کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبدالعزیز بن ابی حازم کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَحْفُرُ الْخَنْدَقَ، وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَافِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا کر لے جا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حقیقی زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، اے اللہ! مہاجرین اور انصار کو بخش دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5854
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 166، حدیث 5875
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ الْمَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کیے اٹھائے جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5855
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 167، حدیث 5876
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ يَحْيَى: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَقَالَ سَعِيدٍ: أَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ» ، فَبَاتَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ مَنْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ مَكَانَهُ حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ قَالَ: «عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ، فَوَاللهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ بِهُدَاكَ رَجُلًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خیبر کے دن فرماتے سنا: ”میں کل یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔“ لوگ رات بھر یہی باتیں کرتے رہے کہ یہ کسے دیا جائے گا۔ جب صبح ہوئی تو سب لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس صبح سویرے پہنچ گئے، ہر ایک کو امید تھی کہ وہ اسے دیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ آپ ﷺ نے انہیں بلوایا، ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور ان کے لیے دعا کی تو وہ فوراً ٹھیک ہو گئیں گویا انہیں کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ ہم جیسے نہ ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اطمینان سے آگے بڑھو یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں اتر جاؤ، پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اس میں ان پر کون سے حقوق واجب ہوں گے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تمہاری وجہ سے کسی ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5856
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 167، حدیث 5877
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ الْغُرْفَةَ فِي الْجَنَّةِ، كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوَاكِبَ فِي السَّمَاءِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنتی لوگ جنت میں بالاخانوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5857
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 167، حدیث 5878
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ: هَذَا فُلَانٌ، لَأَمِيرٌ مِنْ أُمَرَاءِ الْمَدِينَةِ يَدْعُوكَ غَدًا فَتَسُبَّ عَلِيًّا عِنْدَ الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَأَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: تَقُولُ: أَبُو تُرَابٍ فَضَحِكَ سَهْلٌ، ثُمَّ قَالَ: وَاللهِ مَا سَمَّاهُ إِيَّاهُ إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ مَا كَانَ مِنِ اسْمٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهُ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: فَقَالَ أَبِي: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ كَيْفَ كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ فَاضْطَجَعَ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَاطِمَةَ فَقَالَ: «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟» قَالَتْ: هُوَ ذَاكَ فِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ رِدَاءَهُ قَدْ سَقَطَتْ عَنْ ظَهْرِهِ وَخَلُصَ التُّرَابُ إِلَى ظَهْرِهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ، وَيَقُولُ: «اجْلِسْ أَبَا تُرَابٍ اجْلِسْ أَبَا تُرَابٍ» وَاللهِ مَا كَانَ لَهُ اسْمٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْهُ، مَا سَمَّاهُ إِيَّاهُ إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ وہ کیسے ہوا؟ تو انہوں نے بتایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، پھر وہاں سے نکل کر مسجد میں لیٹ گئے۔ نبی کریم ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو پوچھا: ”تمہارے چچا زاد بھائی کہاں ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ مسجد میں ہیں۔ نبی کریم ﷺ باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کی چادر ان کی پیٹھ سے گر چکی ہے اور مٹی ان کی پیٹھ سے لگ چکی ہے۔ رسول اللہ ﷺ ان کی پیٹھ سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمانے لگے: ”بیٹھو، اے ابوتراب! بیٹھو، اے ابوتراب!“ اللہ کی قسم! انہیں اس نام سے زیادہ کوئی نام پیارا نہ تھا، اور یہ نام انہیں صرف رسول اللہ ﷺ نے ہی دیا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5858
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 167، حدیث 5879
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَرْيَمَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، ثنا الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ، وَلَمْ يُؤَخِّرُوهُ تَأْخِيرَ أَهْلِ الْمَشْرِقِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ ہمیشہ بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ روزہ جلدی افطار کریں اور اہلِ مشرق کی طرح اس میں تاخیر نہ کریں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5859
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 168، حدیث 5880
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ يَسْأَلُ عَنِ الْمِنْبَرِ: مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ فَقَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ، امْرَأَةٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ: «مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا أُكَلِّمُ النَّاسَ عَلَيْهَا» ، فَعَمِلَ لَهُ هَذِهِ الثَّلَاثَ الدَّرَجَاتِ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي الدَّرَجَاتِ - فَوُضِعَتْ بِهَذَا الْمَوْضِعِ، قَالَ سَهْلٌ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهَا فَكَبَّرَ، وَكَبَّرَ النَّاسُ خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ، يَصْنَعُ فِيهَا كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذِهِ لِتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي»
