپنے سوا کسی اور کو عذاب پاتے نہیں دیکھیں گے۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ”ان کے لیے اس میں چیخ و پکار ہے اور وہ اس میں کچھ نہیں سنیں گے“ [سورۃ الانبیاء: 100]۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، {بَنِينَ وَحَفَدَةً} [النحل: ٧٢] قَالَ: «هُمُ الْأَخْتَانُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”بیٹے اور حفدہ“ [سورۃ النحل: 72] کے بارے میں فرمایا: ”حفدہ سے مراد دامادوں جیسے سسرالی رشتہ دار ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمِ بْنِ بُكَيْرٍ الطَّيَالِسِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: «الْحَفَدَةُ الْأَخْتَانُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حفدہ سے مراد سسرالی رشتہ دار (داماد وغیرہ) ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، {بَنِينَ وَحَفَدَةً} [النحل: ٧٢] قَالَ: «هُمُ الْأَخْتَانُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”بیٹے اور حفدہ“ [سورۃ النحل: 72] کے بارے میں فرمایا: ”حفدہ سے مراد دامادوں جیسے سسرالی رشتہ دار ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَفَدَةٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، هُمْ حُفَّادُ الرَّجُلِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَلَدِ وَلَدِهِ، قَالَ: «لَا هُمُ الْأَصْهَارُ»
ترجمہ
زر بن حبیش کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو حفدہ کیا ہیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، وہ آدمی کی اولاد اور اس کی اولاد کی اولاد ہیں۔ فرمایا: ”نہیں، وہ سسرالی رشتہ دار ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ، قَالَ: كُنْتُ آخَذُ عَلَى عَبْدِ اللهِ الْمُصْحَفَ، فَأُتِيَ عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ: {وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً} [النحل: ٧٢] فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ: «أَتَدْرِي مَا الْحَفَدَةُ؟» قُلْتُ: حَشَمُ الرَّجُلِ، قَالَ: «لَا، هُمُ الْأَخْتَانُ»
ترجمہ
زر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو مصحف سے تلاوت سنایا کرتا تھا، تو ایک دن اس آیت پر پہنچا: ”اور تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور حفدہ بنائے“ [سورۃ النحل: 72]۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو حفدہ کیا ہیں؟“ میں نے کہا: آدمی کے خدمت گار۔ فرمایا: ”نہیں، وہ سسرالی رشتہ دار ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {بَنِينَ وَحَفَدَةً} [النحل: ٧٢] قَالَ: «الْحَفَدَةُ الْأَخْتَانُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”بیٹے اور حفدہ“ [سورۃ النحل: 72] کے بارے میں فرمایا: ”حفدہ سے مراد سسرالی رشتہ دار ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کبھی کبھی دین کو ایک بدکار آدمی کے ذریعے بھی تقویت دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: {السَّائِحُونَ} [التوبة: ١١٢] «الصَّائِمُونَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”سیاحت کرنے والے“ [سورۃ التوبہ: 112] کے بارے میں فرمایا: ”اس سے مراد روزہ رکھنے والے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، {وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ} [آل عمران: ١٤٦] قَالَ: «أُلُوفٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”کتنے ہی نبی ایسے گزرے ہیں جن کے ساتھ ان کے بہت سے ربانی لوگوں نے مل کر جنگ کی“ [سورۃ آل عمران: 146] کے بارے میں فرمایا: ”ربیّون سے مراد ہزاروں کی تعداد ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ: {وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ} [البلد: ١٠] ، قَالَ: «سَبِيلُ الْخَيْرِ، وَالشَّرِّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور ہم نے اسے دونوں راستے دکھائے“ [سورۃ البلد: 10] کے بارے میں فرمایا: ”یعنی خیر اور شر کا راستہ۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: سُئِلَ عَنِ السُّحْتِ؟ قَالَ: «الرِّشَا» ، قِيلَ: فِي الْحُكْمِ، قَالَ: «ذَاكَ الْكُفْرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سُحت (حرام کمائی) کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”یہ رشوت ہے۔“ عرض کیا گیا: فیصلے میں (رشوت کا کیا حکم ہے)؟ فرمایا: ”وہ کفر ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «السُّحْتُ الرِّشْوَةُ فِي الدِّينِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سُحت سے مراد دین کے معاملات میں رشوت ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «الرِّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ كُفْرٌ، وَهِيَ بَيْنَ النَّاسِ سُحْتٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”فیصلے میں رشوت کفر ہے، اور عام لوگوں کے درمیان (کاروباری معاملات میں) وہ سُحت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنِ الرِّشَا فِي الْحُكْمِ؟ قَالَ: «ذَلِكَ الْكُفْرُ»
ترجمہ
مسروق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے فیصلے میں رشوت کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ”یہ کفر ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالُوا: {رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ} [ص: ٦١] ، قَالَ: «أَفَاعِي وَحَيَّاتٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اے ہمارے رب! جس نے ہمارے لیے یہ گمراہی آگے بڑھائی اسے جہنم میں دگنا عذاب دے“ [سورۃ ص: 61] کے بارے میں فرمایا: ”اس سے مراد ناگ اور سانپ ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ} [النحل: ٨٨] ، قَالَ: «زِيدُوا عَقَارِبَ أَنْيَابُهَا كَالنَّخْلِ الطِّوَالِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”ہم انہیں عذاب پر عذاب زیادہ کریں گے“ [سورۃ النحل: 88] کے بارے میں فرمایا: ”انہیں ایسے بچھو زیادہ کیے جائیں گے جن کے ڈنک لمبے کھجور کے درختوں جیسے ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ} [النحل: ٨٨] قَالَ: «عَقَارِبُ أَنْيَابُهَا كَالنَّخْلِ الطِّوَالِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”ہم انہیں عذاب پر عذاب زیادہ کریں گے“ [سورۃ النحل: 88] کے بارے میں فرمایا: ”ایسے بچھو جن کے ڈنک لمبے کھجور کے درختوں جیسے ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، أَوْ مُسْلِمٍ - شَكَّ سُفْيَانُ - عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا} [مريم: ٥٩] ، قَالَ: «وَادٍ فِي جَهَنَّمَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”تو وہ عنقریب غی سے دوچار ہوں گے“ [سورۃ مریم: 59] کے بارے میں فرمایا: ”یہ جہنم میں ایک وادی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، {فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا} [مريم: ٥٩] ، قَالَ: «نَهْرٌ فِي جَهَنَّمَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”تو وہ عنقریب غی سے دوچار ہوں گے“ [سورۃ مریم: 59] کے بارے میں فرمایا: ”یہ جہنم میں ایک نہر ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «الْغَيُّ نَهْرٌ فِي جَهَنَّمَ يُقْذَفُ فِيهِ الَّذِينَ اتَّبِعُوا الشَّهَوَاتِ»
ترجمہ
ابوعبیدہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”غی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں خواہشات کی پیروی کرنے والوں کو پھینکا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، {فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا} [مريم: ٥٩] ، قَالَ: «وَادٍ فِي جَهَنَّمَ مِنْ قَيْحٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”تو وہ عنقریب غی سے دوچار ہوں گے“ [سورۃ مریم: 59] کے بارے میں فرمایا: ”یہ جہنم میں پیپ کی ایک وادی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، {فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا} [مريم: ٥٩] ، قَالَ: «نَهْرٌ فِي جَهَنَّمَ وَوَادٍ فِي جَهَنَّمَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”تو وہ عنقریب غی سے دوچار ہوں گے“ [سورۃ مریم: 59] کے بارے میں فرمایا: ”یہ جہنم میں ایک نہر اور ایک وادی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ الضُّبَعِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي قَوْلِهِ: {فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا} [مريم: ٥٩] ، قَالَ: «وَادٍ فِي جَهَنَّمَ بَعِيدُ الْقَعْرِ، خَبِيثُ الْمَطْعَمِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”تو وہ عنقریب غی سے دوچار ہوں گے“ [سورۃ مریم: 59] کے بارے میں فرمایا: ”یہ جہنم میں ایک گہری وادی ہے، جس کا کھانا بہت گندا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «هُوَ نَهْرٌ فِي النَّارِ لَهُ غَيٌّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ جہنم میں ایک نہر ہے جسے ’غی‘ کہا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي قَوْلِهِ: {فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا} [مريم: ٥٩] ، قَالَ: «نَهْرٌ فِي جَهَنَّمَ، يُقَالُ لَهُ غَيٌّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”تو وہ عنقریب غی سے دوچار ہوں گے“ [سورۃ مریم: 59] کے بارے میں فرمایا: ”یہ جہنم میں ایک نہر ہے جسے ’غی‘ کہا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «وَيْلٌ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ مِنْ قَيْحٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ویل جہنم میں پیپ کی ایک وادی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا} [النور: ٣١] ، قَالَ: «الثِّيَابُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے“ [سورۃ النور: 31] کے بارے میں فرمایا: ”اس سے مراد (اوپر کے) کپڑے ہیں۔“
…