ترجمہ
ابوحازم کے والد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے منبر کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کس لکڑی کا بنا تھا؟ تو انہوں نے بتایا: رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کی طرف پیغام بھیجا جسے آپ ﷺ نے نام لے کر بلایا اور فرمایا: ”اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ میرے لیے چند تختے بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں سے بات کروں۔“ چنانچہ اس نے آپ ﷺ کے لیے جنگل کی جھاؤ کی لکڑی سے یہ تین درجے بنائے۔ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تو انہیں اس جگہ رکھا گیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ پہلے دن جب آپ اس پر بیٹھے تو تکبیر کہی اور لوگوں نے آپ کے پیچھے تکبیر کہی، پھر آپ نے منبر ہی پر رکوع کیا، پھر سر اٹھایا، پھر پیچھے کی طرف اترے اور منبر کے پائے کے پاس سجدہ کیا، پھر واپس اوپر چڑھے یہاں تک کہ اپنی نماز پوری کر لی، دوسری رکعت میں بھی ویسا ہی کیا جیسا پہلی رکعت میں کیا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا کہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5860
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 168، حدیث 5881
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا، الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جسے نماز میں کوئی بات پیش آئے تو وہ ’سبحان اللہ‘ کہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5861
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 168، حدیث 5882
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَرَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» فَقُلْتُ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ، ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ، فَقَالَ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» ، فقُلْتُ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ، وَإِنْ خَطَبَ أَنْ لَا يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لَا يُشَفَّعَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَهَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا، آپ ﷺ نے اسے دیکھا، پھر پوچھا: ”اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ شخص معزز لوگوں میں سے ہے، اگر یہ نکاح کا پیغام دے تو اس کا نکاح کر دیا جائے گا، اگر یہ سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے گی، اور اگر یہ کچھ کہے تو اس کی بات سنی جائے گی۔ پھر ایک اور شخص گزرا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ شخص غریب مسلمانوں میں سے ہے، اگر یہ کچھ کہے تو اس کی بات نہیں سنی جائے گی، اگر یہ نکاح کا پیغام دے تو اس کا نکاح نہیں کیا جائے گا، اور اگر یہ سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہیں کی جائے گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس جیسے زمین بھر لوگوں سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5862
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 169، حدیث 5883
وعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً - وَلَيْسَ فِيهَا دَنِيٌّ - الَّذِي يَتَمَنَّى، فَيَقُولُ بِلِسَانٍ طَلْقٍ ذَلْقٍ، وَعَقَلٍ مُجْتَمِعٍ: أَعْطِنِي أَعْطِنِي كَذَا، حَتَّى إِذَا لَمْ يَجِدْ شَيْئًا لُقِّنَ، فَقِيلَ لَهُ: قُلْ: كَذَا، قُلْ: كَذَا، فَيُقَالُ لَهُ: هُوَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں سب سے کم درجے والا شخص - حالانکہ وہاں کوئی کمتر نہیں ہوگا - وہ ہوگا جو تمنائیں کرے گا اور صاف رواں زبان اور جمع شدہ عقل کے ساتھ کہے گا: مجھے یہ عطا کر، مجھے وہ عطا کر، یہاں تک کہ جب اسے مانگنے کے لیے کچھ نہیں سوجھے گا تو اسے سکھایا جائے گا، اس سے کہا جائے گا: یہ کہو، یہ کہو، پھر اس سے کہا جائے گا: یہ سب تیرے لیے ہے اور اس کے برابر مزید بھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5863
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 169، حدیث 5884
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جیسے یہ دونوں ہیں“، اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5864
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 169، حدیث 5885
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جنت میں ایک کوڑے برابر جگہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5865
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 169، حدیث 5886
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ مِنْهَا حَاشِيَتُهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدَيَّ فَجِئْتُ بِهَا لِأَكْسُوَكَهَا، فَجَسَّهَا فُلَانٌ - رَجُلٌ سَمَّاهُ -، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْبُرْدَةَ، اكْسُنِيهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَلَمَّا دَخَلَ طَوَاهَا، وَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: وَاللهِ مَا أَحْسَنْتَ، كُسِيَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا؟ فَقَالَ: وَاللهِ مَا سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِأَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِتَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ، قَالَ سَهْلٌ: «وَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے ہاتھوں سے یہ چادر بنی ہے، میں اسے آپ کو پہنانے کے لیے لائی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے پہن لیا، پھر ایک شخص نے اسے چھو کر کہا: یا رسول اللہ! یہ چادر کتنی اچھی ہے، مجھے پہنا دیجیے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ جب آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے تو اسے تہہ کیا اور اس شخص کے پاس بھیج دیا۔ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اچھا نہیں کیا، رسول اللہ ﷺ کو یہ چادر آپ کی ضرورت کی وجہ سے پہنائی گئی تھی، اور تمہیں معلوم تھا کہ آپ کبھی مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے، پھر بھی تم نے یہ آپ سے مانگ لی؟ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ اس لیے نہیں مانگی کہ میں اسے پہنوں، بلکہ میں نے یہ اس لیے مانگی تاکہ یہ میرے مرنے کے دن میرا کفن بنے۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”پھر جب وہ فوت ہوا تو یہی اس کا کفن بنی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5866
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 169، حدیث 5887
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " كُنَّا نَقُولُ: الْمِنْبَرُ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ "، قَالَ سَهْلٌ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا التُّرْعَةُ؟ هُوَ الْبَابُ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”ہم کہا کرتے تھے کہ منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہے۔“ سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو ’ترعہ‘ کیا ہے؟ یہ دروازہ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5867
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 170، حدیث 5888
وَبِإِسْنَادِهِ سَأَلْتُ سَهْلًا: هَلْ رَأَيْتَ النِّقْيَ؟ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ النِّقْيَ حَتَّى قَبَضَ اللهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، قُلْتُ: هَلْ كَانَتْ لَكُمْ مَنَاخِلُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ مُنْخُلًا حَتَّى قَبَضَ اللهُ رَسُولَهُ» ، قُلْتُ: كَيْفَ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ نَنْفُخُهُ، ثُمَّ يَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے: میں نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے کبھی خالص میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول ﷺ کی وفات تک کبھی میدہ نہیں دیکھا۔“ میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ کے پاس چھلنیاں تھیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول ﷺ کی وفات تک کوئی چھلنی نہیں دیکھی۔“ میں نے پوچھا: پھر آپ بغیر چھنے جو کیسے کھاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، ہم اسے پھونک مار دیتے تھے، پھر جو بھوسی اڑ جاتی اڑ جاتی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5868
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 170، حدیث 5889
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ أَحْدَثُ الْقَوْمِ، وَالْأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «يَا غُلَامُ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ الْأَشْيَاخَ؟» ، فَقَالَ الْغُلَامُ: مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِفَضْلِكَ أَحَدًا، فَتَلَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في يَدِ الْغُلَامِ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا، آپ کے دائیں طرف ایک نوجوان لڑکا تھا جو قوم میں سب سے کم عمر تھا اور آپ کے بائیں طرف بزرگ لوگ تھے۔ جب آپ ﷺ پی چکے تو فرمایا: ”اے لڑکے! کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ بزرگوں کو دے دوں؟“ لڑکے نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے بچے ہوئے پانی میں کسی کو اپنے اوپر ترجیح نہیں دوں گا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے وہ پیالہ اسی لڑکے کے ہاتھ میں تھما دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5869
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 170، حدیث 5890
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا تَرَوْنَ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا تَرَوْنَ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیشک آدمی تمہارے دیکھنے میں جنتیوں والے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جہنمیوں میں سے ہوتا ہے، اور بیشک آدمی تمہارے دیکھنے میں جہنمیوں والے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5870
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 170، حدیث 5891
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں صبح کو نکلنا یا شام کو نکلنا دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5871
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 171، حدیث 5892
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «عَرَّسَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ وأَنْبَذَتِ امْرَأَتُهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحَتْ صَفَّتْهُ، وسَقَتْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ابواسید الساعدی رضی اللہ عنہ نے شادی کی اور ان کی بیوی نے رات کو نبیذ بھگو دیا، پھر جب صبح ہوئی تو اسے چھان کر نبی کریم ﷺ کو پلایا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5872
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 171، حدیث 5893
وعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ عَلَيَّ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، انْظُرُوا أَنْ لَا يَرِدَ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں حوض پر تم سے پہلے پہنچوں گا، جو میرے پاس آئے گا وہ پیئے گا، اور جو پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ خبردار! ایسا نہ ہو کہ کچھ لوگ میرے پاس آئیں جنہیں میں پہچانتا ہوں اور وہ مجھے پہچانتے ہیں، پھر میرے اور ان کے درمیان روک دیا جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5873
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 171، حدیث 5894
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي رَوْحٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: رَأَيْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَبُولُ بَوْلَ الشَّيْخِ الْكَبِيرِ يَكَادُ يَسْبِقُهُ قَائِمًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقُلْتُ: أَلَا تَنْزِعُهُمَا؟ قَالَ: «رَأَيْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَمِنْكَ يَصْنَعُ هَذَا»
ترجمہ
عبدالعزیز بن ابوحازم بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: میں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ بوڑھوں کی طرح پیشاب کرتے تھے، کھڑے کھڑے ہی قریب تھا کہ نکل جائے، پھر انہوں نے وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: آپ انہیں کیوں نہیں اتارتے؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اپنے اور تم سے بہتر شخص کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5874
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 171، حدیث 5895
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي رَوْحٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْجِدَارِ قَدْرُ مَمَرِّ شَاةٍ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”نبی کریم ﷺ کے نماز پڑھنے کی جگہ اور دیوار کے درمیان صرف اتنا فاصلہ تھا جتنے میں ایک بکری گزر سکے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5875
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 171، حدیث 5896
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي رَوْحٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: «جُرِحَ وَجْهُهُ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَهُشِّمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ، وَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ، وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْكُبُ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ، فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الدَّمَ لَا يَزِيدُهُ الْمَاءُ إِلَّا كَثْرَةً، أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ، فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا، ثُمَّ أَلْزَقَتْهُ بِالْجُرْحِ فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے زخم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا تھا، آپ کا سامنے کا دانت ٹوٹ گیا تھا، اور آپ کے سر پر خود ٹوٹ کر بیٹھ گیا تھا۔ سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ خون دھو رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے اس پر پانی ڈال رہے تھے۔ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی سے خون اور بڑھتا جا رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر اسے جلایا یہاں تک کہ وہ راکھ بن گیا، پھر اسے زخم پر لگا دیا تو خون بند ہو گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5876
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 172، حدیث 5897
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا وَسَبْعُمِائَةِ أَلْفٍ مُتَمَاسِكِينَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْقَمَرُ لَيْلَةَ الْبَدْرِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار اور سات لاکھ افراد ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے جنت میں داخل ہوں گے، ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5877
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 172، حدیث 5898
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَكَمِ الثَّقَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دھوکے والی بیع سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5878
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 172، حدیث 5899
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَكَمِ الثَّقَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5879
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 172، حدیث 5900
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ، مَا مَسَّتْهُ النَّارُ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر قرآن کسی کھال میں لپیٹ کر ڈال دیا جائے تو بھی اسے آگ نہ چھوئے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5880
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 172، حدیث 5901
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «مَا كُنَّا نَقِيلُ، وَلَا نَتَغَدَّى، إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”ہم قیلولہ اور دوپہر کا کھانا صرف جمعہ کے بعد ہی کیا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5881
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 173، حدیث 5902
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: «كُنْتُ أَتَسَحَّرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ مَا يَكُونُ سُرْعَتِي، إِلَّا أَنْ أُدْرِكَ الصُّبْحَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کھاتا، پھر میری جلدی اتنی ہوتی کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز پا لیتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5882
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 173، حدیث 5903
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كُنَّا نَفْرَحُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ» ، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: «كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تُرْسِلُ، فَتَأْخُذُ مِنْ أُصُولِ السِّلْقِ، فَتَطْرَحُهُ فِي قِدْرٍ فَتُكَرْكِرُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ، فَتَجْعَلُهَا فِيهِ، فَكُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ انْصَرَفْنَا إِلَيْهَا، وَكُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ، وَمَا كُنَّا نَقِيلُ، إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے۔“ میں نے پوچھا: کیوں؟ فرمایا: ”ہمارے ہاں ایک بڑھیا تھی جو چقندر کی جڑیں لے کر ہانڈی میں ڈالتی، پھر جَو کے کچھ دانے پیس کر اس میں شامل کر دیتی، تو جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو اسی کے پاس چلے جاتے، اور ہم اسی وجہ سے جمعہ کے دن سے خوش ہوتے تھے، اور ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کیا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5883
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 173، حدیث 5904
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا» ، وَأَشَارَ بِأَصْبُعَيْهِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“، اور آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا اور ان کے درمیان تھوڑا فاصلہ رکھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5884
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 173، حدیث 5905
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ: «إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ - يَعْنِي الشُّؤْمَ - فَهُوَ فِي الْمَسْكَنِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ہم کہا کرتے تھے کہ اگر کسی چیز میں بدشگونی ہے تو وہ گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5885
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 173، حدیث 5906
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي، فَقَامَتْ طَوِيلًا لَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ فِيهَا النَّظَرَ وَصَوَّبَهُ، فَلَمَّا طَالَ مُقَامُهَا تَنَحَّتْ وَجَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟» ، قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «اذْهَبْ فَانْظُرْ» ، فَذَهَبَ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ: «اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا وَاللهِ مَا وَجَدْتُ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، قَالَ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِزَارِي، قَالَ: " إِنَّ إِزَارَكَ، إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَتَنَحَّى الرَّجُلُ، ثُمَّ قَامَ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَقَالَ: «مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟» ، قَالَ: سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ عَدَّدَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... جب اس عورت کا کھڑا رہنا طویل ہو گیا تو وہ ہٹ کر بیٹھ گئی۔ اس پر مجلس میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو تم اسے مہر میں دے سکو؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور دیکھو۔“ وہ گیا، پھر واپس آ کر عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! مجھے کچھ نہیں ملا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔“ وہ گیا، پھر واپس آ کر عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم، مجھے کچھ نہیں ملا، لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: اس پر صرف تہبند تھا، چادر نہیں تھی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میرا یہی تہبند۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا تہبند تو ایسا ہے کہ اگر تم اسے پہنو تو اس پر اس میں سے کچھ نہیں رہے گا، اور اگر یہ اسے پہنے تو تم پر اس میں سے کچھ نہیں رہے گا۔“ وہ شخص ایک طرف ہٹ گیا، پھر کھڑا ہوا تو نبی کریم ﷺ نے اسے واپس جاتے دیکھا، آپ ﷺ نے اسے بلوایا اور پوچھا: ”تمہیں قرآن میں سے کیا یاد ہے؟“ اس نے عرض کیا: فلاں فلاں سورتیں، اور اس نے کئی سورتوں کے نام گنوائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5886
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 173، حدیث 5907
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ كَقُرْصَةِ نَقِيٍّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لِأَحَدٍ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو ایک سفید زمین پر اکٹھا کیا جائے گا جو خالص میدے کی روٹی کی طرح ہوگی، جس میں کسی کی کوئی نشانی نہ ہوگی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5887
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 174، حدیث 5908
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ الصَّلَاةَ قَدْ حَانَتْ، وَحُبِسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَؤُمُّ النَّاسَ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ، فَأَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيحِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ الْتَفَتَ، فَإِذَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ، فَأَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ، فَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى رَجَعَ فِي الصَّفِّ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ بِالتَّصْفِيحِ، إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، فَمَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللهِ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا الْتَفَتَ إِلَيْهِ. يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟ "، قَالَ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے: رسول اللہ ﷺ بنو عمرو بن عوف کی طرف تشریف لے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا۔ بلال رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے ابوبکر! نماز کا وقت ہو گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو دیر ہو رہی ہے، کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ انہوں نے فرمایا: اگر تم چاہو تو۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کھڑی کر دی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو لوگ تالی بجانے لگے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں توجہ نہیں پھیرتے تھے، مگر جب لوگوں نے بہت زیادہ تالی بجائی تو انہوں نے مڑ کر دیکھا، تو رسول اللہ ﷺ صف میں کھڑے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے اشارہ کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد کی، پھر پیچھے کی طرف چل کر صف میں آ گئے۔ رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا کہ جب نماز میں کوئی بات پیش آئی تو تم تالی بجانے لگے؟ تالی بجانا تو صرف عورتوں کے لیے ہے، جسے نماز میں کوئی بات پیش آئے تو وہ ’سبحان اللہ‘ کہے، کیونکہ جو بھی اسے سنے گا وہ اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا تو تمہیں نماز پڑھانے سے کس چیز نے روکا؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھائے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5888
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 174، حدیث 5909
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «مَا أَصَابَ النَّاسُ الْعَدَدَ، مَا عَدُّوا مِنْ مَبْعَثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا مِنْ وَفَاتِهِ، وَلَا عَدُّوا إِلَّا مِنْ مَقْدِمِهِ الْمَدِينَةَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”لوگوں نے تاریخ کا شمار درست طور پر متعین کیا تو انہوں نے نہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے شمار کیا اور نہ آپ کی وفات سے، بلکہ صرف آپ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے ہی شمار کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5889
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 175، حدیث 5910
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ دَخَلَ مَسْجِدِي هَذَا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ لِيُعَلِّمَهُ، كَانَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَنْ دَخَلَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ أَحَادِيثِ النَّاسِ، كَانَ بِمَنْزِلَةِ مَنْ يَرَى مَا يُعْجِبُهُ وَهُوَ شَيْءٌ غَيْرُهُ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص میری اس مسجد میں کوئی بھلائی سیکھنے یا سکھانے کے لیے داخل ہوا، وہ اللہ کی راہ کے مجاہد کے درجے میں ہے، اور جو اس کے علاوہ لوگوں کی باتوں کے لیے داخل ہوا، وہ اس شخص کی مانند ہے جو کسی اور کی کوئی پسندیدہ چیز دیکھ رہا ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5890
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 175، حدیث 5911